تاثر

تاثر
تاثر

  

احتجاجِ غیر نہیں احتسابِ خویش کی عادت ڈالنی ہوگی۔ اتنا ہی کافی نہیں، اپنی پاکستانیت پر جھوٹا فخر ختم کرنا ہوگا۔ جھوٹا فخر ایک مرض ہے جو مریض کو دھیرے دھیرے چاٹ لیتاہے۔ اپنی طاعون زدہ عقلوں کا ماتم کیسے کیاجائے؟ ایک ہاکی میچ کی فتح یابی پر قوموں کی عادتوں کا گوشوارہ ہی مرتب نہیں کیا گیا، مستقبل کے زائچے تک تیار کر لئے گئے۔ ایک میچ کی فتح پر ہاکی کھلاڑیوں نے تو اپنے شرٹس ہی اُتارے ۔ مگر کالم نگار تو اپنی شلواریں تک سنبھال نہیں پائے۔ حیرت ہوتی ہے، ہم اپنی قوم کو کیسا افیون پلاتے ہیں۔کیا ہاکی میچ جیت کر ہم بھارت پر فتح یاب ہوں گے؟

اندراگاندھی نے کہاتھا کہ ’’آج نظریۂ پاکستان ہم نے خلیجِ بنگال میں غرق کردیا۔‘‘بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اگر باقی کچھ بچ گیا تھا تو ہم نے خود اُسے بحیرۂ اسود میں غرقاب کیا۔اطالوی نژاد سونیا گاندھی زیادہ سمجھدار نکلیں جو قوموں کے مزاج کی بدلتی نفسیات کے محرکات پر کبھی غور کرپائی تھیں ایک موقع پر اُس نے کہا کہ اب پاکستان پر حملہ آور ہونے کی ضرورت نہیں ۔ بھارتی فلمیں زیادہ کامیابی سے یہ کام کر چکیں۔ حیرت ہے سانحۂ مشرقی پاکستان کی تاریخ پر ہم کیسے بروئے کار ہیں؟ ہماری قومی نفسیات خود شکنی پر کمربستہ ہیں۔ اور ہمارے دانشور تو الامان والحفیظ!مولانا ظفر علی خان نے اپنے اخبار زمیندار میں ایک مخصوص صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک شعر لکھا تھا کہ:

ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے

میدان پانی پت کی طرح پائمال ہے

یہ شعر نہیں، ہمارے اجتماعی المیوں کا ماجرا ہے۔ہر ایک کے پاس ایک فرضی پانی پت کا میدان ہے اور وہ اپنے دشمنوں سے خیالی جنگوں میں مصروف ہے۔ ایسی فرضی لڑائیوں کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں شکست کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ خیالی لڑائی میں خیالی فتح سے جھوٹے فخر کی قومی نفسیات بھی خورسند رہتی ہے۔یہ جھوٹے فخر کا نہیں، اجتماعی ضمیر کے کٹہرے میں خود کو نادم کھڑا کر نے کادن ہے۔ڈھاکا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو یاد کیجئے، جنہیں عوامی لیگ نے بنگلہ دیش کی آزادی کے ہنگام حوالۂ زنداں کر دیاتھا۔ پروفیسر ڈاکٹر سید سجاد حسین نے نہایت نازک بات بہت ہی سادہ الفاظ میں لکھ دی ہے کہ : ’’مجھے پاکستان کے ٹوٹنے کے اسباب سمجھنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہ بہت چھوٹے لوگ تھے اور حالات نے اُن کی جھولی میں بہت بڑے معاملات ڈال دیئے تھے۔جنہیں طے کرنے میں اُنہیں واضح ناکامی کا سامنا تھا۔دھوکا دہی، سازش غداری، نظریات اور اُصولوں سے دستبرداری سبھی کچھ اس فضا میں موجود تھا‘‘۔

بس یہی آج کی بھی فضا ہے۔ہمارے مسئلے بڑے مگر ہمارے رہنما بونے ہیں۔ یہ دور اور دیر تک دیکھنے کی صلاحیت سے مکمل محروم ہیں۔ معلم احمد جاوید نے کہاتھا کہ ’’جو اپنا حال تبدیل نہیں کر سکتا، وہ بس ماضی کو بدلتا رہتا ہے۔‘‘ہم ایسا ہی کررہے ہیں اپنے ماضی کو ہر روز اس لئے بدل دیتے ہیں کہ اپنا حال نہ بدل پانے کے طعنے سے بچے رہیں۔ سانحہ مشرقی پاکستان بھی ایسا ہی ایک ماضی ہے۔ جسے ہر روز بدل بدل کر ہم اپنے حال میں مست رہتے ہیں۔ ایک قوم کے طور پر ہم اپنی خوداعتمادی اس قدر کھو چکے ہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے حقیقی اسباب و محرکات کے جائزے پر بھی ہم قادر نہیں رہے۔ یہ ہم کیسا چہرہ رکھتے ہیں جو اپنے مقابل آئینے کی تاب تک نہیں رکھتا ۔ جوقوم برتری کی نفسیات کی جڑیں حال کے بجائے ماضی میں رکھتی ہو ،اُس کا حال خراب اور مستقبل سنگین خطرے میں رہتاہے۔

یہ ہمارے قومی شب وروز کا حال ہے کہ آج سولہ دسمبر ہے مگر ہمارا موضوع گزشتہ روز کی ہڑتال کی کامیابی اور ناکامی ہے۔ ہمارے بڑے رہنما نوازشریف ، آصف علی زرداری اور عمران خان ہیں۔ جن کے نفسیاتی مغالطوں کی قیمتیں ادا کرتے کرتے قوم بے قیمت اور بے توقیر ہوگئی۔سانحہ مشرقی پاکستان کے دنوں میں بھی مسئلہ قوم کی درست نمائندگی کا تھا۔ مسئلہ آج بھی یہی ہے۔عمران خان کے کانوں میں پتا نہیں کس نے یہ پھونک دیا کہ پاکستان کی تاریخ میں شفاف انتخابات صرف 1970 کو ہوئے تھے۔ جی نہیں! پاکستان کی تاریخ کے یہ سب سے زیادہ دھاندلی زدہ انتخابات تھے۔ درحقیقت پاکستان میں کوئی بھی انتخاب 1970 کے انتخابات سے بہتر ہی ہوا ہے۔ یہ انتخابات نہ تھے بلکہ ایک منظم منصوبے کے تحت عوامی لیگ کو کھل کھیلنے کا موقع تھا۔انتخابات کے لئے شیخ مجیب کا اصرار ناقابلِ فہم تھا۔ کُھلنا اور دیگر ساحلی علاقوں میں خوف ناک سمندری طوفان نے کم وبیش ایک لاکھ لوگوں کو نگل لیاتھا۔ عام طور پر فوجی حکمران انتخابات کے التوا کے بہانے ڈھوندتا ہے مگر یحییٰ خان نے اس کے باوجود انتخابی شیڈول کو ذرا بھی تبدیل نہیں کیا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے طاقت کے تمام اداکار مل کر ایک بڑے ڈرامے کے تمام مناظر اپنے اپنے وقت پر کرنے کے لئے عجلت میں تھے۔ پھر جب انتخابات ہوئے تو عوامی لیگ نے مخالفین کے خلاف ننگی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ وہ مقابلے پر نہیں فتح کے لئے میدان میں اُترے تھے۔ خود شیخ مجیب الرحمان کی کامیابی مشکوک تھی اور اُن کی فتح پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔خواجہ خیر الدین اُن کے مقابل امیدوار تھے۔ جنہیں بغیر دھاندلی کے ہرانا بہت ہی مشکل تھا۔غلط ووٹ ڈالے گئے تھے۔عوامی لیگ پورے مشرقی پاکستان کے انتخابات میں رائے دہندگان پر ہر طرح سے اثر انداز ہوئی۔ انتخابات کے بعد بجا طور پر یہ سوال اُٹھ گیاتھا ۔بنگلہ دیش کے قیام کا سہرا اپنے سر باندھنے والی جماعت کی روبہ زوال انتخابی مقبولیت کو ’’طاقت‘‘ کے ذریعے سہارا دیاگیا۔یہ سب کچھ نہایت پر اسرار ماحول میں ہوا۔

درحقیقت 1970 کے انتخابات میں عوامی لیگ نہیں دھاندلی جیتی تھی۔ مگر حقائق پر تاثرات نے حکمرانی کی۔ سیاست میں حقیقت پسِ منظر میں چلی جاتی ہے اور تاثر پیشِ منظر بن کر منظر نامے پر رقصاں رہتے ہیں۔ بدقسمتی دیکھئے کہ اب یہ تمام تاریخی حقائق مدفون ہوگئے اورعمران خان کے نزدیک 1970 کے انتخابات سب سے زیادہ قابلِ اعتبار ٹہرے۔درحقیقت 1970 کے انتخابات کو سب سے زیادہ شفاف کہنے کا مطلب ایک خاص طرح کی حجت کو مضبوط کرنا ہے۔ جسے نادانستہ عمل سمجھا نہیں جاسکتا۔ دسمبر کے آس پاس پاکستان کی فضاؤں میں ایک بار پھر حقیقتوں کو دھندلا دیا گیا ہے اور قوم کو تاثرات کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کے تاثر کے اژدہے نے مشرقی پاکستان کی حقیقت کو نگل لیا تھا۔ سیاست میں تاثر بسا اوقات حقیقت سے زیادہ موثر ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش کے سانحے نے اِسی تاثر کی کوکھ سے جنم لیا تھا جس نے پیدا ہوتے ہی ’’حقیقت ‘‘کا خون پیا۔ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر حقیقتیں نہیں تاثرات حکمرانی کر رہے ہیں۔ افسوس کوئی بھی اپنے ناجائز مغالطوں کے نسب نامے پر غور کے لئے تیار ہی نہیں۔ ایک جھوٹے فخر کے ساتھ سب ہی اپنے اپنے فرضی ’’پانی پت‘‘ کے میدانوں میں حملے کر رہے ہیں۔ مگر اس دفعہ بھی حالی کا حال نہیں ملک کا حال ابتر ہو رہا ہے۔بلاشبہ ہمارے مسئلے بہت بڑے مگر بلا امتیاز ہمارے رہنما نہایت بونے ہیں!!!

مزید : کالم