ارسطو کا نظریہ آغاز، وسط ، انجام اورشیکسپیئر کے ڈرامہ میکبتھ کی مثال

ارسطو کا نظریہ آغاز، وسط ، انجام اورشیکسپیئر کے ڈرامہ میکبتھ کی مثال
ارسطو کا نظریہ آغاز، وسط ، انجام اورشیکسپیئر کے ڈرامہ میکبتھ کی مثال

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 47

 لہٰذا ڈرامے کی طوالت مناسب ہونی چاہیے جو پورے پلاٹ کو ذہن میں محفوظ رکھنے میں مانع نہ ہو اور جس میں ڈرامے کے ہیرو کو خوش بختی سے بدبختی یا بدبختی سے خوش بختی کی طرف جانے کا موقع مل سکے۔

حزنیہ کی تعریف کا ایک عنصر یہ ہے کہ اسے مکمل ہونا چاہیے۔ یعنی اس کی حیثیت ایک کل کی سی ہونی چاہیے۔ ارسطو کے نزدیک ” کل یا مکمل، وہ چیز ہے جس کا آغاز، وسط اور انجام (یااختتام) ہو۔ آغاز وہ ہے جس سے پہلے کوئی اور شے نہ ہو۔ جو آغاز کے ساتھ علت و معلول کا رشتہ رکھتی ہو لیکن اس کے بعد میں یقینا کچھ نہ کچھ ضرور ہو۔ وسط وہ ہے جس کے پہلے بھی کچھ ہو اور بعد میں بھی۔ لہٰذا ایک منظم پلاٹ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ داستان کو یونہی بلاوجہ کسی جگہ سے شروع یا ختم نہ کر دیا جائے بلکہ ان اصولوں کے مطابق اسے تشکیل دیا جائے۔“

 پلاٹ کے مکمل ہونے کے سلسلے میں بھی ارسطو نے اپنے منطقی طریق کو ایک فنی اصول بیان کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یقینا ہر شے کا آغاز، وسط اور انجام ہوتا ہے۔ جس شے کو بھی ایک وحدت تصور کرلیا جائے اس میں یہ تینوں چیزیں ضرور پائی جائیں گی۔ لیکن بادی النظر میں اس خیال پر ایک اعتراض بھی وارد ہوتا ہے کہ(اور کچھ نقادوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا ہے) یہ کس طرح ممکن ہے کہ کہانی کو جہاں سے شروع کیا جائے اس کے پہلے کچھ نہ ہو اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ کہانی جہاں ختم کی جائے اس کے بعد کچھ نہ ہو؟ یقینا کچھ واقعات آغازِ داستان سے پہلے اور کچھ انجام کے بعد بھی ظہور پذیر ہوئے ہوں گے۔ اس اعتراض کے مطابق اور ارسطو کے تصور کل کے پیش نظر تو ڈرامے کی داستان کو ازل سے شروع کرکے ابد پر ختم کیا جائے تو شاید پھر بھی اعتراض باقی رہے۔ لیکن یہ اعتراض ارسطو کے خیال کوسیاق و سباق سے الگ کرکے دیکھنے سے اور اس کے مخصوص نقطہ نظر کے عدم افہام سے پیدا ہوتا ہے۔

 آیئے دیکھیں کہ ارسطو کا آغاز، وسط اور انجام سے کیا مفہوم ہے۔ وسط حقیقت میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ یہ آغاز و انجام کا لازمہ ہے اور اس کا کام آغاز و انجام کے مابین ایک حسنِ تناسب پیدا کرنا ہے۔ البتہ آغاز و انجام کا تصور غور طلب ہے۔ کسی شخص کی کہانی کو اس شخص کے آباﺅ اجداد کے ذکر سے بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس شخص کی پیدائش سے بھی اور اس کی زندگی کے کسی مرحلے یا واقعہ سے بھی۔ آغاز کا تعلق اس امر سے ہے کہ ہم کہانی میں کیا پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہمارا مقصد اس شخص کے متعلق ہر تفصیل سے کام لینا ہے اور اس کی زندگی کا ہر واقعہ بیان کرنا(اگرچہ یہ ناممکن ہے) ہے تو ہم ایک ایسی تصنیف تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو ایک تاریخ، یاد داشت یا سوانح عمری کہلا سکتی ہے، ڈرامہ نہیں کہلا سکتی۔ اس میں واقعات بغیر کسی منطقی ربط کے بکھرے پڑے ہوں گے اور ان کے یکجا ہونے کا جواز محض یہ ہوگا کہ وہ تمام ایک ہی شخص سے متعلق ہیں۔ ان واقعات میں کوئی ترتیب نہ ہونے کے باعث عالمگیر قوانین کا رفرما نہیں ہوں گے۔ ہمیں اس شخص کے دل و دماغ اور شخصیت کی جھلکیاں تو نظر آ سکیں گی لیکن ان سے کل انسانی فطرت کے اسرار پر کچھ روشنی نہیں پڑے گی۔ گویا یہ واقعات ایک انفرادی زندگی ہی کا اثاثہ متصور ہوں گے، کل انسانیت کا مشترکہ سرمایہ قرار نہیں پا سکیں گے۔ ارسطو اسے تاریخ نگاری کا نام دے گا، ڈرامہ نگاری کا نہیں۔

 اب تک یہ بات بخوبی ذہن نشین ہوگئی ہوگی کہ ڈرامہ کے آغاز سے کیا مطلب ہے اور ارسطو کے اس خیال میں کہ آغاز وہ ہے جس کے پہلے کچھ نہ ہو اور بعد میں ضرور کچھ ہو کس درجہ صداقت ہے اور حقیقت میں ارسطو کا مطلب کیا ہے۔ ارسطو کا مطلب یہ ہے کہ ڈرامہ جہاں سے شروع کیا جائے اس سے پہلے کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جو ڈرامہ کے عمل کی خاطر شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈرامہ جہاں سے شروع کیا جاتا ہے اس سے پہلے واقعی کچھ نہیں ہوتا۔ لہٰذا ارسطو کے ہاں آغاز و انجام کی معنویت فنی نوعیت کی ہے۔

 آغاز کے بعد انجام کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ارسطو کے تصور کے مطابق ڈرامہ کو اس مقام پر ختم ہو جانا چاہیے جہاں اس کا عمل تسکین بخش طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

 شیکسپیئر کے ڈرامہ میکبتھ کی مثال کو لیجئے۔ میکبتھ لڑائی میں مارا جاتا ہے اور دشمن(جو حقیقتاً راہِ راست پر ہوتا ہے) شہر میں داخل ہو جاتا ہے۔ ڈرامہ کا اصل عمل ختم ہوگیا۔ اب یہ غیر ضروری ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ آیا ہنیگو کا خاندان بعد میں بادشاہ بنایا نہیں یا اس خاندان نے کتنی دیر تک حکومت کی وغیرہ۔

 تعریف کے اس عنصر کی تشریح ہو چکی کہ ڈرامہ کو مکمل ہونا چاہیے۔ ارسطو نے مکمل کے معانی یہ بتائے ہیں کہ جس کا آغاز، وسط اور انجام ہو اور پھر ان تینوں لفظوں کے معانی بیان کئے۔ جن پر ایک اعتراض وارد ہوا اور اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ہم نے ان لفظوں کے صحیح مفہوم کی تشریح کر دی۔ مختصراً یہ کہ ڈرامہ کے آغاز کے متعلق یہ تشنگی نہ رہے کہ اس سے پہلے کیا ہوا تھا اور انجام کے بعد یہ خلش نہ ستائے کہ پھر کیا وقوع پذیر ہوا۔ تکمیل کا یہ تصور ڈرامہ کی فنی تکمیل اور اس کے فنی طور پر تسکین بخش ہونے کا تصورہے۔ حقیقت میں تکمیل کے اس تصور کا اطلاق صرف ڈرامہ پر نہیں بلکہ تمام ادب پر ہوتا ہے۔

(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -