حکومت تمباکو نوشی پر قابو پانے کیلئے سگریٹ انڈسٹری پر مزید ٹیکس لگائے

حکومت تمباکو نوشی پر قابو پانے کیلئے سگریٹ انڈسٹری پر مزید ٹیکس لگائے

لاہور(کامرس رپورٹر) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے حکومت تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کیلئے سگریٹ انڈسٹری پر عائد ٹیکسوں میں سو فیصد اضافہ کرے، تشہیرپر پابندی عائد کرے اور تمباکو نوشی کے قوانین پر عمل درامد یقینی بنائے۔سالانہ سات کروڑ افراد تمباکو نوشی کے سبب مہلک بیماریوں میں مبتلاءہو کر مر جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔روزانہ بارہ سو پاکستانی بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں جن میں سے اکثر تادم مرگ اس لت میں مبتلاءرہتے ہیں۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کا جنرل سیکرٹری نامزد ہونے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سگریٹ مہنگی کرنے سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو گا جس سے اس بیماری میں مبتلا افراد کے علاج کے علاوہ بجٹ خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

 ٹیکس بڑھانے سے تقریباً دو لاکھ افراداور ساڑھے سات لاکھ نوجوان و بچے اس سے محفوظ ہو جائینگے۔نسوار ، گٹکے اور پان میں بھی تمباکو استعمال ہوتا ہے جس پر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔پاکستان میں سوا دو کروڑ بالغ سگریٹ پیتے ہیں اور اب کمپنیاں منافع کی خاطر بچوں اور خواتین کو بھی ٹارگٹ کر رہی ہیں جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔قبل ازیں سینئیر صحافی طارق وارثی، تنویر حسین زبیری، حاجی شیخ مختار احمد، نعیم اکرم قریشی، علامہ اظہار بخاری اور شاعرہ رخسانہ نازی نے کہا کہ انھیں پناہ میں ڈاکٹر مرتضیٰ مغل جیسے فعال اور خدمت کے جزبہ سے سرشار افراد کی ضرورت ہے اور انھیں 21دسمبر کو ہونے والے الیکشن بھاری اکثریت سے کامیاب کروائینگے۔

مزید : کامرس