جی ایس پی پلس، گورنر پنجاب اور حکومت کے ڈھول تاشے

جی ایس پی پلس، گورنر پنجاب اور حکومت کے ڈھول تاشے
جی ایس پی پلس، گورنر پنجاب اور حکومت کے ڈھول تاشے

  

محاورے کی حد تک ہی نہیں، بار بار یہی دیکھا اور سنا کہ ناکامی کو گود لینے پر کوئی تیار نہیں ہوتا، البتہ کامیابی کی ولدّیت کے سو دعویدار سامنے آ جاتے ہیں۔ خوش کن خبروں کے قحط میں یہ ایک اچھی کامیابی کی خبر تھی۔ پاکستان کو یورپی یونین کے27ممالک نے اگلے دس سال کے لئے جی ایس پی پلس کا درجہ دے کر اپنی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی دے دی۔ یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی طرف سے اس قانون کی منظوری کا اعلان ہوتے ہی اس کامیابی کی ولدّیت کے کئی دعوے دار سہرے سجائے، ڈھول تاشوں کے ہمراہ آن دھمکے ہیں۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اس ڈھول ڈھمکے میں سب سے آگے ہیں۔ ٹیکسٹائل ملز کی نمائندہ تنظیم نے بھی اس کامیابی کو گود لینے میں تاخیر نہیں کی۔ چند ہفتے قبل جب یورپی یونین کی ایک کمیٹی نے اس فیصلے کی توثیق کی تو حکومت نے مژدہ سنایا کہ اس رعایت سے پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں ایک ارب ڈالر سالانہ اضافہ ہو گا۔ تین ہفتے بعد یورپی یونین پارلیمنٹ سے اس قانون کی منظوری تک حکومتی دعوے میں سو فیصد اضافہ ہو گیا۔ اب دعویٰ کیا گیا ہے کہ متوقع اضافہ دو ارب ڈالر سالانہ ہے۔ کمزور حافظے والی قوم کو تین ہفتے پرانی بات اور وہ بھی تجارتی نوعیت کی کہاں یاد رہتی ہے، لہٰذا جس ”ڈبل شاہ“ نے تین ہفتے میں اضافے کے تخمینے کو ڈبل کیا، بڑے دھڑلے سے کیا! اخبارات ومیڈیا نے درستگی کی، نہ کسی اور حلقے نے، اِسی لئے تو کہتے ہیں کامیابی سے کامیاب کوئی چیز نہیں!

سید یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری نے احتجاجی صدا بلند کی کہ اِس فیصلے کی کوششوں کا ڈول انہوں نے ڈالا تھا، بلکہ آتے جاتے یورپی ممالک کے سربراہوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ ”آپ“ کی دہشت گردی کی جنگ اب ”ہماری“ تحویل میں آ چکی ہے، لیکن ملکیت کی اِس تبدیلی کا ”انعام و اکرام“ ابھی تک نہیں ملا۔ اُن کا گلہ بجا تھا، لیکن مسلم لیگ(ن) کے شادیانے اور گورنر ہاﺅس پنجاب میں چودھری محمد سرور کے ڈھول تاشوں میں ان کی یہ صدا دب کر رہ گئی۔ گورنر پنجاب اور ٹیکسٹائل کی تنظیم گود بھرائی اور گود لینے سے بھی آگے چلے گئے۔ گورنر ہاﺅس میں ایک تقریب میں دو یورپی پارلیمنٹ ممبروں کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دے کر ان کی اس فیصلے میں معاونت پر نوازا گیا۔ بعدازاں پاکستانی ٹیکسٹائلز کے ”امکانات“ کا رنگ و نور میں نہاتا ہوا جیتا جاگتا مظاہرہ فیشن شو کی صورت میں پیش کیا گیا۔

جی ایس پی پلس تجارتی رعایت کی ایک سکیم ہے، جو عالمی تجارتی معاہدوں کی رو سے بیشتر ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک نے دے رکھی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ غریب ترین ممالک اور کچھ مخصوص پس منظر کے حامل ممالک کو یورپی یونین نے جی ایس پی پلس یااسلحہ کے سوا سب کچھ (ای بی اے) کا درجہ دے رکھا ہے۔ یہ رعایت ہر تین سال بعد زیر غور آتی ہے، یوں اس میں مزید توسیع ہوتی رہتی ہے۔ جی ایس پی کی صورت میں درآمدی ڈیوٹی میں ایک حد تک رعایت دی جاتی ہے، البتہ جی ایس پی پلس یاای بی اے کا درجہ ملنے کی صورت میں مکمل ڈیوٹی فری کی سہولت میسر آ جاتی ہے۔ پاکستان کو 2003ءسے 2005ءکے دوران دہشت گردی کی جنگ کے اثرات کے ازالے کے لئے جی ایس پی پلس دیا گیا، لیکن بعد ازاں ڈبلیو ٹی او میں بھارت کی جانب سے شکایت پر اس رعایت میں 2006ءمیں توسیع نہ کی گئی۔ اس وقت جی ایس پی پلس اورای بی اے کے حامل ملکوں کی تعداد 50کے لگ بھگ تھی، جس میں بنگلہ دیش بھی شامل تھا۔

گزشتہ کئی سال سے پاکستان اس رعایت کے لئے کوشاں رہا ہے، لیکن چند یورپی ممالک جو بجائے خود ٹیکسٹائلز کے برآمد کنندہ ہیں ، کی سخت مخالفت کی وجہ سے یہ رعایت حاصل نہ ہو سکی۔ گزشتہ دو سال سے حکومت نے نہایت سنجیدگی سے اس رعایت کے حصول کے لئے سفارتی کوششیں شروع کیں۔ سیاسی اور سفارتی محاذ پر نہایت دلجمعی کے ساتھ کوششیں جاری رہیں۔ پاکستان نے انسانی حقوق کے کئی معاہدوں پر دستخط بھی اِسی لئے کئے کہ اس رعایت کے حصول کے لئے 27معاہدوں پر دستخط کی شرط پوری ہو سکے۔ یہ کوششیں پی پی پی کے دور میں شروع ہوئیں۔ اس بار پاکستان کے علاوہ 9نئے ممالک اس رعایت کے لئے کوشاں تھے،لہٰذا یہ تاثرغلط ہے کہ یورپی یونین نے صرف پاکستان کو یہ رعایت دی ہے،دیگر9ممالک بھی اس رعایت سے مستفیض ہوں گے۔مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پی پی پی دور کے ایک دور رس پروجیکٹ کو جاری رکھا۔ سیاسی و سفارتی محاذ پر سرگرم کوششیں کی گئیں۔

برطانیہ اور چند دیگر ملکوں میں مخالف ممبران سے گفت و شنید میں یقینا گورنر پنجاب نے عمدہ کردار ادا کیا۔ خرم دستگیر کے پاس وزارت تجارت کا اضافی چارج تھا، انہوں نے بھی پاکستان کاکیس عمدگی سے لڑا۔ اس پورے مسئلے کو پاکستان کے سفارتی اور وزارت تجارت کے افسران نے نہایت عرق ریزی اور تندہی سے آغاز سے کامیاب انجام تک لانے میں کلیدی کردار ادا کیا، لیکن کریڈٹ چھیننے کی انسانی جبلت نے حکومت اور گورنر پنجاب کو اپنے سوا کسی اور کو یاد کرنے کا موقع ہی نہ دیا۔ چودھری سرور کا یہ دعویٰ کہ وزیراعظم نے یہ مشن مجھے سونپا، خدا کا شکر ہے کہ مَیں نے یہ مشن کامیاب کر دیا.... سبحان اللہ۔ عالمی تجارت کو تھوڑا بہت سمجھنے والوں کے لئے یہ دعویٰ خود ستائی کی ایک کوشش بھی ہے اور اس کوشش میں معاون دیگر قوتیں گزشتہ حکومت اور سفارتی و تجارتی افسران کو نظر انداز کرنے کی نازیبا حرکت بھی۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف گزشتہ چند ہفتے میں کئی یورپی دارالحکومتوں میں فریاد کناں تھے کہ ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ چاہئے۔ چلئے اب ایک موقع ہاتھ آیا ہے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا؟ گھوڑا اور میدان دونوں حاضر ہیں۔ اللہ کرے پاکستان اِس فیصلے سے بھرپور فائدہ اٹھائے.... پاکستان کی کل برآمدات کا تقریباً22فیصد یورپی یونین ممالک کو جاتا ہے۔ اس میں ٹیکسٹائلز کا حصہ تقریباً 70فیصد اور چمڑے کی مصنوعات تقریباً9فیصد ہیں۔ برآمدت میں تنوع خطرناک حد تک کم ہونے کی وجہ سے اندیشہ ہے کہ پاکستان کی دیگر برآمدی اشیاءایک بار پھر اس رعایت سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔ پاکستان کی ٹیکسٹائلز میں گارمنٹس، ہوزری، تولیہ اور ہوم ٹیکسٹائلز کا حصہ دھاگے اور کپڑے کی نسبت قدرے کم ہے۔ بنگلہ دیش نے جی ایس پی پلس کے علاوہ اپنے ہا ں ایسے بہت سے صنعتی و تجارتی عوامل مہیا کئے، جنہوں نے اس کی ٹیکسٹائلز کی برآمدات کو24ارب ڈالر تک پہنچا دیا۔ کیا پاکستان اس بار اس موقع کو استعمال کرے گا یا اعزازی ڈگریوں کی تقسیم اور کریڈٹ کی چھینا جھپٹی پر ہی اکتفا کرے گا۔ اس کا فیصلہ اب گھوڑے اور میدان کے درمیان ہے۔   ٭

مزید :

کالم -