کے اے ایس بی اکاونٹ ہولڈرز ایک ماہ بعد بھی رقم کے حصول کے منتظر

کے اے ایس بی اکاونٹ ہولڈرز ایک ماہ بعد بھی رقم کے حصول کے منتظر

کراچی (این این آئی) سٹیٹ بینک نے مخدوش صورتحال کے باعث کے اے ایس بی بینک کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے جس کے بعد 6ماہ تک تین لاکھ روپے سے زائد مالیت کے کھاتے داروں کے 59 ارب پھنسنے سے کھاتے دار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک ماہ گزر جانے کے بعد بھی اسٹیٹ بینک کی جانب سے کے اے ایس بی بینک میں تین لاکھ سے زائد رقم رکھنے والے اکاو¿نٹ ہولڈرز اپنی رقم کے حصول کے انتظار میں ہیں۔ بینکنگ ذرائع کے مطابق کے اے ایس بی بینک میں مجموعی اکاوئنٹ ہولڈرز کے 59 ارب روپے تھے جس میں سے 3 لاکھ سے کم افراد کے اکاو¿نٹ میں صرف 2 ارب روپے تھے جبکہ 3 لاکھ سے زائد رقم کے رکھنے والے افراد کے اکاوئنٹ میں 59 ارب روپے ہیں

 جس سے واضح ہے کہ بینک میں اکاو¿نٹ کا 97 فیصد حصہ ان کھاتے داروں کا ہے جن کے اکاو¿نٹ میں 3 لاکھ سے زائد کی رقم ہے۔ اس وجہ سے 3 لاکھ سے زائد کی رقم رکھنے والے کھاتے دار اپنے کاروباری معاملات چلانے سے قاصر ہیں کیونکہ اپنے اکاو¿نٹ سے رقم نہ نکلوانے کی وجہ سے نہ تو وہ کسی کو رقم کی ادئیگی کر سکتے ہیں نہ ہی اپنے ملازمین کو تنخوایں ادا کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے کئی اکاو¿نٹ ہولڈز کے کاروبار خطرے میں پڑ گئے۔ اکاونٹ ہولڈرز کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک جلد سے جلد بینک کی تشکیل نو یا انضمام کےلئے اقدامات کرے تاکہ ہم بحران سے نکل سکیں۔ اکاو¿نٹ ہولڈرز کا کہنا ہے کہ بینک کی نااہلی کی سزا اکاو¿نٹ ہولڈرز کو کیوں دی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کی شقوں کے مطابق 6 مہینوں میں بینک کی تشکیل نو یا انضمام کےلئے اقدامات کرے۔

مزید : کامرس