پاکستان اور بنگلہ دیش کی کنفیڈریشن بننی چاہیے

پاکستان اور بنگلہ دیش کی کنفیڈریشن بننی چاہیے
پاکستان اور بنگلہ دیش کی کنفیڈریشن بننی چاہیے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دسمبر اس بار بھی متحدہ پاکستان کے دو لخت ہونے کی تلخ یادیں کریدتا ہوا گزر رہا ہے اور ہمارے اخبارات اور میڈیا اس سانحہ کا زیادہ تر وہی رخ دکھا رہے ہیں جو وہ پچھلے چار عشروں سے دکھاتے چلے آرہے ہیں۔ جادو نگار قلمکاروں نے اس سانحے پر ایسی یکطرفہ حاشیہ آرائی کی ہے کہ حقائق کئی پردوں تلے چھپ گئے ہیں۔سارا زور نئی نسلوں کو یہ باور کرانے میں لگایا جاتا ہے کہ یہ بس بھارت کی سازش تھی ،جس میں شیخ مجیب ملوث تھے یا پھر یہ سانحہ جنرل یحییٰ اور ان کے ساتھیوں کی سیاہ کاریوں کا نتیجہ تھا ،مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سانحے کا ایک کردار ذوالفقار علی بھٹو بھی تھے۔

گول میز کانفرنس کی ناکامی کے بعد 25 مارچ 1969ء کو صدر جنرل ایوب نے استعفیٰ دے دیا اور اپنے ہی بنائے ہوئے آئین (1962ء) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اسپیکر قومی اسمبلی عبدالجبار خاں کو اقتدار سونپنے کے بجائے فوج کے کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ کو مارشل لاء لگانے کی دعوت دے ڈالی۔ یحییٰ خان نے مارشل لاء لگا کر یکے بعد دیگرے ایسے اقدامات کئے جن سے ملکی شکست و ریخت کی راہ ہموار ہوتی چلی گئی اور ان تمام اقدامات میں اسے زیڈ اے بھٹو کی حمایت حاصل تھی۔ تقریباً تمام جماعتیں مطالبہ کر رہی تھیں کہ 1956ء کا آئین بحال کر دیا جائے جو ملک کے مشرقی اور مغربی بازوؤں میں اتحاد کی ضمانت تھا۔ اس آئین کے تحت قومی اسمبلی میں دونوں بازوؤں کو مساوی نمائندگی دی گئی تھی ،مگر جنرل یحییٰ نے آئین 1956ء بحال کرنے کے بجائے لیگل فریم ورک آرڈر (LFO) نافذ کر دیا جس کے تحت منتخب ہونے والی قومی اسمبلی کو نیا آئین بنانے کا کام سونپ دیا گیا۔ دوسرا ستم یہ ڈھایا گیاکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی مساوی نمائندگی ختم کر کے انہیں ون مین ون ووٹ کے اصول پر نمائندگی دی گئی جس کے تحت مشرقی پاکستان کو اپنی کثرت آبادی کی بناء پر 56فیصد نمائندگی حاصل ہو گئی اور مغربی پاکستان کی نمائندگی 44 فیصد رہ گئی۔ یہ دونوں اقدامات مہلک ثابت ہوئے۔

اوائل جنوری 1971ء میں جنرل یحییٰ ڈھاکہ ایئر پورٹ پر شیخ مجیب کو ملک کا آئندہ وزیراعظم قرار دے چکے تھے جبکہ شیخ مجیب مغربی پاکستان کے دیگر لیڈروں سے کہہ چکے تھے کہ چھ نکات کوئی حدیث نہیں، اسمبلی میں ان پر بات ہو گی۔ لیکن بھٹو صاحب نے وسط جنوری 1971ء میں پی پی پی کے وفد کے ہمراہ ڈھاکہ جا کر مجیب کے ساتھ سودا بازی کی کوشش کی۔اس ضمن میں ڈاکٹر عبدالباسط (ماہر قانون) نے اپنی کتاب ’’دی بریکنگ آف پاکستان‘‘ میں لکھا ہے : ’’بھٹو 1970 میں الیکشن کے خلاف تھے۔ الیکشن کے بعد بھٹو اور مجیب کو ایک جگہ اکٹھا کیا تو دونوں کافی دیر خاموش بیٹھے رہے۔ میری مداخلت پر بات چیت شروع کی تومجیب نے بھٹو کو کہا کہ کیا تم ملک توڑنا چاہتے ہو؟ ‘‘ ۔ انہی دنوں بھٹو نے 28فروری 1971ء کو مینار پاکستان کے سائے تلے شعلہ بار تقریر کی اور قومی اسمبلی کے اجلاس ڈھاکہ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ارکان ڈھاکہ میں یرغمال ہوں گے، لہٰذا ہم ڈھاکہ نہیں جائیں گے، بلکہ جو ڈھاکہ جائے گا، اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ بھٹو کی ملک کو دو لخت کرنے کی بنیاد رکھنے والی آتشیں تقریر ’’ادھر تم، ادھر ہم‘‘ کے عنوان سے بھٹو کے کردار سے چپک کر رہ گئی، دراصل پاکستان اسی روز دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔

پاکستان اور بیرونی دنیا میں سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے یہ تاثر غالب ہے کہ فوج مشرقی پاکستان کے حالات کی ذمہ داری تھی اور اس کا دفاع کرنے میں ناکام رہی۔ جبکہ سیاستدانوں کے درمیان تکرار نے طول پکڑ لیا اور3مارچ 1971ء کوکافی تاخیر کے بعدجب ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے اس میں شرکت سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں یہ معاملہ بدترین سیاسی محاذ آرائی اور الزام تراشی کی شکل اختیار کرتا گیا اور آخر کارریاستی نظام کے مفلوج ہونے پر منتج ہوا۔

بھارت پہلے ہی اس صورتحال کی تاک میں تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرا گاندھی نے بنگالی نوجوانوں کو مغربی بنگال کے کیمپوں میں گوریلا تربیت دی۔ نیز بھارتی فوجی سول کپڑوں میں ان کے ہمراہ رہے اور یوں مکتی باہنی تشکیل دے کر انہیں گوریلا جنگ کے لئے مشرقی پاکستان میں داخل کر دیا۔ اس فورس نے مقامی بنگالیوں کے تعاون سے پاک فوج کو بڑا زچ کیا۔اندرا گاندھی کی افواج نے حملے کی بھرپور تیاری کر رکھی تھی۔ بھارتی جرنیل وزیراعظم اندرا گاندھی کو مشورہ دے رہے تھے کہ مشرقی پاکستان پر موسم برسات کے بعد حملہ کر دیا جائے، چنانچہ اندرا عالمی سطح پر فضا ہموار کرنے کے لئے دورے پر نکلی۔ اس نے دنیا بھر میں مشرقی بنگال پر پاک فوج کے مبینہ مظالم کا خوب ڈھنڈورا پیٹا۔ اس دوران میں 20 نومبر کو بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان پر تین اطراف سے حملہ کر دیا چوتھی جانب سے بھارتی بحریہ نے ناکہ بندی کر لی تھی۔بھارت مجیب نگر میں قائم ’’بنگلہ دیش کی عبوری حکومت‘‘ کو پہلے ہی تسلیم کر چکا تھا۔

اس صورتحال کو قابو کرنے کے لئے پاک فوج کے جو دستے ڈھاکہ میں تعینات تھے ان کی تعداد اس وسیع بغاوت اور خانہ جنگی کو قابو کرنے کے لئے ناکافی تھی۔بہرحال مغربی پاکستان سے بیس ہزار فوجی دس روز کے بعد مشرقی پاکستان پہنچے۔ مغربی پاکستان سے مزید کمک ملنے کے بعد (پہلے جنرل ٹکا خان اور بعد ازاں) جنرل اے کے نیازی نے اسے حکومت کی رٹ کو بحال کرنے کے علاوہ سرحدوں پر بھی منظم کیا۔ اس طرح جو دستے بکھرے ہوئے تھے ، نئے دستوں کی آمد سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے اور ان کے درمیان رابطہ کاری کا نظام بھی بہتر ہوا۔ یہ مرحلہ گو کہ انتہائی اہم تھا ،مگر جنرل نیازی نے اسے بخوبی انجام تک پہنچایا۔ اس طرح اپریل 1971ء تک صورتحال پر قابو پایا جا چکا تھا۔

بھارت کے قوم پرست رہنمانیتاجی بوس کی بھتیجی اورنامورمصنفہ سرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں 1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے متعلق انکشاف کیاہے کہ نہ تو اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے، نہ ہی بے حرمتیوں کا تناسب بیان کے مطابق تھا اور نہ ہی یہ کہ تشدد صرف پاکستانی فوجیوں نے کیا تھا۔وہ پاکستانی فوج پر الزامات کی صفائی تو پیش نہیں کرتی، لیکن یہ اصرار ضرور کرتی ہے کہ پاکستانی فوج پر نسل کشی، جنسی زیادتیوں اور تشدد کے جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ قطعاً درست نہیں۔ پاکستانی فوج میں خصوصاً جو بلوچ تھے ان کا سلوک بنگالیوں سے اچھا تھا۔ اس زمانے میں ’بلوچ‘ یا ’بلوچی‘ بنگالیوں کے لئے ایک ایسی اصطلاح بن گئی تھی جس کے معنی تھے ’ اچھا یا تحفظ دینے والا فوجی‘۔بہرطور، مشرقی پاکستان 1971 میں ایک ایسا میدان جنگ تھا ،جس میں کئی متشدد فریق ایک ساتھ سرگرمِ عمل تھے، ان میں شدت پسند باغی بھی تھے، تشدد پر آمادہ ہجوم بھی، ایسی شہری دہشت گردی بھی جاری تھی جو ہندستان اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر گئی۔ 1971 کے تنازعے کو سمجھنے کے لئے ایک ایسا طریقہ انتہائی اہم ہے ،جس میں پوری احتیاط سے کام لیا جائے اور جو شہادتوں پر مبنی ہو لیکن یہ تبھی ہو سکتا ہے جب تنازعے کے تمام فریق کسی طور ہم آہنگ ہو جائیں۔

سقوط ڈھاکہ کا سانحہ قوم کے اعصاب پر بجلی بن کر گر چکا تھا ۔ ادھر اندرا گاندھی آزاد کشمیر اور مغربی پاکستان پر زور دار حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی ،مگر امریکی صدر رچرڈنکسن نے اسے روس کی وساطت سے اس اقدام سے باز رکھا، تاہم بھارتی فوج نے مغربی محاذ پر جنگ بندی سے پہلے کارگل کی چوٹیوں پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران بھٹو اسلام آباد آئے اور یحییٰ خان سے ملکی صدارت اور سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے حاصل کر کے آمر مطلق بن گئے۔

پاکستان کے دولخت ہو جانے سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش تو بن گیا لیکن نظریہ پاکستان پر ایسی آنچ نہیں آئی کہ ہم دل برداشتہ ہوجائیں۔ بنگلہ دیشی مسلمان ہم سے کم دیندار یا بھارت کے عزائم سے بے خبر نہیں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود کو حقیقت پسند بنا کر امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں اپنی فراخدلی سے اس خواب کو شرمندہ حقیقت کرنے کی شعوری کوشش کریں کہ جنوبی ایشیاء کے یہ دونوں ملک پھر ایک نہیں ہو سکتے تو کم از کم کنفیڈریشن کی کسی ایسی قابل عمل شکل پر متفق ہوجائیں جو بھارت کے مسلمانوں کیلئے بھی حوصلہ ساماں بنے۔

خدا پاکستان کو محفوظ و سلامت رکھے ،مگر ہمیں یاد رہے کہ آج کے حالات و واقعات کل کے انجام کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو بھلانے کے بجائے ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔

مزید : کالم