شاہ نواز خان پنجاب پر قابض تھا اور پنجاب ہندوستان کا دروازہ ، احمد شاہ ابدالی کو اس سے بہتر موقع کبھی نہ مل سکتا تھا

شاہ نواز خان پنجاب پر قابض تھا اور پنجاب ہندوستان کا دروازہ ، احمد شاہ ابدالی ...
شاہ نواز خان پنجاب پر قابض تھا اور پنجاب ہندوستان کا دروازہ ، احمد شاہ ابدالی کو اس سے بہتر موقع کبھی نہ مل سکتا تھا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:15 

جو سلوک احمد شاہ ابدالی نے نیشاپور کی بیگناہ مسلمان آبادی کے ساتھ کیا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس نے بعد میں سکھوں اور مرہٹوں کے ساتھ جو جنگیں لڑیں ان کی بنیادی وجہ بھی جوش جہاد نہیں کچھ اور تھی۔ نیشاپور کے مسلمانوں کو غلام اور لونڈیاں بنا کر کابل لے جانے کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔ وہ ہزیمت خوردہ آبادی کے مال و اسباب، جان و مال اور عزت و ناموس کو اپنے لیے حلال سمجھتا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کی نظر میں مفتوحہ آبادی کے مذہب کا سوال اٹھانا غیر متعلقہ امر اور بے معنی سوال تھا۔ مفتوحہ لوگ مسلمان ہوں، سکھ ہوں یا مرہٹے ہوں سب برابر تھے۔ اور ان کی عورتوں، بچوں اور مال و اسباب ہرچیز پر فاتح کو تمام حقوق حاصل تھے۔ گردنیں اڑاتے وقت مدمقابل کے مذہب کی تفتیش نہیں کی جاتی تھی۔ ”اردو دائرہ معارف اسلامی“ کے مطابق ہندوستان پر احمد شاہ ابدالی کے حملے کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو نادر شاہ کا وارث اور اس کی تمام مشرقی سلطنت کا دعویدار تصور کرتا تھا۔ اس لیے وہ تمام صوبے جو نادر شاہ نے مغلوں سے چھینے تھے احمد شاہ ابدالی کی ملکیت تھے۔ جیسا کہ غوری اور بابر کے احوال میں بیان کیا گیا ہے احمد شاہ ابدالی کی بھی سوچ وہی تھی جس کا شکار کابل اور غزنی پر قبضہ کرنے والا ہر حاکم ہو جاتا تھا۔ 

احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملے کا حوصلہ علماءکے خطوط سے نہیں ہوا۔ یہ علماءاگر اتنے بااثر ہوتے تو ہندوستان کے مسلمانوں کو آپ ہی متحد کر کے مغلیہ سلطنت بچا لیتے۔ یہ تو خود ہندوستان میں بے دست و پا تھے اور فتح ہندوستان میں احمد شاہ ابدالی کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے۔ ابدالی کو اگر ہندوستان پر حملہ کا حوصلہ ہوا تو وہ پنجاب کے گورنر شاہ نواز خان کے خط سے ہوا جو اپنے بھائی یحییٰ خان کو معزول اور گرفتار کرکے خود لاہور پر قابض ہو گیا تھا اور اس بات سے خوفزدہ تھا کہ یحییٰ خان کا بااثر اور مقتدر سسر وزیر قمر الدین خان دربار دہلی سے اسے گرفتارکرنے کے لیے فوج بھجوانے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس خوفزدگی کے عالم میں شاہنواز خان نے دو کام کیے۔ ایک طرف احمد شاہ ابدالی کو فتح ہندوستان کا دعوت نامہ ارسال کیا جس میں ”آپ بادشاہ اور ہم وزیر“ کی تجویز رقم تھی۔ اور دوسری جانب دربار دہلی میں معافی حاصل کرنے کے لیے وفد بھی روانہ کر دیا۔ 

احمد شاہ ابدالی کو کیا چاہیے تھا۔ بقول گنڈا سنگھ ”شاہنواز کے نامہ بر کو احمد شاہ نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ یہ نامہ پاکر وہ سجدہ شکر بجا لایا کیونکہ یہ بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ یوں غیر متوقع طور پر حالات اتنے سازگار ہو جائیں گے۔ اس نے فوراً ایک عہد نامہ تیار کرایا جس میں مندرج تھا کہ تاج شہریاری احمد شاہ زیب سر کرے گا۔ اور وزارت عظمیٰ شاہ نواز کو ملے گی۔ اس عہد نامے پر افسران فوج سے گواہ کے طور پر دستخط ثبت کروائے اور فوراً اپنے معتمد خاص بغرا خان پوپلزئی کے ہاتھ لاہور بھیج دیا۔“ 

شاہ نواز خان پنجاب پر قابض تھا اور پنجاب ہندوستان کا دروازہ تھا، احمد شاہ ابدالی کو اس سے بہتر موقع کبھی نہ مل سکتا تھا۔ چنانچہ نہ تو وہ سکھوںکو فنا کرنے اور نہ مرہٹوں کو ختم کرنے بلکہ نادر شاہ کی مقبوضات کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے پنجاب اور پھر ہندوستان پر نازل ہوا۔ 

تاہم اس دوران ایک اور بات ہو گئی۔ دربار دہلی نے شاہنواز خان کے وفد کی درخواست قبول کر کے اسے معافی نامہ جاری کر دیا اور وزیر قمر الدین خان نے اپنے خط میں شاہنواز کو لکھا۔ 

”ہمارا خاندان ہمیشہ مغل شہنشاہوں کا وفادار رہا ہے۔ اور کبھی نمک حرامی یا بغاوت کا مرتکب نہیں ہوا۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ تم اس طرح کی بات کرو۔ اور یہ تو شرم کی بات ہے کہ نادر شاہ کے ایک افغان یساول (ذاتی ملازم) کی فرمانبرداری کرنے پر رضامند ہو جاﺅ۔ تمہارا فرض بنتا ہے کہ تم اس بے حیثیت شخص کو ہندوستان کی تمام سرحدات سے نکال باہر کرو۔“( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -