کیا رنگارنگ بیانات کی پھلجڑیاں خرمنِ مذاکرات کو بھسم نہیں کر دیں گی؟

کیا رنگارنگ بیانات کی پھلجڑیاں خرمنِ مذاکرات کو بھسم نہیں کر دیں گی؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات شروع ہیں برف پگھل چکی ہے، مذاکرات کے پہلے دور میں ایم او یوز کا تبادلہ ہوا ہے جن میں ایک دوسرے کو تجاویز دی گئی ہیں۔ ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے بڑے پن کے ساتھ آگے چلنا ہوگا۔ مذاکرات مکمل ہونے سے پہلے میڈیا کو آگاہ نہیں کریں گے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کل کوئی حل نکل سکتا ہے، قوم کو مشکل سے نکالیں گے، پی ٹی آئی کے ایک دوسرے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ ٹی وی پر بیان بازی نہیں ہونی چاہیے۔

فریقین نے مذاکرات کے بارے میں اگرچہ اچھی امیدیں وابستہ کی ہیں، لیکن حالات میں کشیدگی بدستور موجود ہے، تحریک انصاف نے پیر کے روز لاہور میں اپنا احتجاج جاری رکھا۔ مختلف سڑکوں پر ٹائر جلائے گئے، جس سے فضا دھواں دھواں ہو گئی، سڑکوں پر ٹریفک کم تھی اور بعض چوکوں پر رکاوٹیں ہونے کی وجہ سے لوگوں نے متبادل راستے اختیار کئے، ٹریفک بند رہی یااسے مشکلات پیش آئیں ،تاہم بہت سے علاقے ایسے تھے جہاں ٹریفک کسی نہ کسی انداز سے جاری رہا، البتہ ایمبولینسوں کو بروقت راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ایک بچی سمیت چار افراد کی موت واقعہ ہو گئی، بہت سی سڑکیں اور مارکیٹیں اگرچہ بند رہیں، تاہم کشیدگی اور اشتعال کے باوجود صورتحال میں کوئی بڑی خرابی پیدا نہیں ہوئی،لاہور کا احتجاج تو اب ختم ہو گیا، اب اگلی باری 18دسمبر کو پورا ملک بند کرنے کی ہے اس لئے دیکھنا ہوگا کہ مذاکرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟فریقین نے اپنے اپنے انداز میں رجائیت کا مظاہرہ بھی کیا ہے اور مذاکرات کی کامیابی کے متعلق مثبت سوچ ہی سامنے آئی ہے، تاہم جب تک بات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی اور کسی باقاعدہ معاہدے کا اعلان نہیں کر دیا جاتا، مذاکرات پر تشکیک کے سائے چھائے رہیں گے۔

14اگست کے بعد جب سے تحریک انصاف کا احتجاج شروع ہوا ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے پہلے بھی کئی دور ہو چکے ہیں، لیکن بالآخر ان کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکا تھا، وجہ غالباً یہ تھی کہ ابھی مذاکراتی ٹیمیں مذاکرات کی میز سے اٹھتی ہی تھیں کہ عمران خان ڈی چوک کے کنٹینر سے اعلان کر دیتے تھے کہ مذاکرات ہوتے رہیں میں وزیراعظم کا استعفا لے کر ہی یہاں سے ہلوں گا۔ ان کا یہ اعلان سن کر دھرنے میں بیٹھے ہوئے لوگ تو شاید خوش ہو جاتے ہوں لیکن مذاکرات کے حوالے سے ایسے اعلانات کا مثبت نتیجہ نہ نکل سکا اور یہ غنچہ بن کھلے ہی مرجھا گیا، اب دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے ہیں تو بھی فریقین کوئی نہ کوئی پھلجڑی چھوڑ دیتے ہیں، خود عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف کی حکومت کے خاتمے کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کو نہ ماننا سیاسی دہشت گردی ہے۔ انہوں نے عمران کے ایجنڈے کو ملک توڑنا قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ ضدی اور عقل سے عاری ہیں اور اقتدار پر شب خون مارنا چاہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ بیانات کی یہ پھلجڑیاں اگر مذاکرات کے خرمن پر گرتی رہیں تو کوئی ایک چنگاری بھڑک بھی سکتی ہے اور یوں مذاکرات کا یہ سلسلہ ایک بار پھر بھسم ہو کر رہ جائے گا۔

بہتر تو یہ تھا کہ اگر مذاکرات ہو رہے تھے تو احتجاج کا سلسلہ روک دیا جاتا اور بیانات کی چاند ماری بھی بند کر دی جاتی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ احتجاج بھی جاری رہا اور شعلہ بار بیانات بھی رک نہ سکے، اس فضا میں بھی اگر مذاکرات جاری ہیں اور ان سے امیدیں بھی وابستہ کی جا رہی ہیں تو پھر یہ رجائیت پرست مذاکرات کاروں کو معلوم ہوگا کہ ان کی خوش فہمیوں کی بنیاد کیا ہے؟ سیاسی مذاکرات میں اونچ نیچ تو ہمیشہ آتی رہتی ہے،لیکن ایسی باتوں سے بہرحال گریز کرنا چاہیے جو مذاکراتی گاڑی کو آگے بڑھنے سے روک دیں۔

آج کا دن (16دسمبر) ہمیں سقوطِ ڈھاکہ کی یاد بھی دلاتا ہے۔ڈھاکہ میں بھی مذاکرات کے کئی دور ہوئے لیکن ہونی ہو کر رہی 70ء کے عام انتخابات کے بعد جن کے بارے میں تاثر تو یہ ہے کہ یہ بڑے آزادانہ اور منصفانہ تھے، لیکن شیخ مجیب الرحمن نے 7دسمبر(70ء) کو الیکشن والے دن پولنگ شروع ہونے کے دو گھنٹے بعد ہی ایک انٹرویو میں بی بی سی کو کہہ دیا تھا کہ ہمارے چھوکرا لوگ تو تمام نشستیں (162) جیتنا چاہتے تھے لیکن ہم نے انہیں کہا ایک بڈھے (نورالامین) کے لئے چھوڑ دو، دوسری راجے(راجہ تری دیورائے) کے لئے چھوڑ دو، نتیجہ بالکل یہی نکلا سب کو معلوم ہے کہ ان انتخابات میں عوامی لیگ کے مدمقابل کسی امیدوار کو نہ انتخابی مہم چلانے کی اجازت تھی نہ ووٹ ڈالنے کی، پولنگ والے دن ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی عوامی لیگ کے کارکنوں نے اپنا کام دکھا دیا تھا، بہرحال یہ انتخابات جیسے بھی تھے، برسراقتدار فوجی حکمران جنرل یحییٰ خان نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے مذاکرات شروع کئے کبھی مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ سے اور کبھی مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی سے، لیکن ساڑھے پانچ نکات مانے جانے کے باوجود ان مذاکرات کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا، ناکامی کے بعد فوجی کارروائی ہوئی، مسلح مزاحمت ہوئی، بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا اور یوں مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا، مذاکرات کا کھیل ناکام ہو گیا، اس لئے تازہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے اس پس منظر کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

اگرچہ ملک کی ساری سیاسی قوتیں مذاکرات پر ہی زور دے رہی ہیں، ایک جرگہ بھی بنا ہوا ہے۔ جرگے والے بھی اپنے اپنے انداز اور اپنی اپنی سیاسی مصلحتوں کو پیش نظر رکھ کر رنگ برنگے بیانات دیتے رہتے ہیں اب یہ دانا و بینا حضرات ہی بہتر جانتے ہوں گے کہ ایسے بیانات سے مذاکرات کی کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے یا پھر ان کی ناکامی کے خدشات ابھرتے ہیں، کہنے کو تو جرگے والے مذاکرات کا ذکر ضرور کرتے ہیں، ان کے سوا انہیں کوئی دوسرا راستہ بھی نظر نہیں آتا، لیکن ان کے بیانات کی تان جب ٹوٹتی ہے تو اس میں سے مایوسی کی ایک شکل ضرور نظر آتی ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں اسفندیار ولی خان کا ایک تازہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان پر نزع کا عالم طاری ہے، انہیں سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے، اس کے باوجود اسفندیارولی کہتے ہیں کہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے دونوں فریقوں کو ضد چھوڑنا ہوگی، ان کی بات کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ضد بازی دونوں جانب سے ہے حکومت کی جانب سے بھی اور عمران خان کی جانب سے بھی، تاہم ان کا یہ بیان ضرور چونکا دینے والا ہے کہ عمران خان کو سیاسی شہید نہیں بننے دیا جائے گا۔ گویا خان صاحب واقعی ایسی کوئی کوشش کررہے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوجانا چاہئے کہ انہیں سیاسی شہید کون بنانا چاہتا ہے؟ اس فضا میں مذاکرات کی کامیابی کے کتنے امکانات ہیں یہ سب پر عیاں ہے، تاہم ان کی کامیابی کے لئے دعا ضرور کی جا سکتی ہے۔

مزید : اداریہ