معافی کس سے اور کس لئے؟ ( 1)

معافی کس سے اور کس لئے؟ ( 1)
معافی کس سے اور کس لئے؟ ( 1)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

16 دسمبر 2014ء کو سقوطِ ڈھاکہ کے سانحہ کو 43سال پورے ہو جائیں گے۔۔۔یہ دن جب بھی آتا ہے اسلامیانِ پاکستان کے زخموں کو ہرا کر جاتا ہے۔ 1971ء میں اس دن پاکستان کے ایک بازو مشرقی پاکستان کو بزور شمشیر ہم سے جُدا کر کے ایک نیا آزاد ملک بنگلہ دیش وجود میں لایا گیا۔ جن لوگوں نے یہ سانحہ اپنے سامنے ہوتے دیکھا، انہیں اس کی وجوہات معلوم ہیں اور وہ اس صدمے کی یاد ابھی تک نہیں بھولے، لیکن نئی نسل کو اس سانحہ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بتائی جاتی ہیں کہ وہ اپنا سر شرم سے جھکا لیتے ہیں۔ اس سانحہ کے زخم اس وقت زیادہ ٹھیس پہنچاتے ہیں، جب بعض کالم نگاروں اور اخبار نویسوں کی طرف سے ببانگ دہل یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کو 1971ء کے واقعات پر معافی مانگنی چاہئے۔۔۔بچپن میں کسی دانش ور کا قول پڑھا تھا کہ جب دنیا میں جھوٹ اس قدر عام ہو جائے کہ وہ سچ معلوم ہونے لگے، تو پھر اس قدر سچ بولوکہ وہ جھوٹ معلوم ہو۔

سانحۂ مشرقی پاکستان کے حوالے سے خاص، طور پر نو ماہ پر محیط جنگ کے حوالے سے جتنے جھوٹ بولے گئے ہیں، ان سب نے سچ کا روپ دھار لیا ہے۔ اس سچ نما جھوٹ کی تکذیب کے لئے کوئی جھوٹ نما سچ بولنے کو تیار ہے نہ سننے کو، کیونکہ ایسے افراد پر انتہا پسند اور دہشت گرد کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ کون کس سے معافی مانگے اور کیوں مانگے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے مکمل محنت، تحقیق اور جستجو درکار ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر آج تک لکھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں اس سانحہ کے حوالے سے کچھ کتب، کچھ بیانات اور کچھ تبصرے چھپے ہیں، جنہیں پڑھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ آیئے! ان میں سے چند ایک کا تجزیہ کرتے ہیں۔سانحۂ مشرقی پاکستان کے حوالے سے بنگلہ دیش کی عوامی لیگ، اور خاص طور پر حسینہ واجد اور اس کے قریبی ساتھیوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دوران جنگ تقریباً 30 لاکھ کے قریب بنگالیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ ان میں عام شہری بھی تھے، مکتی باہنی کے افراد ، بنگلہ دیش کے صاحبانِ علم اور سیاسی کارکن بھی۔

یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس قتل عام میں پاکستان کی فوج نے حصہ لیا، جسے مقامی باشندوں کی عملی معاونت حاصل تھی، اور جس میں البدر اور الشمس نامی تنظیموں کے کارکن شامل تھے۔ ان دعووں کی روشنی میں عوامی لیگ اور کچھ پاکستانی افراد کی طرف سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان جنگی جرائم پر پاکستان کو بنگلہ دیش سے معافی مانگنی چاہئے۔ ابھی حال ہی میں 2 دسمبر کو بنگلہ دیش کی ایک نام نہاد عدالت نے ایک برطانوی صحافی کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے مضامین اور بلاگ میں دوران جنگ ہلاک ہونے والے افراد پر سوال اُٹھایا تھا۔اس کے بقول اگر اس تعداد پر یقین کر لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ روزانہ گیارہ سے بارہ ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ یہ تعداد خلاف حقیقت ہے۔ یاد رہے کہ اس صحافی ڈیوڈ برگمان کا نہ تو جماعت اسلامی سے کوئی تعلق ہے اور نہ پاکستانی فوج سے۔ وہ عرصہ دس سال سے ڈھاکہ میں مقیم ہے اور ایک مشہور انسانی حقوق کی علمبردار خاتون کا شوہر ہے۔ ڈیوڈ برگمان کو 1994ء میں ایک ایسی دستاویزی فلم بنانے پر ایوارڈ سے نواز ا گیا، جس میں اس نے ایسے افراد کی نشاندہی کی تھی، جو بنگلہ دیش کی جنگ کے دوران جنگی جرائم میں ملوث تھے اور برطانیہ میں قیام پذیر تھے۔ ظاہر ہے ایسے افراد کی ہمدردیاں عوامی لیگ کے مخالفین کے ساتھ نہیں ہو سکتیں۔

جنرل ایوب خان مرحوم کے دور کے آخری دنوں میں شیخ مجیب الرحمن پر اگرتلہ سازش کیس قائم کیا گیا۔ بدقسمتی سے مغربی اور مشرقی پاکستان میں جمہوری مجلس عمل کے تحت چلائی جانے والی تحریک کے نتیجے میں مجیب الرحمن کو رہا کرنا پڑا۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس پر غداری کا مقدمہ بد نیتی سے قائم کیا گیا، اس کیس کی کوئی حقیقت نہ تھی، لیکن حال ہی میں منظر عام پر آنے والی کچھ تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کیس اتنا بھی خلاف حقیقت نہیں تھا۔2005ء میں ایک بنگلہ دیشی مصنف ایس۔ اے کریم نے شیخ مجیب کی سوانح عمری لکھی ہے جس کا عنوان ہے۔ Sheikh Mujeeb Triumph & tragedy۔ یعنی ’’شیخ مجیب، کامیابی اور المیہ، اس کتاب میں مصنف لکھتا ہے کہ مجیب الرحمن کے ذہن میں ایک عرصے سے مشرقی پاکستان کی آزادی کا سوال سمایا ہوا تھا۔ مشرقی پاکستان کی آزادی کی جدوجہد میں کسی غیر ملک کی حمایت کا خیال اس کے ذہن میں سبھاش چندر بوس کی تحریک سے پیدا ہوا۔اس امکان کو مزید پروان چڑھانے کے لئے اس نے جنوری1963ء میں اگرتلہ کا دورہ کیا اور وہاں تری پورہ کے وزیراعلیٰ ستیندر ناتھ سنہا سے ملاقات کی۔مصنف لکھتا ہے کہ اس واقعے کے پانچ سال بعد اس پر مقدمہ قائم کیا گیا۔ اس کے ثبوت ظاہر ہے پاکستان کے پاس نہیں تھے، کیونکہ پاکستان کی ایجنسیاں بروقت اور صحیح معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

22فروری2013ء کو بنگلہ دیش اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر شوکت علی نے اگرتلہ سازش کیس کے مجرموں کی رہائی کی44ویں سالگرہ کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کی نصاب کی کتب میں اگرتلہ کیس کے حوالے سے صحیح معلومات درج کی جائیں۔ اس نے کہا کہ ہم نے اس وقت ایک حکمت عملی کے تحت اس وقت اس واقعے کی حقیقت سے انکار کیا تھا، لیکن آج وقت آ گیا ہے کہ قوم کو سچ بتایا جائے۔ اس نے کہا کہ 16دسمبر 1971ء سے قبل کچھ بنگالیوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ایک دوسرے مصنف سید بدر الاحسن نے اگرتلہ کیس کی 38ویں سالگرہ پر کیس کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ مجیب الرحمن کے ذہن میں مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا خیال بڑی دیر سے سمایا ہوا تھا۔ اس نے اس خیال کا اظہار اپنے مربی اور قائد حسین شہید سہروردی سے1957ء میں کیا، لیکن سہروردی نے یہ خیال رد کر دیا۔ مصنف مزید لکھتا ہے کہ اس کیس کی سماعت کے دوران جب مجیب الرحمن کو عدالت میں لایا گیا تو اس نے اخبار نویسوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اخبار نویسوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔جب اس نے دوبارہ اخبار نویسوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا تو ایک اخبار نویس نے کہا:’’مجیب بھائی! ہم آپ کے پاس نہیں آ سکتے، فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکار موجود ہیں‘‘۔مجیب الرحمن اونچی آواز میں چیخا کہ جس نے بنگلہ دیش میں رہنا ہے، اُسے میری بات سننا ہو گی۔

یاد رہے کہ یہ بات19جون1968ء کی ہے۔اس بات کی تصدیق خود حسینہ واجد نے بھی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ اگرتلہ سازش کیس سے رہائی کے کچھ مہینے بعد مجیب الرحمن22اکتوبر کو لندن پہنچا۔ایک دن بعد وہ خود بھی اٹلی سے وہاں پہنچی، اس موقع پر مجیب نے کچھ افراد سے بنگلہ دیش کی آزادی کے حوالے سے ایک میٹنگ کی اور پورا منصوبہ ترتیب دیاکہ جنگ کب شروع ہوگی ، لوگوں کو مسلح جدوجہد کی تربیت کب اور کہاں دی جائے گی اور مہاجرین کہاں پناہ گزین ہوں گے؟ وہ کہتی ہے کہ16دسمبر1971ء سے دو سال قبل آزادی کا پورا خاکہ ترتیب دیا گیا تھا۔ جنرل مانک شا نے لکھا ہے کہ اس خواب کی تکمیل کے لئے ہم نے ،یعنی بھارتی فوج نے80ہزار سے زیادہ ہندوؤں کو تربیت دے کر مکتی باہنی جیسی تنظیم کھڑی کی۔ان میں سے کچھ پاکستانی فوج کی وردی میں تھے اور کچھ عام لباس میں۔ ان کا کام عورتوں کی عصمت دری اور قتل و غارت کا بازار گرم کرنا تھا۔اس حوالے سے زیادہ تفصیل2013ء میں چھپنے والی جی رامر کی کتاب ’’کاؤ بوائز آف را: ڈاؤن ممیری لین‘‘ میں درج ہے۔ یہ کتاب رامیشور ناتھ کاؤ کی سرگرمیوں اور کارکردگی پر مشتمل ہے، جو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا اس کے قیام کے وقت سربراہ بنا۔

اس تحریر کے مطابق اندرا گاندھی نے1968ء میں مشرقی پاکستان کو آزادی دلانے کا فیصلہ کیا اور اس کام کی تکمیل کے لئے ’’را‘‘ کو قائم کیا گیا، اس سے پہلے خفیہ کارروائیاں آئی بی کی ذمہ داری تھی۔مصنف کے مطابق ’’را‘‘ کے ذمے پانچ کام لگائے گئے۔۔۔ خفیہ اطلاعات کی فراہمی، بنگالیوں کی مسلح جدوجہد کے لئے تربیت،ان بنگالیوں سے رابطہ جو مغربی پاکستان میں تعینات تھے، پاکستانی سفارت خانوں میں تعینات بنگالیوں سے رابطہ اور نفسیاتی جنگ، نفسیاتی جنگ کا مقصد پاکستانی فوج کے مظالم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور اس بات کا اہتمام کرنا تھا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور حکومتوں کی توجہ پاکستان کے بارے میں پھیلائی جانے والی جھوٹی کہانیوں پر مبذول رہے۔

درج بالا تحریر سے دو تین باتیں واضح ہوتی ہیں۔ اول تو یہ کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا۔ دوسرا یہ کہ ان واقعات میں بھارت کی تربیت یافتہ مکتی باہنی کے افراد ملوث تھے جوکہ مذہب کے لحاظ سے ہندو اور پاکستانی فوج کی وردیوں میں ملبوس تھے۔ تیسری بات یہ کہ پاکستانی فوج کا سامنا بنگلہ دیش کی آزدی کے لئے لڑنے والے افراد سے نہیں، بلکہ براہ راست بھارتی فوج سے تھا، جس کو عملی طور پر مقامی ہندوؤں کی معاونت اور حمایت حاصل تھی۔کیا اس کے باوجود بعض حلقوں کی طرف سے کیا جانے والا یہ مطالبہ درست ہے کہ پاکستان کو بنگلہ دیش سے معافی مانگنی چاہئے؟

یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کوئی مطالبہ اس وقت کیوں نہ کیا گیا، جب پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ہندوستانی وزیراعظم اندرا گاندھی کے ساتھ شملہ معاہدہ کیا اور93ہزار پاکستانی فوجیوں کی رہائی عمل میں آئی یا پھر یہ مطالبہ اس وقت کیوں سامنے نہ آیا، جب ذوالفقار علی بھٹو نے فروری1974ء میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور عوام کے ایک بہت بڑے ہجوم نے استقبالیہ نعروں سے اس کو خوش آمدید کہا۔اگرچہ اس موقع پر کچھ افراد نے اس کے واپس جانے کے نعرے بھی لگائے،جس کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو کا بیان تھا کہ مخالفانہ ہجوم شیخ مجیب الرحمن کے ایماء پر اکٹھا کیا گیا تھا۔۔۔کیا لوگوں کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کا والہانہ استقبال اس بات کا مظہر نہیں ہے کہ بنگلہ دیشی عوام کو پاکستانی عوام سے کوئی رنجش نہیں تھی۔

ہاں! اگر معافی مانگنی ہے تو سیاست دانوں اور فوج کو پاکستانی عوام سے معافی مانگنی چاہئے کہ وہ بھارتی سازشوں سے آگاہ نہ ہوسکے اور اس کی طرف سے روا رکھی جانے والی کارروائی کا کوئی سدِ باب نہ کر سکے۔معافی مانگنی ہے تو ان بے گناہ عورتوں اور مردوں سے مانگنی چاہئے، جنہوں نے1947ء میں ہجرت کے دوران اپنی جانیں گنوائیں اور اپنی عصمتیں لٹائیں، اس بات پر ان کی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے آزاد ملک کی ہم حفاظت نہ کر سکے۔اگر معافی مانگنی ہی ہے تو قائداعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کی روحوں سے مانگنی چاہئے کہ انہوں نے جو خواب دیکھا تھا، اس کی تکمیل تو ہوئی، لیکن ہم اس کو مکمل طور پر پروان نہ چڑھا سکے۔

مزید : کالم