سال 2014-15 کےلئے سورج مکھی کی کاشت کا ہدف مقرر

سال 2014-15 کےلئے سورج مکھی کی کاشت کا ہدف مقرر

ملتان(اے پی پی) سا ل 2013-14 میں 1 لاکھ 75 ہزار ایکڑ رقبہ پر سورج مکھی کی کاشتہ فصل سے 1 لاکھ55 ہزارٹن پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جبکہ سال 2014-15 کےلئے 86 ہزار 500 ایکڑ رقبہ پر سورج مکھی کی کاشت کا ہدف مقرر کر کے 60 ہزار ٹن پیداواری تخمینہ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔محکمہ زراعت ملتان کے ترجمان نے بتایا کہ سورج مکھی کا شمار اہم خوردنی تیلدار اجناس میں ہوتا ہے کیونکہ اس کے بیج میں اعلیٰ قسم کا تقریباً 40 فیصد تیل ہوتا ہے جس میں انسانی صحت کے لئے ضروری حیاتین اے، بی اور کے پائے جاتے ہیں۔ہم اپنی ملکی ضروریات کا صرف 34 فیصد خوردنی تیل پیدا کر رہے ہیں اور باقی 66 فیصد درآمد کرنا پڑتا ہے۔ آبادی میں اضافہ کی وجہ سے خوردنی تیل کی درآمد میں ہر سال بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

 اسلئے وقت کی ضرورت ہے کہ تیلدار فصلات کی کاشت کوفروغ دیا جائے تاکہ درآمد پر انحصار کم سے کم ہو۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ بہاولپور، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان، وہاڑی اور بہاولنگر کے اضلاع میں سورج مکھی کی کاشت یکم تا 31 جنوری جبکہ مظفر گڑھ، ڈیرہ غازیخان، لیہ، لودھراں، راجن پور اور بھکر کے اضلاع میں اس کی کاشت 10 جنوری تا 10 فروری تک کی جا سکتی ہے۔بہتر پیداوار کے حصول کے لئے اچھے اگاﺅ والے صاف ستھرے دوغلی (ہائبرڈ) اقسام کے بیج ہائی سن 33 ، ہائی سن39 ، این کے 278، ایف ایچ 331 ، ڈی کے 4040 ، اگورا۔4اور 64A93 کاشت کریں۔ 90 فیصد سے زیادہ اگاﺅ والے بیج کی شرح 2.0 سے 2.5 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کریں۔ ترجمان نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ سورج مکھی کی کاشت کےلئے بھاری میرا زمین کا انتخاب کریں۔ زمین کی تیاری کےلئے راجہ ہل یا ڈسک ہل پوری گہرائی تک چلائیں تاکہ پودوں کی جڑیں گہرائی تک جا سکیں۔ دھان والے کھیتوں میں یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ ایسی زمینوں میں سخت تہہ پائی جاتی ہے جس کو گہرا ہل چلا کر ہی ختم کیا جا سکتا ہے، کھیت کا ہموار ہونا بھی ضروری ہے جس کے لئے لیزر استعمال کریں۔

مزید : کامرس