2013ء میں اسلحے کی فروخت میں امریکی ویورپی کمپنیاں سر فہرست

2013ء میں اسلحے کی فروخت میں امریکی ویورپی کمپنیاں سر فہرست

  (آن لائن)مسلح تنازعات اور اسلحے کی خرید و فروخت سے متعلق تحقیقی ادارے ’اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ نے انکشاف کیا ہے کہ 2013ء میں اسلحے کی فروخت کے معاملے میں امریکی اور مغربی یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں سرفہرست رہیں۔’اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ کے مطابق گزشتہ برس یعنی 2013ء میں عالمی سطح پر عسکری ساز و سامان کی فروخت کی سر فہرست ایک سو کمپنیوں کی مجموعی آمدن 402 بلین ڈالر رہی، جو 2012ء کے مقابلے میں دو فیصد کم ہے۔ اس بارے میں یہ تازہ اعداد و شمار یورپی ریاست سویڈن کے دارالحکومت میں قائم اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ یا سپری کی جانب سے پیرکے روز جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں جاری کیے گئے ہیں۔خرید و فروخت کے اعتبار سے عالمی سطح پر سر فہرست ان ایک سو کمپنیوں میں سے اڑتیس کا تعلق امریکا سے، ایک کا کینیڈا سے ہے جب کہ تیس کمپنیاں مغربی یورپی ملکوں کی ہیں۔ سپری کے مطابق ان ممالک کی کمپنیاں دنیا بھر میں اسلحے کی فروخت کی مجموعی تعداد کی پچاسی فیصد کی حصہ دار ہیں۔ادارے کے مطابق 2012ء کے مقابلے میں 2013ء میں اسلحے کی فروخت سے حاصل کردہ منافعے میں کمی توقع سے کم رہی، جس کی وجہ روس کے علاوہ برازیل، بھارت، جنوبی کوریا، ترکی اور چند دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے نئے سپلائرز کی فروخت میں اضافہ رہا۔گزشتہ برس ٹاپ ایک سو کمپنیوں کی فہرست میں شامل دس روسی کمپنیوں کی فروخت کی کْل مالیت اکتیس بلین ڈالر رہی، جو اس سے پچھلے سال یعنی 2012ء کے مقابلے میں بیس فیصد زیادہ ہے۔ اسلحے بنانے اور فروخت کرنے والا روس کا سب بڑا گروپ ’الماز انٹائی‘ سیلز کے اعتبار سے 2012ء میں چودہویں پوزیشن پر تھا جبکہ 2013ء میں وہ بارہویں نمبر پر رہا۔سپری کے ایک محقق زیمون ویزمان نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ روسی دفاعی کمپنیوں کی فروخت میں اضافے کی وجہ عسکری ساز و سامان سے متعلق برآمدات میں اضافہ اور ریاست کے زیر انتظام کمپنیوں میں وسعت بنا۔ ان کے بقول یہ بھی اہم ہے کہ روس اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے اور اپنے عسکری ساز و سامان کو جدید تر بنانے کے سلسلے میں سنجیدہ ہے۔یہ امر اہم ہے کہ سپری کی اس رپورٹ میں معلومات کی عدم دستیابی کے سبب چینی کمپنیوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم ادارے کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ٹاپ ایک سو کمپنیوں کی فہرست میں نو چینی دفاعی کمپنیاں شامل ہو سکتی تھیں۔

مسلح تنازعات اور اسلحے کی خرید و فروخت سے متعلق تحقیقی ادارے ’اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ کی بنیاد سن 1966 میں سویڈش پارلیمان نے رکھی تھی۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق تحقیق کرتا ہے اور اس بارے میں رپورٹ جاری کرتا ہے۔

مزید : عالمی منظر