وہ آدمی جنہوں نے امریکی خفیہ ادارے کو 8ارب روپے کا" چونا" لگا دیا

وہ آدمی جنہوں نے امریکی خفیہ ادارے کو 8ارب روپے کا" چونا" لگا دیا
وہ آدمی جنہوں نے امریکی خفیہ ادارے کو 8ارب روپے کا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا نے گوانتاناموبے کی جیل میں بغیر ثبوت کے قیدیوں پر جو شرمناک مظالم کئے ان کے ماسٹر مائنڈ دو نام نہاد ماہرین نفسیات نکلے ہیں جو نہ صرف تفتیش کی الف ب سے بھی واقف نہیں تھے بلکہ سی آئی اے کو الو بنا کر کروڑوں ڈالر لوٹنے میں بھی کامیاب ہوئے۔

دنیا کا واحد آدمی جو دو ایٹمی حملوں میں زندہ بچ نکلا

امریکی سینیٹ نے سی آئی اے کے متنازعہ طریقہ تفتیش کو انتہائی ظالمانہ اور بے فائدہ قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ائیرفورس کے دو سابقہ ماہرین نفسیات نے سی آئی اے افسران سے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے تفتیش کے عمل میں مرکزی حیثیت حاصل کرلی۔ جیمز مشیل اور بروس جیسن نامی نام نہاد ماہرین نفسیات کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ تفتیش کے عمل کی مبادیات سے بھی واقف نہیں ہیں لیکن انہوں نے سی آئی اے کو بے وقوف بنا کر اپنے جعلی تفتیشی نظریات اور حیوانی طریقوں کے بدلے 8 کروڑ ڈالر (تقریباً 8 ارب پاکستانی روپے) سے زائد رقم موصول کی۔ ان جعلسازوں کا نظریہ تھا کہ اگر قیدیوں پر غیر معمولی حد تک ظالمانہ تشدد کیا جائے تو وہ نہ صرف سب راز اگل دیں گے بلکہ ناامیدی کا شکار ہوکر کبھی فرار کا بھی نہیں سوچیں گے۔

دنیا کا وہ منفرد مقام جہاں لوگ خود کشی کرنے جاتے ہیں

انہوں نے ایسی سزائیں متعارف کروائیں جو دنیا بھر میں امریکا کیلئے انتہائی شرمندگی کا باعث بن چکی ہیں۔ ان کی تجویز کردہ سزاﺅں میں انتہائی تنگ جگہوں پر قید کرنا، تکلیف دہ انداز میں کھڑا کرنا یا بٹھانا، نیند سے محروم رکھنا، دیوار سے پٹخنا، بیت الخلاءجانے کی اجازت نہ دینا اور غوطے دینا شامل تھا۔

بیویوں کو خوش رکھنے کا سستا طریقہ

سینٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں شعبدہ باز نہ صرف مطلوبہ مہارت سے عاری تھے بلکہ دہشت گرد تنظیموں، قیدیوں اور ان کی زبان اور کلچر سے بھی مکمل طور پر نابلد تھے اور ان کے طریقہ تفتیش کا فائدہ ہونے کی بجائے یہ نقصان ہوا کہ خوفناک تشدد سے بچنے کیلئے قیدیوں نے وہی کہہ دیا جو تفتیش کار سننا چاہتے تھے۔

نوٹ: خبر کے اندر موجود رنگین لائنیں دوسری خبروں کی متعلقہ سرخیاں ہیں ، خبر پڑھنے کیلئے رنگین لائن پر کلک کریں تو اسی صفحے پر یہ خبر بند ہوکر متعلقہ خبر کھل جائے گی۔

 

مزید : بین الاقوامی