ستاروں کے نظاروں کے شوقین افراد نے شہابیوں کی سالانہ بارش کا دیدار کیا

ستاروں کے نظاروں کے شوقین افراد نے شہابیوں کی سالانہ بارش کا دیدار کیا

نیویارک (این این آئی)ستاروں کے نظاروں کے شوقین افراد نے اتوار کی رات شہابیوں کی سالانہ بارش کا دیدار کیا ہے۔ماہر فلکیات کے مطابق سالانہ جوزائیہ (جیمنائی) شہابیوں کی بارش اتوار کی رات یہ اپنے عروج پر رہی۔ رپورٹ کے مطابق اپنے عروج پر جوزائیہ ہر گھنٹے 50 سے 100 شہاب ثاقب چھوڑتے ہیں ٗ ان سے بیک وقت مختلف قسم کی روشنی نکل سکتی ہے اور کبھی کبھی یہ جلدی جلدی یا بیک وقت دو تین کی تعداد میں پھوٹ پڑتے ہیں۔ماہر فلکیات کے مطابق اسے دیکھنے کا بہترین وقت صبح دو بجے ہے جب نقطہ نور بالکل سر پر اور جوزائیہ ستاروں کی کہکشاں کے پاس ہوتا ہے اور یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ شہابیے وہیں سے پھوٹتے ہیں۔ماہر فلکیات کے مطابق اس کا نقطہ عروج دن میں گیارہ بجے تھا تاہم دن کی روشنی کے سبب اسے دیکھا نہیں جا سکا تاہم یہ رات بھر جاری رہا اور اسے رات میں 10 بجے کے بعد کہیں بھی دیکھا جا سکتا تھا۔سوسائٹی آف پاپولر ایسٹرونومی کے صدر روبن سکیجیل نے کہا کہ جھرمٹ آسمان میں بہت اونچائی پر ہوگا اور چاند وہاں سے گذر چکا ہوگا۔

ہر منٹ ایک شہابیہ اچھی شرح ہوگی اور یہ ممکن بھی ہے آپ ایک ساتھ دو تین شہابیوں کے چھوٹنے کے منظر سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شہابیوں کی بارش اس وقت ہوتی ہے جب زمین دم دار تاروں کی دھول کے راستے سے گذرتی ہے اور بعض چھوٹے عناصر جو ریت کے ذرے کے برابر ہوتے ہیں وہ زمین کے ماحول میں آ کر جل اٹھتے ہیں۔جوزائیہ اس معاملے میں مختلف ہیں کہ وہ مکمل طور سے برفیلے دم دار تارے سے جھڑے ہوئے نہیں ہوتے تاہم وہ دم دار تارے اور شہابیے کی ایک انجمن ہوتے ہیں۔جوزائیہ شہابیے کی بارش کی پہلی بار 1860 کی دہائی میں نشاندہی کی گئی اور وقت کے ساتھ اس میں تیزی آتی گئی۔

مزید : عالمی منظر