ساکھ کا ہی خیال رکھیں

ساکھ کا ہی خیال رکھیں
ساکھ کا ہی خیال رکھیں

  

ریگستانی ضلع تھرپارکر کے دور دراز علاقے چھاچھرو کے اسپتال میں ایک تھانے دار بھاگتا ہوا آیا ۔ انہوں نے جلد بازی میں اپنا موبائل فون لیاقت میڈیکل یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نوشاد علی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ کے لئے ایس پی صاحب کا فون ہے۔ ڈاکٹر نوشاد نے فون سنا اور اپنے ارد گرد موجود اپنی یونی ورسٹی کے پروفیسر حضرات سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ آپ لوگ کل (جمعہ کے روز) اپنے کیمپ ختم کردیں اور واپس چلے جائیں۔ ایک پروفیسر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نوشاد سخت مایوس تھے۔ ابھی یہ لوگ یہ طے ہی کر رہے تھے کہ کیا کرنا ہے۔ فون دوبارہ آیا۔ اسی تھانے دار نے فون ڈاکٹر نوشاد کو دیا اور کہا کہ دوبارہ آپ کے لئے کال آئی ہے۔ ڈاکٹر نوشاد نے ناگواری کے ساتھ فون سنا اور صرف اتنا کہا کہ ٹھیک ہے۔ فون ختم ہونے کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں کو دوبارہ بتایا کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ آج ہی چلے جائیں اور مجھے کہا گیا ہے کہ کراچی پہنچ کر رات نو بجے وزیر اعلی سے ملاقات کروں۔ آپ لوگ سارے لوگوں کو مطلع کریں کہ واپسی کی تیاری کریں اور میں کراچی جارہا ہوں۔ ڈاکٹر نوشاد کے ساتھ ان کے اہل خانہ بھی تھے، وہ کراچی کے لئے نکل گئے ۔ کہاں میڈیکل یونی ورسٹی کے وائس چانسلر اور کہاں ایس پی ؟ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی کی مثال صادق آتی ہے۔ ایس پی عاشق علی بزدار کو اخلاقی تقاضے کے تحت خود چل کر وائس چانسلر سے ملاقات کے لئے آنا چاہئے تھا ۔ وائس چانسلر تھر پارکر میں مہمان تھے اور دو سو افراد پر مشتمل جماعت کے ہمراہ تھرپارکر کے لوگوں کی خدمت کے لئے گئے تھے۔

ڈاکٹر نوشاد علی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ماہ سے یہ تیاری کی تھی کہ پروفیسروں کے ساتھ ساتھ طلباء اور طالبات چلیں تاکہ پروفیسر حضرات بیماروں کو مشورہ اور دوائیں دیں جب کہ طلبا اور طالبات اپنی ریسرچ کریں کہ لوگ کن بیماریوں کا کیوں شکار ہیں اور اس کا حل کیا ہے۔ جب دورے کو ترتیب دیا جارہا تھا تو طلبہ اور طالبات نے جانے کے لئے شوق کے ساتھ اظہار کیا۔ ان میں سے بہت سارے لوگوں نے تو ریگستان نہیں دیکھا تھا اور یہ لوگ ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سے ہی جانتے ہیں کہ تھر پارکر میں کیا ہورہا ہے اسی لئے وہ سب لوگ خود جا کر اپنی آنکھوں سے حالت اور لوگوں کو دیکھنا چاہتے تھے۔ اساتذہ اور طالب علموں نے آپس میں چندے جمع کئے تاکہ راشن کے تھیلے تیار کئے جائیں، دوائیں خریدی جائیں جو لوگوں میں تقسیم کی جائیں۔ پروفیسر حضرات نے اپنے اپنے لفافے تیار کئے جن میں رقمیں رکھی تھیں تاکہ ضرورت مند لوگوں کے حوالے کر دئے جائیں۔ یہ سب کچھ انسانی ہمدردی کے اس جذبے کے تحت تھا کہ ہمیں اپنے لوگوں کی مدد کرنا چاہئے۔

ان لوگوں کے خلوص کی انتہا تھی کہ یونی ورسٹی کی جن بسوں میں یہ لوگ گئے، انہوں نے اس میں استعمال ہونے والا ڈیزل بھی اپنے پیسوں سے خریدا۔ غرض اس ساری مہم میں یونی ورسٹی کا ایک پیسہ خرچ نہیں کیا گیا۔ نتیجہ میں وائس چانسلر ڈاکٹر نوشاد علی سمیت تمام پروفیسر حضرات اور طالب علموں کو سوائے افسوس کچھ اور نہیں ملا۔ حکومت کے کسی ذمہ دار فرد نے ان لوگوں کی پیٹھ نہیں تھپتھپائی اور کسی نے اعلانیہ ان لوگوں کے جذبے کی قدر کی اور نہ ہی اس کی اعلانیہ تعریف کی۔ حکمرانوں اور حکام کے دل کا چھوٹا ہونا ہر کسی کا دل توڑ دیتا ہے۔پاکستان کوآج سخت ضرورت ہے کہ حاکم اور حکام اپنے دل بڑے کریں۔ حکومت کو تو یہ موقع ملا تھا کہ وہ لیاقت میڈیکل یونی ورسٹی کے لوگوں کے دورے کی خوب تشہیر کراتی تاکہ تھرپارکر کے لوگوں کا حکومت پر اعتماد بڑھتا اور کسی خرچے کے بغیر حکومت کی کارکردگی کا ذکر ہوتا ۔ تھرپارکر میں ہونے والی بچوں کی ہلاکتوں سے محفوظ رہنے کا فوری کوئی حل نہیں ہے۔تھرپارکر سے ہی تعلق رکھنے والے ممتاز فزیشن ڈاکٹر بھیکا رام کا کہنا ہے کہ بنیادی وجہ ماؤں میں غذائیت کی شدید کمی ہے۔ بچے غیر صحت مند ماحول میں کمزور پیدا ہوتے ہیں۔ اسپتال دور دراز علاقوں میں نہیں ہیں۔ سڑکیں موجود نہیں ہیں۔ عام طور پر نمونیہ اور ڈائریا کے شکار بچوں کو تاخیر سے اسپتال لایا جاتا ہے ۔

تھرپارکر میں گزشتہ دو سال سے ذرائع ابلاغ میں ضلع ہیڈکوارٹر میں موجود واحد سرکاری اسپتال میں بچوں کی ہلاکتوں کی خبریں روز انہ کا معمول ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں دئے گئے اعداد وشمار تو بہت زیادہ ہیں لیکن ضلع افسر صحت ڈاکٹر جلیل بھڑگری کا کہنا ہے کہ موجودہ سال میں12 دسمبر تک291بچے ہلاک ہو ئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندے کہاں سے اعداد و شمار حاصل کرتے ہیں اور نہ جانے کیوں بے تکا شور زیادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے ہوّا بنا رکھا ہے۔ تھرپارکر گزشتہ دو سال سے خشک سالی کا بری طرح شکار ہے ۔ اس خشک سالی کا خمیازہ صرف غریب لوگ بھگت رہے ہیں اور وہ ہی شکار ہو رہے ہیں۔ یہ ایک طویل بحث طلب معاملہ ہے کہ ریگستانی علاقوں میں رہائش رکھنے والے لوگوں کو خشک سالی کے نتائج سے کیوں اور کس طرح محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں تھرپارکر کے لوگوں کی غربت خوب بکی ہے۔ ملکی سطح پر بھی لوگوں نے ان کی مفلو ک الحالی کا بار بار ذکر کر کے اپنے لئے راستے تو بنائے لیکن ان لوگوں کے دن رات تبدیل نہیں کر سکے۔ وجہ یہی ہے کہ ہر کام میں پیسہ اور پیسہ ہی افضل رکھا گیا اسی لئے غربت بھی سینہ ٹھونک کر کھڑی ہوئی ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں نے ضلع ہیڈکوارٹر پر زیادہ توجہ دی اور حکومت نے تحصیل ہیڈکوراٹر سے آگے بڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ 23 ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلے علاقے کے دور دراز علاقوں میں لوگ ضرورتوں کے محتاج ہی بنے ہوئے ہیں۔ بارش ان کے روز گار کا بنیادی ذریعہ قرار دی جاتی ہے۔ کاشت کاری کا انحصار اور مویشیوں کی افزائش کا تعلق بھی اسی سے ہے۔ پھر بڑے شہروں کو ملانے کے لئے سڑکیں تو موجود ہیں لیکن دور دراز علاقے تو آج بھی ریت پر ہی سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

جس طرح ضلع افسر صحت نے کہا کہ ہلاک ہوجانے والے بچوں کے سرکاری اعداد و شمار ذرائع ابلاغ سے نشر اور شائع ہونے والے اعداد و شمار سے کہیں کم ہیں اس پر کسی ذریعے نے یہ کوشش ہی نہیں کی کہ افسر صحت کے دعوی کی تردید کریں۔ ذرائع ابلاغ اپنے بھرم اور ساکھ کی وجہ سے عام لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں لیکن یہاں وقت کی رفتار کے پیش نظر ساکھ کی کسی کو بھی پرواہ نہیں ہے۔ خبر کو بھرم پر ترجیح دی جاتی ہے خواہ وہ خبر بے بنیاد ہی کیوں نہ ہو۔ لاڑکانہ کی اس خبر کا ہی جائزہ لیا جائے کہ ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ چار نوزائیدہ بچے سرکاری اسپتال میں آکسیجن گیس کی کمی کے باعث ہلاک ہو گئے۔ اسپتال کے ریکارڈ میں آکسیجن بھاری مقدار میں موجودتھی ، کسی رپورٹر نے یہ تحقیق کرنے کی ذمہ داری انجام ہی نہیں دی کہ ہلاکتیں کیوں ہوئیں۔ کسی نے بتادیا کہ آکسیجن نہیں تھی اس لئے اموات ہو گئیں۔ سنی سنائی کو رپورٹر حضرات نے خبر بنا کر آگے بڑھا دیا۔ یہ بے بنیاد بات دانستہ پھیلائی گئی کہ آکسیجن گیس نہیں تھی کیوں کہ اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر سے اسپتال کے بل منظور نہیں کے گئے اس لئے ٹھیکیدار نے آکسیجن فراہم نہیں کی۔ حالانکہ یہ سب کچھ حقیقت کے برعکس تھا۔ دانستہ غلط اطلاع دینے والے شخص کو جو کچھ حاصل ہونا تھا وہ ہو گیا ہوگا لیکن ذرائع ابلاغ کے بھرم اور ساکھ کی قیمت پر حاصل کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کو اپنے بھرم اور ساکھ کو کسی مسابقت یا مقابلے پر ہر حالت میں ترجیح دینا چاہئے۔ صحافت کا بنیادی اصول ہے کہ پہلے نمبر پر غلط خبر نشر کرنے یا شائع کرنے کے بجائے دوسرے نمبر پر رہا جائے لیکن خبر ہر لحاظ سے مصدقہ ہو ۔تاکہ کوئی بھی خبر کی تردید نہ کر سکے۔ اس اصول سے اداروں کو ہی اپنے خبر نگاروں کو آگاہ کرنا ہوگا اور پابند بنانا ہوگا ورنہ یہ تو بھیڑیا آیا والے شور کی مثال ہو گی اور جب بھیڑیا واقعی آئے گا تو گاؤں والے بچانے نہیں آئیں گے تو اس وقت ذرائع ابلاغ کیا کریں گے۔

مزید : کالم