شام کی مدد نہ کرتے تو عراق بھی کھودیتے ‘ایران

شام کی مدد نہ کرتے تو عراق بھی کھودیتے ‘ایران

تہران(آن لائن)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کے پرنسپل سیکرٹری محمد محمدی کلبا یکانی نے شام میں اسد رجیم کی حمایت پر تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے ناقدین سے کہا ہے کہ اگر تہران، شام کی مدد نہ کرتا تو ہم عراق سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے۔ایرانی طلباء4 کی نمائند خبر رساں ایجنسی’’ایسنا‘‘ کے مطابق سپریم لیڈر کے سیکرٹری نے ان خیالات کا اظہار شیراز شہر میں ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہم سے شام سے غیر مشروط تعاون اور تعلقات کی بابت استفسار کرتے ہیں۔ ہم انہیں ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ اگر ہم شام کی مدد نہ کرتے تو عراق کو بھی کھو دیتے۔ کلبا یکانی کا کہنا تھا کہ عراق میں اہل تشیع کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی السیستانی کے اعلان جہاد نے نجف، کربلا اور بغداد کو بچا رکھا رکھا ہے ورنہ سب کچھ برباد ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عاید کیا کہ وہ شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کی معاونت کر رہے ہیں۔حال ہی میں ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ شام اور عراق میں ایرانی فوجی موجود ہیں تاہم وہ وہاں کی حکومتوں کے مطالبے پر بھیجے گئے ہیں، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مقامی سیکیورٹی فورسز کی تربیتی میدان میں معاونت کر رہے ہیں۔ایرانی حکومت کی جانب سے شام میں متحارب فریقین کے مابین جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن ڈی مستورا کی مساعی کی حمایت کی ہے لیکن دوسری جانب تہران کی جانب سے صدر بشار الاسد کی مالی اور لاجسٹک مدد بھی بدستور جاری ہے۔ایران نے شام کے بحران کے حل کے لیے چار نکاتی ایک فارمولہ تیار کیا ہے۔ دو روز قبل اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کے معاون خصوصی رمزی عزالدین رمزی نے ایران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔بعد ازاں انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتیہوئے بتایا کہ تہران نے شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں ایک چار نکاتی فارمولہ تیار کیا ہے۔اس فارمولے کے تحت پہلے مرحلے میں حلب سمیت تمام جنگ زدہ علاقوں میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کرانا شامل ہے۔ عالمی سطح پر اس تجویز کا خیر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ حلب میں جنگ بندی کا مطالبہ کئی دوسرے ممالک کی طرف سے بھی کیا گیا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ ایران، شام کے بحران کے حوالے سے جو بھی فارمولہ پیش کیا کرے گا اس میں بشار الاسد کو ’’مائنس‘‘ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایران ایک جانب اگلے سات ماہ میں اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری رکھے گا وہیں خطے میں اپنے حلیف ملکوں کی مدد سیبھی دستبردار نہیں ہو گا۔

مزید : عالمی منظر