بچوں کو کیسے خودکش بمبار بنایاجاتاہے ، بی بی سی نے بتادیا

بچوں کو کیسے خودکش بمبار بنایاجاتاہے ، بی بی سی نے بتادیا
بچوں کو کیسے خودکش بمبار بنایاجاتاہے ، بی بی سی نے بتادیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سمیت دنیا بھر کو دہشتگردی کا سامنا ہے اور اس میں اب تک پاکستان کو 80ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوچکاہے ، برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی ‘ نے اُن اقدامات سے پردہ اُٹھایا ہے جن کے تحت بچوں کو دہشتگردی کی کارروائیوں پر اُکسایاجاتاہے ۔

بی بی سی کے مطابق بلوچستان کے ایک مدرسے سے لاپتہ ہونیوالے بچے ’نقیب اللہ‘ کواُس کے پڑوسی نے اُس وقت فوٹیج میں پہچان لیا جب وہ افغانستان کے جنوبی صوبہ قندھارمیں افغان فورسز کی زیرحراست جنگجوﺅں کی قطار میں کھڑاتھا ۔

تحریک انصاف کے احتجاج میں ’روعمران رو‘ کے نعرے

تفصیلات کے مطابق شروع میں باغیوں کی سرگرمیوں میں بچوں کا استعمال آئی ای ڈیز کو اڑانے، نگرانی کرنے، افغان اور نیٹو فوجیوں اور حکومت کے اہلکاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کیا جا تارہا۔نوجوان بچے زخمی طالبان کو گھسیٹ کر لے جاتے، گرے ہوئے اسلحے کو چنتے اور یہاں تک کہ لڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا جبکہ افغان حکام تقریبا اڑھائی سو بچوں کو حراست میں لے چکے ہیں۔

پاکستان اور پڑوسی ممالک میں غریب کنبے ہزاروں بچوں کومدرسوں میں تعلیم اور رہائش کے لیے بھیجتے ہیںاورطالبان کے تربیت دینے والوں کے لیے ایسے مدرسے اہم بھرتی مراکز ہیں۔ حراست میں لیے جانے والے بچوں نے انٹرویو کے دوران بی بی سی کو بتایا کہ انہیں گلیوں اور غریب علاقوں سے اٹھایا گیا ہے جبکہ والدین اور سرپرستوں نے صورتحال سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

بلوچستان سے لاپتہ نقیب اللہ کا کہنا تھا کہ اس کے بڑے لیڈروں نے کہا تھا کہ وہ جنت میں جائے گا اور اس کی تمام پریشانیاں ختم ہو جائیں گی۔حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کو بوریت اور غربت و افلاس کی محنت و مشقت کی متبادل راہ دکھائی جاتی ہے اور مبلغین اس کا وعدہ کرتے ہیں۔

پکڑے جانیوالے بچوں کاکہناتھاکہ اُنہیں کہاگیاکہ حملہ آور بیرونی افواج‘ افغانستان کی لڑکیوں اور خواتین کا ریپ کرتے ہیں اور قرآن کو امریکی جلاتے ہیں، ’کافروں‘ کے اتحاد کے خلاف لڑنا ان کا مذہبی فریضہ ہے اور یہ کہ اس کے والدین اس کے بدلے جنت میں جائیں گے۔

کیا آپ ایفل ٹاور کی بیگم کو جانتے ہیں؟ تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

 انہیں کہا جاتا ہے کہ جس افغان کو وہ مارنے جا رہے ہیں ’انہیں مر جانا چاہیے‘ کیونکہ وہ ’سچے مسلمان نہیں یا پھر وہ ’امریکہ کا تعاون کرنے والے ہیں۔ بعض کو قرآن کی آیتوں والی تعویذ دی گئی اور کہا گیا کہ اس کی مدد سے وہ بچ جائیں گے۔ بعض بچوں کو گلے میں لٹکانے کے لیے چابی دی گئی کہ اس سے جنت کا دروازہ کھلے گا۔

طالبان کے ترجمان عام طور پر بچوں کے استعمال، بطور خاص لڑکیوں کے استعال سے انکار کرتے ہیں لیکن بعض اوقات خودکش حملوں یا بارودی مواد کی نقل وحمل کے لیے استعمال ہونیوالی لڑکیاں پکڑی گئیں یا ایک مرچکی ہے ۔

مزید : بین الاقوامی