خوشی کی خبر ہی تو ہے کہ۔۔۔!

خوشی کی خبر ہی تو ہے کہ۔۔۔!
خوشی کی خبر ہی تو ہے کہ۔۔۔!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہیلو ، میرے پیارے دوستو! سنائیں کیسے ہیں، امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے، دوستو! انتہائی خوشی کی خبر ہے کہ پاکستانی شاہینوں نے تین سو چونسٹھ رنز بنا کر شارجہ میں چوبیس سالہ ریکارڈ توڑ دیا ۔ یہ خبر پاکستانی شائقین کے لئے حیران کن بھی تھی اور خوش آئند بھی ۔پاکستانی شاہینوں نے شارجہ میں نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ون ڈے میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے تین سو چونسٹھ رنز بنائے اور شاندار تاریخی اننگز کھیلنے میں تمام پاکستانی کھلاڑیوں کا بھر پور ہاتھ رہا ، تاہم احمد شہزاد ایک سو تیرہ رنز بنا کر سر فہرست رہے، جبکہ شاہد آفریدی نے چھبیس گیندوں پر پچپن رنز بنائے حفیظ نے تیتیس،یونس خان نے پینتیس، جبکہ پاکستانی باؤلروں نے بھی انتہائی شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ شاہد آفریدی ،حارث سہیل نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ وہاب ریاض اور عرفان نے بھی عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کیا ۔

پاکستانی ٹیم نے جس طرح سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سب سے زیادہ تین سو تیس رنز بنانے والی نیوزی لینڈ کا ریکارڈ بھی پاکستانی شاہینوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ہی بنایا ، جس سے پاکستانی کھیلوں کی نئی تاریخ رقم ہوتی ۔پاکستانی شاہینوں نے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ آج بھی کسی سے کم نہیں ، آج پاکستانی شاہینوں نے کرکٹ کی تاریخ دہرا دی ، عمران خان ، وسیم باری ، رمیز راجہ ، جاوید میانداد ،کے سنہرے دور کی یاد تازہ کر دی ۔وہ سنہرا دور جب پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا تھا آج دو ہزار پندرہ نزدیک ہے ،یقیناًپاکستانی ٹیم بھر پور فارم میں ہے اور اگر اسی طرح سے پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کی فٹنس قائم رہی اور وہ یو نہی کارکر دگی دکھاتے رہے تو یقیناًپاکستانی ٹیم ایک بار پھر ورلڈ کپ جیت کر دنیا بھر میں پاکستانی پرچم اونچا کر دے گی، جی دوستو ، اگر ہم کرکٹ کے ساتھ ساتھ اپنی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کا ذکر نہ کریں تو یہ بھی صریحا زیادتی ہو گی۔

انتہائی خوشی کی خبر تو یہ بھی ہے پاکستانی ہاکی ٹیم سولہ سال بعد چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ، اور یہ خوشی پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے پاکستانی قوم کو اس وقت دی جب انہوں نے بھارت کو بھارت کے ہی ملک میں شکست دی ،، تاہم بھارتی میڈیا کو یہ ہار ہضم نہیں ہوئی تو انھوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف پر وپیگنڈہ شروع کر دیا ،جسکے نتیجے میں جرمنی کے خلاف کھیلے جانے والے میچ میں دو پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی لگا دی گئی ، جس کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے دل ٹوٹ گئے اور فائنل میچ جرمنی کی جھولی میں چلا گیا ، تاہم میچ میں صاف نظر آرہاتھا کہ جرمنی کے کھلاڑی پاکستانی کھلاڑیوں کو دھکے دیتے رہے میچ میں گول سکور کرنے کے بعد جرمنی کے کھلاڑیوں نے جس طرح سے فحش اشارے کئے ،وہ ٹی وی پر دنیا بھر کے عوام نے دیکھے ، جس سے لاکھوں شایقین ہاکی کے دل ٹوٹ گئے ۔

یہ بات بھی شائقین کو سننے کو ملی کہ بھارتی میڈیا نے اپنی ٹیم کے ہارنے کے بعد جس طرح سے پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ برتاؤ کیا، وہ خبر بھی انتہائی افسوس ناک ہے ، تاہم بھارت سے میچ جیتنے کے بعد بھارتی شائقین کو بھی ہار ہضم نہ ہوئی ، ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہے جب دو ٹیمیں میدان میں اتریں گی تو یقیناًایک نہ ایک کو شکست سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور دوسری کو فتح نصیب ہوئی ، اور فتح یقیناًاسے ہی نصیب ہوتی ہے ، جو اچھا کھیلے ، یقیناًپاکستان بھی بھارتی کھلاڑیوں سے اچھا کھیلا اسی لئے جیت پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کا مقدر بنی ، تاہم سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہار بر داشت کر نی چاہئے۔ پاکستانی شایقین کو بھارتی عوام کے رویے سے دکھ ہوا ، اسی لئے تو تما م پاکستانی شایقین افسوس کر رہے ہیں پاکستانی کھلاڑیوں کی ہتک پر۔۔۔مگر خوشی تو اس بات کی بھی ہے کہ قومی ہاکی ٹیم انتہائی عرصہ بعد فارم میں نظر آئی۔ طویل عرصے سے مسلسل شکست سے دوچار ہونے والی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے محنت کی اور یقیناًانکی محنت رنگ لائی اور پاکستانی ٹیم سولہ سال بعد چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میں پہنچنے کے قابل ہو گئی ، کتنے فخر کی بات ہے کہ پاکستانی ٹیم کھیلوں کی دنیا میں اپنا کھویا ہوا وقار بحال کر نے میں کامیاب ہو جائے گی اور انشاء اللہ آئندہ ورلڈ کپ کے لئے بھی نہ صرف کوالیفائی کرے گی ،بلکہ ورلڈ کپ جیت کر حسن سردار ، قمر ابراہیم ، طاہر زمان ، سمیع اللہ ، وغیرہ جیسے عظیم کھلاڑیوں کی یاد بھی تازہ کر دے گی ، بہرحال ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے، اس پر بھی توجہ دینی چاہیے، خبر تھی کہ قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کا معاوضہ اس قدر کم ہے کہ انکی ضروریات بھی پوری نہیں ہو سکتیں اور نہ ہی قومی ہاکی بورڈ قومی کھلاڑیوں کے کھانے پینے اور علاج معالجے کا خیال رکھتا ہے۔ ہمارے بہت سے دوست کہتے ہیں کہ اگر ہم ہاکی میں دوبارہ عروج چاہتے ہیں تو ہمیں نہ صرف اپنی غلطیاں دور کر نی پڑیں گی بلکہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی بہتر دیکھ بھال ، اور ان کے علاج معالجے کا بھی خصوصی خیال رکھنا پڑے گا ، اجازت چاہتے ہیں آپ سے پیارے دوستو! لیکن اس امید کے ساتھ کہ اللہ کرے پاکستان جلد از جلد کھیلوں کی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام مزید روشن ہو سکے ۔ ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان رب راکھا ۔

مزید : کالم