بھارت کا متعصبانہ رویہ!

بھارت کا متعصبانہ رویہ!

بھارت میں بی جے پی کی حکومت بننے اور نریندر مودی کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی تجزیہ نگاروں کی رائے تھی کہ بھارت کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی ہوگی اور حکومتی رویہ مزید متعصب ہو جائے گا، یہ بالکل درست ثابت ہوا ہے، اگرچہ نریندر مودی نے اپنے عہدہ کی تقریب حلف برداری میں بعض دوسرے ممالک کے سربراہان حکومت کو مدعو کرنے کے ساتھ ہی پاکستان کے وزیراعظم محمد نوازشریف کو مدعو کرکے بہتر اور مثبت تاثر دینے کی کوشش کی، پاکستان کے وزیراعظم کی طرف سے اس سے زیادہ بہتر جواب دیا گیا، حتیٰ کہ ان کو اپنے ملک میں تنقید کا بھی سامنا ہوا، لیکن جلد ہی نریندر مودی اسی صورت میں سامنے آئے جو ان کی وزیراعلیٰ گجرات کی حیثیت میں تھی اور وہاں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا، نوبت یہاں تک پہنچی کہ حریت رہنماؤں کی دہلی، پاکستان کے ہائی کمشنر سے ملاقات ہونے پر اسلام آباد میں خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر ہونے والے مذاکرات منسوخ کرکے یہ سلسلہ ہی ختم کر دیا، حالانکہ بھارتی وفد اسلام آباد میں تھا اور اجلاس شروع ہونے والا تھا، تب سے یہ سلسلہ جڑ نہیں سکا اور التواء کا شکار ہے، بھارت کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ممبئی حادثے کے حوالے سے بھارت کی خواہش پر عمل کرے اور جن افراد کا بھی وہ مطالبہ کرے ان کو بھارتی حکام کے حوالے کر دیا جائے۔پاکستان نے بھی اپنا موقف واضح کر دیا ہے کہ مذاکرات میں پہل اب بھارت کو کرنا ہوگی کہ تعطل اسی طرف سے ہوا ۔

نریندر مودی کے طرز عمل کے اثرات پوری بھارتی حکومتی مشینری پر مرتب ہوئے ہیں۔ اس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹیرنیز، بھارتی افسروں اور اب تو بھارتی عوام کی طرف سے بھی طرز عمل میں تبدیلی کے شواہد مل رہے ہیں،سیمی فائنل ہاکی میچ میں جو ہوا وہ سب کے علم میں ہے، اب تو نوبت اس حد تک آ گئی کہ این جی او پلڈاٹ نے پاکستان کے پارلیمنٹیرنیز پر مشتمل ایک وفد تشکیل دے کر بھارت کے دورے کا اہتمام کیا۔ اس وفد نے وہاں کے مختلف شہروں میں دانشور حضرات اور پارلیمنٹیرنیز سے تبادلہ خیال کرنا تھا، یہ وفد بھارتی متعصبانہ رویے کی وجہ سے دورہ نامکمل چھوڑ کر واپس پاکستان لوٹ آیا ہے۔ لوک سبھا کی سپیکر نے دعوت اور وقت دے کر ملاقات سے انکار کیا اور جے پور میں ماہرین تعلیم اور دانشور حضرات نے بھی وقت دے کر مصروفیت کا عذر کرکے ملنے سے گریز کیا۔ یوں ایسے واقعات سے پاک بھارت تعلقات میں مزید تلخی آتی جا رہی ہے، جبکہ کنٹرول لائن پر فائرنگ اور خلاف ورزی کے واقعات مسلسل جاری ہیں۔

سارک سربراہی کانفرنس کے موقعہ پر کٹھمنڈو میں بھی توقعات پوری نہ ہوئیں اور بڑی مشکل سے بات مصافحہ تک آئی۔ اب تو نریندر مودی وہاں کی اپوزیشن کی تنقید بھی برداشت کررہے ہیں، لیکن ان کے عزائم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ حالات اور واقعات خطے میں امن کے لئے اچھے نہیں ہیں۔ پاکستان بھی ایک ایٹمی ملک ہے۔ ہماری مسلح افواج صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں اور ملکی دفاع کی اہل ہیں، لیکن یہ سب اپنے دفاع کے لئے ہے۔ پاکستان کی طرف سے متعدد بار اظہار کیا جا چکا ہے، تاہم خطے میں پاک بھارت کشیدگی عوامی نقطہ ء نظر سے بہتر نہیں کہ جو رقوم اسلحہ پر خرچ ہوتی ہیں وہ عوامی بہبود پر خرچ ہونا چاہئیں، اگرچہ امن کے لئے دونوں ممالک کو ذمہ داری نبھانا ہے، لیکن بھارتی رویے سے کچھ اچھا محسوس نہیں ہوتا، اب بھارت ہی کو اپنے رویے میں تبدیلی کرنا ہوگی۔پاکستان اور پاکستانیوں کو محتاط رویہ اپنانا ہوگا۔

مزید : اداریہ