انصاف کی تلاش

انصاف کی تلاش
انصاف کی تلاش

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان میں نصف سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اسے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی تسلیم کیا ہے، تاہم میرے نزدیک یہ کوئی اتنی اہم بات نہیں۔ اصل اہم بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی 99 فیصد آبادی انصاف سے محرومی کا شکار ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ قومیں بھوک سے نہیں، بے انصافی سے مرتی ہیں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ملک سے غربت چاہے ختم نہ ہو، بے انصافی ضرور ختم ہونی چاہئے۔۔۔ لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں عزت کا معیار طاقت ہو اور مظلوم کی گردن پر سواری کرنے والے کو ظالم کی بجائے معزز سمجھا جاتا ہو، تو وہاں انصاف کیسے مل سکتا ہے؟ نا انصافی کے مظاہر قدم قدم پر نظر آتے ہیں، مگر اُس کے مقابلے میں انصاف دینے والے اداروں اور محکموں کی کارکردگی صفر سے بھی نچلے درجے پر نظر آتی ہے۔ آج تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ وہ انصاف کے لئے سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے، حالانکہ وہ صرف دھاندلی کے خلاف نکلی ہے، کاش ہماری سیاسی جماعتیں کبھی ملک میں انصاف اور نظامِ انصاف کے لئے سڑکوں پر آئیں۔

بڑی چالاکی سے پاکستان میں انصاف کی فراہمی کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ انصاف مملکت کی ذمہ داری ہے، مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ انصاف فراہم کرنے والے قومی ادارے اس نکتے پر یکسو ہونے کی بجائے آپس میں اُلجھے رہتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی کا جب بھی ذکر آتا ہے تو بات عدلیہ پر آکر رک جاتی ہے۔ بلا شبہ انصاف کا تعلق عدالتوں سے ہی ہوتا ہے، مگر صرف عدالتوں کوہی مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ معاشرے کا عمومی رویہ بھی انصاف سے متصادم ہے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم نے عدالتوں کو انصاف کے لئے مواد فراہم کرنے والے اداروں کو خود کرپٹ کر دیا ہے۔ پولیس اور پٹوار کا نظام کس قدر غلاظت کا شکار ہے، یہ محکمے اُلٹا انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ عدالتوں سے پہلے عام آدمی کا واسطہ ان سے پڑتا ہے اور یہ ریلیف کی بجائے تکلیف پہنچانے کے نظریئے پر عمل کرتے ہوئے اُس کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔ حیرت ہے کہ ہم 67 برس گزر جانے کے باوجود اپنے بنیادی نظام کو ہی سیدھا نہیں کر سکے۔ کیسا معاشرہ ہے کہ جہاں پر حق کے لئے بھی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ باقی سارے ادارے عوام کو حق سے محروم کرنے پر گامزن ہیں اور عدالتوں کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہے کہ وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کریں۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟

مملکت کے اداروں کو کیا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرنی چاہئیں؟اصل کام تو اُن کا ہے کہ وہ لوگوں کو بنیادی سطح پر انصاف فراہم کریں۔ آج عدالتوں میں پولیس، محکمہ مال، واپڈا اور سوئی گیس کے محکموں کے خلاف مقدمات کی بھرمار ہے۔ لوگ اُن کی زیادتیوں سے بچنے کے لئے عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، یہ عجیب صورتِ حال ہے۔ آخر محکموں کے اندر ایسا خود کار نظام کیوں موجود نہیں کہ جو عوام کو انصاف اور ریلیف دے سکے؟ اس کا واضح مطلب تو یہی ہے کہ سرکاری محکموں کے قواعد و ضوابط عوام کو دکھ دینے کے لئے بنائے گئے ہیں، سکھ دینے کے لئے نہیں۔صرف پولیس کو ہی لے لیں، سب متفق ہیں کہ پولیس معاشرے کا سب سے بگڑا ہوا محکمہ ہے، اگر یہ درست ہو جائے تو انصاف کی پہلی سیڑھی سیدھی ہو جائے گی، مگر کسی حکومت کی یہ خواہش نہیں رہی کہ پولیس کو درست کیا جائے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومتیں کھڑی ہی پولیس کی بیساکھیوں پر ہوتی ہیں۔ کوئی حکمران یہ نہیں چاہتا کہ عوام کو سستا اور فوری انصاف ملے، حالانکہ تمام سیاسی جماعتوں کے منشور میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ وہ عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کریں گی۔

یہ آج ہی نہیں گزشتہ چھ دہائیوں سے ہو رہا ہے۔۔۔ اور تو اور فوجی حکمرانوں نے بھی یہ دعوے کئے ہیں کہ وہ انصاف کو سستا اور یقینی بنائیں گے، مگر نا معلوم وجوہات کی بنا پر وہ استحصالی نظام کا بال تک بیکا نہ کر سکے۔ پرویز مشرف نے پولیس کو سیدھا کرنے کے لئے اپنے تئیں نیا پولیس آرڈر متعارف کرایا، لیکن اُس نے اصلاح کی بجائے ایک ایسا بگاڑ پیدا کیا کہ پولیس ضلعی انتظامیہ کی گرفت سے بھی آزاد ہو گئی اور اُس کی من مانیاں ظلم کی آخری حدوں کو چھونے لگیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز مشرف دور میں پولیس کے عہدے اور ضابطے تو تبدیل کر دیئے گئے، تاہم جو اول کام تھا، یعنی 1861ء کے پولیس ایکٹ کا خاتمہ، اُسے ختم نہیں کیا گیا۔ یہ ایکٹ انگریزوں نے اپنی مطلب براری اور تسلط برقرار رکھنے کے لئے بنایا تھا اور اس میں ایسے لاتعداد قوانین رکھے گئے تھے جو نو آبادیاتی نظام کی حفاظت کے لئے ضروری ہوتے ہیں، مگر بد قسمتی سے آزاد وطن حاصل ہونے کے باوجود ہم اسے ختم نہیں کر سکے، جس کی وجہ سے پولیس کسی بھی طرح قانون کے دائرے میں نہیں رہی اور حدود سے تجاوز کرتی رہتی ہے۔

جن دنوں آزاد عدلیہ کے لئے تحریک چل رہی تھی، نئے پاکستان کی طرح لوگ نئی عدلیہ کا بھی خواب دیکھنے لگے تھے۔ اُنہوں نے تصور کر لیا تھا کہ اب افتخار محمد چودھری کی بحالی کے ساتھ ہی ملک میں عدل و انصاف کا بھی بول بالا ہوگا اور لوگوں کو سستا انصاف ملنے لگے گا، مگر ماضی کے بہت سے خوابوں کی طرح عوام کا یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوا۔ نئی جوڈیشل پالیسی بھی بنی اور نئے اقدامات بھی اُٹھائے گئے، لیکن دھاک کے تین پات ثابت ہوئے۔ اُلٹا یہ ہوا کہ پولیس پہلے سے زیادہ بے لگام ہو گئی ا ور ضلعی و تحصیلی سطح کی عدالتوں میں انصاف بکنے کی شکایت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کوئی نظامِ انصاف اُس وقت تک مستحکم اور مفید ثابت نہیں ہو سکتا، جب تک گراس روٹ لیول تک اُس کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو یقینی نہ بنا دیا جائے۔ آزاد عدلیہ کے بعد صرف سوموٹو اقدامات کے ذریعے عدلیہ کے متحرک اور فعال ہونے کا تاثر دیا گیا۔ حقیقی معنوں میں ایسے اقدامات نہیں اُٹھائے گئے جو عوام کو انصاف دینے کا باعث بن سکتے ہوں۔ مثلاً یہی دیکھئے کہ تھانوں میں ظلم کے خلاف از خود نوٹس بھی سپریم کورٹ ہی لیا کرتی تھی، گویا انصاف کی فراہمی کا واحد ذریعہ یہی رہ گیا تھا۔ اس پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں اور سول ججوں کی عدالتوں میں زیر التواء لاکھوں مقدمات میں لوگوں کو انصاف کیسے دینا ہے؟

انصاف کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے جا ملتا ہے، اگر معاشرے میں انصاف نہیں تو گویا معاشرہ سب سے بنیادی حق سے محروم ہے۔ آج اس حوالے سے ہم جائزہ لیں تو شرمناک صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ یہ بنیادی حق اس بری طرح سے پامال کیا جا رہا ہے کہ معاشرے پر جنگل کا گمان ہوتا ہے۔ کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں جو عوامی اور حقیقی داد رسی کے لئے موجود ہو، سب مشکلات پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں، عوام کو ریلیف دینے کے لئے مطلوب مختلف صوبائی حکومتیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے عوام کو کرپشن اور نا انصافی سے بچانے کے لئے راستے نکال رہی ہیں ،لیکن یہ کبھی فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتے، کیونکہ موجودہ دفتری نظام میں سرکاری اہلکاروں کے اختیارات اس قدر زیادہ ہیں کہ اُنہیں من مانی سے روکا نہیں جا سکتا۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمارا قومی ڈھانچہ جس نظام پر کھڑا ہے، اُس میں وقت کے مطابق تبدیلیاں لائی جائیں۔ سیاسی جماعتوں کو اب ماضی کے سنہرے ادوار سے نکل کر زندگی کے تلخ حقائق اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنا چاہئے، اس کے لئے پولیس اور بیورو کریسی کے نظام میں فوری تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو عوام میں مایوسی پھیلتی رہے گی اور وہ کسی مسیحا کے انتظار میں سڑکوں پر آتے رہیں گے، جیسا کہ آج کل عمران خان کے ساتھ نکلے ہوئے ہیں۔

مزید : کالم