کٹھ پتلی انتظامیہ بھارتی فو ج کے بل پر نوجوانوں کامستقبل تاریک بنانے پر مصر ہے،شبیر شاہ

کٹھ پتلی انتظامیہ بھارتی فو ج کے بل پر نوجوانوں کامستقبل تاریک بنانے پر مصر ...

سرینگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند جماعتوں نے کہا ہے کہ کشمیریوں نے نام نہاد انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا ہے ، بھارتی حکومت دنیا کا اپنی کامیابی دکھانے کے لیے بڑھا چڑھا کر ٹرن اوٹ بیان کررہی ہے ۔حریت (جے کے)، دختران ملت، مسلم لیگ دھڑوں، متحدہ جہاد کونسل، ڈی پی ایم نے کہا کہ ایک طرف انتخابات منعقد کرکے جمہوریت کے سلسلے میں بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں اور دوسری طرف ہمیں عوام کے پاس اپنا نقطہ نظر پیش کرنے سے باز رکھا جارہا ہے ،شبیر شاہ نے کہا کہ ہم ان انتخابات کے نتیجے میں بننے والی سرکار کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ انتخابات کے دوران جن جمہوری اصولوں کی پاسداری اور آبیاری کے دعوے کئے گئے وہ سارے ڈھکوسلے اورایک فریب ثابت ہوئے اور آزادی پسند قیادت کو بند کرکے اس بات کا ثبوت پیش کیا گیا کہ بھارت جموں کشمیر میں قوائد و ضوابط اورط کسی قانون کو کسی خاطر میں نہیں لاتا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا جموں وکشمیر پر قبضہ ناجائز ہے اور اسی لئے وہ اپنے حاشیہ برداروں اور فوجی طاقت کے بل پر ریاست میں من مانی کررہا ہے ۔

شبیر شاہ نے ریاست میں انتخابات کے دوران نوجوانوں کی گرفتاری پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ہر انتظامیہ پولیس اور فوج کے بل پر نوجوانوں کے مسعقبل کو تاریک بنانے پر مصر ہے اور ان قوم دشمنانہ حرکتوں کی وجہ سے وادی ایک جیل میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ ادھر دختران ملت کی سربراہ سیِدہ آسیہ اندرابی نے سرینگر ،اسلام آباد (اننت ناگ) اور شوپیاں کے عوام سے اپیل کی کہ چوتھے مرحلہ کی پولنگ کا فقید المثال بائیکاٹ کرکے اپنے ذی شعور اور ذی حس ہونے کا ثبوت دیں۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کا رائے شماری یا حق خود ارادیت کے ساتھ دور کی بھی مماثلت نہیں لیکن بھارت عالمی رائے عامہ کو یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں، اسلئے اس پروپیگنڈا کا منہ بند کرنے کیلئے الیکشن بائیکاٹ نا گزیرہے

آسیہ اندرابی نے نے حریت پسند عوام سے کہا کہ الیکشن میں حصہ لینے والے تمام افراد بھارت کے عزائم کو پورا کرنے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اس دوران محبوس مسلم لیگ چیئرمین مسرت عالم بٹ نے سرینگر،اسلام آباداور شوپیاں کے عوام سے اپیل کی کہ وہ الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں اور دی جارہی قربانیوں کی حفاظت کریں ۔ترجمان کے مطابق مسرت عالم نے جیل سے بھیجے گئے بیان میں کہا کہ جب تک نہ بھارت جموں وکشمیرکے عوام کو ان کا بنیادی اور پیدایشی حق ، حق خودارادیت فراہم نہیں کرتا ،جدوجہد جاری و ساری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دس لاکھ سے زیادہ افواج اور دیگر سیکورٹی کی موجودگی میں الیکشن ڈرامہ رچانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بھارت اب زیادہ دیر تک جموں وکشمیر پر قابض نہیں رہ سکتا ۔ادھر متحدہ جہاد کونسل کے سیکریٹری جنرل اور تحریک المجاہدین کے امیر شیخ جمیل الرحمان نے کہا ہے کہ بھارتی آئین کے تحت انتخابات کو مسترد کرنے کاآپشن ہماری ترجیحات میں اس لئے شامل ہے کہ ان انتخابات میں شرکت سے شہدا کے مقدس خون کے ساتھ غداری نہیں کی جا سکتی ہی۔ انہوں نے کہاکہ روز مرہ کے مسائل کے حل کے لئے مسلہ کشمیر کے حقائق دفن نہیں ہو سکتے ہیں۔جمیل الرحمان نے کہاکہ بھارت بندوق کے سائے میں ہونے والے یہ الیکشن ریفرنڈم کا متبادل نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ عوام نے آزادی کے لئے بے شمار قربانیاں دی ہیں، کرسی اور اقتدار و مراعات کی لالچ میں ان قربانیوں کا سودا کرنے والوں سے قوم ضرور حساب لے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم اقتدار کے لئے قربانیاں نہیں دے رہے ہیں اور نہ ہی ہمارے اسلاف نے کبھی ایسا کیا۔مسلم لیگ کے محبوس سربراہ مشتاق الاسلام نے الیکشن کو ایک لاحاصل اور سازشی عمل قرار دیتے ہوئے سرینگر ،اسلام آباد اور شوپیان کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی عمل سے دور رہیں ۔انہوں نے کہا کہ 7لاکھ فوج کی موجودگی میں چناؤ اور ان انتخابات میں منتخب ہونے والے ممبران کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ تعمیر واترقی کلے نام پر بھارت نواز سیاسی پارٹیاں بھارت کے قبضے کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں ۔بیان کے مطابق لیگ کے کارکنوں نے سرینگر اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں الیکشن مخالف پوسٹر اور مواد عوام میں تقسیم کیا۔ڈیموکریٹک پو لٹیکل مومنٹ کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی نے کہا کہ لاکھوں فورسز اہلکاروں کی موجودگی میں انتخابات منعقد کرانا اس کی اعتباریت کو ظاہر کرتا ہی۔ انہوں نے کہا کہ رواں انتخابی عمل ایک لا حاصل عمل ہے اور حکومت ہند انتخابات کا ڈرامہ رچا کر اقوام عالم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید : عالمی منظر