اور پل ٹوٹ گئے۔۔۔سقوط ڈھاکہ کا آنکھوں دیکھا حال

اور پل ٹوٹ گئے۔۔۔سقوط ڈھاکہ کا آنکھوں دیکھا حال
اور پل ٹوٹ گئے۔۔۔سقوط ڈھاکہ کا آنکھوں دیکھا حال

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مئی 1971ء کے دن تھے میں ان دنوں شیر شاہ پل پر بطور برج انسپکٹر سب انجینئرتعینات تھا، ہم لوگ پرانے پل کو نئے پل میں تبدیل کررہے تھے۔ یہ پل دریائے چناب پر شیرشاہ اور مظفر گڑھ سٹیشنوں کے درمیان واقع ہے۔ ابھی کام شروع کئے ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہواتھا۔ مئی کے دوسرے ہفتے میں اچانک خبر ملی کہ مغربی پاکستان ریلوے کے برج سٹاف کے عملے کو مشرقی پاکستان بھیجا جارہا ہے، کیونکہ مارچ 1971ء سے اپریل 1971ء کے ہنگاموں اور ملٹری آپریشن کے دوران مکتی باہنی ،بنگالیوں بشمول انڈین عناصر نے تقریباً 90ریلوے پل اور بے شمار روڈ برجز کو بارود سے اڑا دیا تھا۔ چٹاگانگ ڈھاکہ کے درمیان ریلوے سروس کو فوری شروع کرنا تھا ،چنانچہ 180افراد پر مبنی ایک دستے کو، جس میں ہر قسم کا برج ٹیکنیکل سٹاف سب انجینئرز اور آفیسر شامل تھے فوری طورپر ڈھاکہ کے لئے روانہ کردیا گیا ۔ہم لوگ رات بذریعہ پی آئی اے کراچی سے روانہ ہوئے اور براستہ سری لنکا تقریباً صبح 8بجے ڈھاکہ پہنچ گئے ۔ ڈھاکہ سے بذریعہ ہوائی جہاز اسی دن چٹاگانگ بھجوایا گیا۔ ڈھاکہ اور چٹاگانگ کے لوٹ مار اور قتل وغارت گری کے افسوسناک واقعات سن رکھے تھے، چنانچہ ماحول خوفزدہ کرنے والا تھا۔

چٹاگانگ ریلوے سٹیشن پر ہمارے لئے پہلے ہی سے ایک ٹرین تیار تھی۔ جس میں چند عدد سیلون ، سٹاف کے لئے بوگیاں، کھانے والی گاڑی اور دیگر تمام ضروری انتظامات کردیئے گئے تھے، چٹاگانگ ریلوے بلڈنگ ایسٹ پاکستان ریلوے کا ہیڈکوارٹر تھا، جیساکہ مغربی پاکستان میں پاکستان ویسٹرن ریلوے کا لاہور میں ہیڈکوارٹر آفس ہے۔ یوسف صاحب ان دنوں ریلوے کے چیئرمین /جنرل منیجر تھے۔ ہمارے ساتھ فروغ احمد صاحب بطور ڈپٹی چیف انجینئر برج لیڈ کررہے تھے۔ ہمیں سب سے پہلے فینی برج جوکہ چٹاگانگ سے تقریباً 40کلو میٹر دور ایک بڑی سمندری ندی پر واقع تھا اس کی مرمت اور بحالی کا کام سونپا گیا۔ پاکستان ایسٹرن ریلوے حکام نے ہماری ڈیمانڈ کے مطابق وہاں پر 20/25 فوجی جوانوں کا ایک دستہ نائب صوبیدار کی کمانڈ میں تعینات کررکھا تھا ،کیونکہ یہ پل شہر سے دور ایک سنسان علاقہ میں واقع تھا ،جس کے ایک طرف انڈین بارڈر اور دوسری جانب سمندر تھا اور ریلوے لائن کے دونوں طرف تھوڑے تھوڑے فاصلے پر دیہات (باڑیاں) واقع تھے۔ فینی برج ایک بڑا پل جوکہ 6X150سپینوں پر مشتمل تھا۔ تخریب کاروں نے دو Piersپر ڈینا مائیٹ (بارود) لگا کر اسے تباہ کیا تھا اور اسے دھماکے سے اڑادیا ۔

مشکل یہ تھی کہ Pierبھی تباہ ہوگیا اور Spans کے سرے 20\'تک مکمل اڑ گئے اور ان کا ایک سرا Piersپر ٹکا ہوا تھا اور دوسرا سرا 100\'گہری سمندری ندی میں گرچکا تھا ۔یہ ندی دن کے پہلے حصے میں ہائی ٹائیڈر پر ہوتی تھی اور دوپہر کے بعد جو پانی واپس جاتا ۔کام کے حساب سے کرین اور دیگر ہیوی ٹرانسپورٹ موجود نہ تھا ، لیکن ہم نے سمندر کی Lowاور High Tideکا فائدہ اٹھاتے ہوئے پل کو پانی سے باہر نکالا اور موجودہ سامان اور وسائل کو Imqrovixکرتے ہوئے اور سخت لگن اور محنت کرکے شبانہ روزکوششوں سے پہلے تو دریا میں گرے ہوئے Girdersکو نکالنے میں کامیاب ہوگئے ۔بعدازاں بارود سے جلے اور تباہ شدہ حصوں کو کاٹنے اور ان جیسے نئے حصوں کو Fabricateکرنے کے بعد پل کو مکمل طورپر مرمت کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس تمام کام میں ایک ماہ کے عرصہ میں لگاتار بارش ہوتی رہی اور سیکیورٹی رسک ہروقت موجود ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا کردی اسی دوران ایک گروپ کو چھوٹے پلوں کی مرمت کرنے کے لئے مشرقی پاکستان کے دیگر حصوں میں بھیجا گیا۔

اگلا بڑا Gona bati bridge پل دھوم گھاٹ برج تھا۔ اس کواورکاپٹر اور پھر گونا بنتی پل کو مرمت کیا ،اسی دوران جنرل ٹکا خان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر پل پر تشریف لائے، پلوں کو ریل انجن سے ٹسٹ کرنے کے بعد چھوٹے پلوں کو مرمت کرتے ہوئے ہم لوگ لکشام سٹیشن تک پہنچ گئے، اس سٹیشن سے ایک لائن چاندپور سٹیشن کو نکلتی تھی اور مین لائن ڈھاکہ چلی جاتی تھی۔ چاند پور سے ریلوے کے Steamerپوری ٹرین کے مسافروں کو لے کر براستہ میگھنا(Maghna River)ڈھاکہ 4/5گھنٹے میں پہنچا دیتے تھے۔ اب گاڑی چٹاگانگ سے ڈھاکہ براستہ چاند پور چلنے لگی، یہ تمام کام ستمبر 1971ء تک مکمل ہوچکا تھا اور واپسی کے لئے تیاری ہوچکی تھی کہ ریلوے حکام نے ہمیں مزید ایک بڑا پل، جس کا نام اڑیل خان تھا اس کی مرمت اور Restorationکے لئے زور ڈالا ،کیونکہ اس پل کے مرمت ہونے کے بعد چٹاگانگ سے براہ راست گاڑی براستہ چمن سنگھ ڈھاکہ تک جاسکتی تھی جوکہ کردی گئی۔

اسی دوران کوئی انتہائی ٹرینڈتخریب کار رات کے وقت پل کے نیچے Steel Barge کے ساتھ پانی کے اندر سے 10کلو وزنی ٹائم بم لگاگیا۔ جس نے دن کے پہلے حصے میں Explodeہونا تھالیکن اسی وقت ہم جب Girderکو اٹھا رہے تھے، Steel Bargeاوپر آئی تو وہ Mineنظر آگئی اور ہم لوگ فوری سٹاف کو لے کر دورنکل گئے بعد میں ڈھاکہ سے بم ڈسپوزلعملہ پہنچ گیا اور بم کو ناکارہ بنادیا۔ نومبر 1971ء فینی اور دھوم گھاٹ اور دیگر پلوں کی Wooden Dockingکرنے کا حکم ملا جو کردیا گیا۔ اب ریل اور روڈ ٹرانسپورٹ چلنے لگی۔ 4دسمبر 1971ء میں ہم سٹاف کو لے کر چٹاگانگ سٹیشن واپس آگئے، اب ڈھاکہ کملاپور سٹیشن سے گاڑیوں کی آمدورفت شروع ہوگئی جو چٹاگانگ ختم ہوتی، خبروں کے مطابق انڈیا نے مغربی پاکستان کی سرحدوں پرپر 22نومبر 1971ء سے چھیڑچھاڑ شروع کردی تھی۔ چٹاگانگ سے ہوائی راستہ 5دسمبر سے بند کردیا گیا اور ڈھاکہ سے کراچی، لاہور کا فضائی راستہ بھی ختم کردیا گیا۔ انڈین ہوائی حملے سے ڈھاکہ ایئرپورٹ کو بھی تباہ کردیا گیا، انڈیا نے بکرم ایئرکرافٹ بھی چٹاگانگ پورٹ سے چند میل دور کھڑا کردیا تھا ،جہاں سے اڑ کر فائٹر جہاز چٹاگانگ پورٹ پر مسلسل حملے کرتے رہتے تھے۔ ایک جہاز نے سی آر بی کے وائرلیس سٹیشن پر دوبم پھینکے جس سے وہ بلڈنگ تباہ ہوگئی اور پاکستان ویسٹرن ریلوے اور پاکستان ایسٹرن ریلوے کا رابطہ ختم ہوگیا، یہ 13دسمبر 1971کا واقعہ ہے۔

ہم نے پریشان ہوکر چٹاگانگ کینٹ کا چکر لگایا وہاں جو چند فوجی جاننے والے تھے ،ان سے صورت حال کا پوچھا لیکن قیاس آرائیوں کے سوا کوئی خبر نہ مل سکی، کیونکہ چند روز پہلے سے کبھی امریکہ سے ساتویں بحری بیڑے کے آنے کی خبر سنتے، کبھی انڈیا پاکستان سیز فائر کی بات ہوتی ،لیکن چٹاگانگ اور ڈھاکہ کو درمیان فوجی رابطے بھی ختم ہوچکے تھے اور شاید ڈھاکہ سے مغربی پاکستان سے کوئی واضح ہدایات نہیں مل رہی تھیں۔ آخر کار 15/12/71اور 16/12کی پرہیبت رات بھی آپہنچی، خلاف معمول اس رات نہ کسی انڈین فائٹر جہاز نے پورٹ پر پرواز کی نہ ہی کسی اینٹی ائر کرافٹ گن سے کوئی گولہ فائر کیا گیا۔ ایک خوفناک سکوت گھپ اندھیرا شہر سے بھی ایک گولی چلنے کی آواز نہ آئی۔ اللہ تعالیٰ سے خیروعافیت مانگتے یہ خوفناک رات جو پاکستان کی وحدت کی آخری رات تھی گزر گئی ،صبح 16دسمبر کو سورج طلوع ہوچکا تھا۔ ہم لوگوں نے اپنے اپنے کمپارٹمنٹ میں ناشتہ شروع ہی کیا تھا کہ سیلون اور دیگر بنگالی ملازمین نے اطلاع دی کہ ریڈیو پر مسلسل اعلان ہورہا ہے کہ بنگلہ دیش بن چکا ہے، تھوڑی دیر میں انڈین آرمی چٹاگانگ شہر میں داخل ہونے والی ہے۔ اس لئے فوجی جو سول کپڑوں میں بھاگ رہے ہیں، انہیں جہاں بھی ملیں قتل کردیئے جائیں ،علاوہ ازیں سویلین پنجابی پٹھان ،سندھی اور کسی بہاری کو بھی نہ چھوڑا جائے، ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔

یہ صورت حال دیکھتے ہوئے ہم تمام لوگ جوکہ تقریباً تعداد میں 140تھے اپنے انچارج ایکسین بریگیڈیئر سید اسرار حسین شاہ کے ساتھ اوپر ریٹائرنگ روم میں چلے گئے۔ وہاں پر پاکستان آرمی میڈیکل کور کا ایک ریاض نامی فوجی جوان موجود تھا۔ وہ ہمارا پہلے سے واقف تھا ،اس کی ڈیوٹی زخمی فوجیوں کو ریلوے سٹیشن سے لے کر سی ایم ایچ پہنچانا تھا اسرار حسین صاحب نے پہلے سرکٹ ہاؤس میں فون کیا وہاں سے کوئی جواب نہ ملا۔ اس کے بعد ایس پی چٹاگانگ کو فون کیا، اس نے آگے سے گالیاں دیں اور یہ دھمکی بھی دی کہ اپنے آدمیوں کو بھیج رہا ہوں جو تم لوگوں کو گرفتار کرلیں گے۔ نیچے سٹیشن کے سامنے دیکھا ایک ہجوم بنگالیوں کا اکٹھا ہوتا نظر آرہا تھا۔ ابھی تقریباً8بجے کا وقت تھا۔ فوجی جوان ریاض نے اسرارصاحب سے بات کی کہ میرے پاس SMGکے علاوہ ہینڈ گرنیڈ بھی ہیں۔ آپ سب لوگ بھی جوجو اسلحہ ہے ،لے کر فوری میرے پیچھے پیچھے نکل پڑیں ،اگر مزید تھوڑی دیر کی تو انڈین آرمی شہر میں داخل ہوجائے گی،ان بپھرے ہوئے لوگوں نے ہماری تکہ بوٹی کردینی ہے۔ چنانچہ ہم لوگ تمام سامان چھوڑ چھاڑ کر اس لائن کے ساتھ ساتھ جو کینٹ کو جاتی تھی ،ریاض کے پیچھے چل پڑے ۔

ریاض نے سختی سے ہدایت دی کہ آپ لوگوں میں سے کسی نے فائر نہیں کرنا جب تک میں نہ کہوں۔ لائن کے دونوں طرف کافی تعداد میں بنگالی کھڑے ہمیں جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں ہم سب لوگ بنگالی آبادی سے نکل کر بہاری آبادی والے گنجان علاقے میں پہنچ چکے تھے۔ بہاریوں نے بتایا کہ چھاؤنی سے پہلے کا علاقہ بہت خطرناک ہے، آپ لوگ سردار بہادر ہائی سکول میں رک جائیں، تھوڑی دیر میں انڈین آرمی کے لوگ پہنچنا شروع ہوں گئے، انڈین میجر چرن سنگھ نے ہمارے ایک انجینئر چودھری نواب سے پنجابی میں بات کرنا شروع کردی۔ میجر چرن سنگھ نے کہا دیکھو دوستو یہ اب 3ملکوں کی لڑائی کا معاملہ ہے ،ہم فوری طورپر کچھ نہیں کرسکتے ،البتہ مَیں اپنے جوانوں کی آپ کی حفاظت کے لئے ڈیوٹی لگادیتا ہوں ،جب کہ آپ لوگ اسی سکول میں پناہ رکھیں اور کہیں باہر دوسرے علاقوں میں مت جانا ( سپاہی ریاض ہمیں الوداع کہنے کے بعد چلا گیا) جناب یہاں سے ہماری POWکی کہانی شروع ہوتی ہے۔ یہ 16دسمبر 1971ء کا وہ المناک دن تھا جس دن نہ جانے کتنے لوگ روئے ان کے ساتھ آسمان بھی رویا؟ پاکستان دولخت ہوچکا تھا ادھر ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں Surrenderکی کارروائی بھی شروع ہوچکی تھی۔

مزید : کالم