دنیا کا واحد آدمی جو دو ایٹمی حملوں میں زندہ بچ نکلا

دنیا کا واحد آدمی جو دو ایٹمی حملوں میں زندہ بچ نکلا

ٹوکیو(نیوزڈیسک)آپ نے ’جسے اللہ رکھے‘والا محاورہ تو سن رکھا ہوگا اور اکثر ایسے واقعات بھی سنتے ہوں گے جس میں لوگ مرتے مرتے بچ گئے لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے انسان کے بارے میں بتائیں گے جو دو ایٹم بموں کے حملوں کی زد میں آنے کے باوجود محفوظ رہا۔Tsutomu Yamaguchi نامی جاپانی مٹسوبیشی انڈسٹریز میں آئل ٹینکر ڈیزائنر تھااور اس وقت اس کی عمر 29سال تھی۔وہ 6اگست 1945ءکو اپنا تین ماہ پر مشتمل کام کرکے ہیروشیما سے واپس اپنے گھر ناگا ساکی جانے کے لئے روانہ ہوالیکن ٹرین سٹیشن پر پہنچ کر اسے یاد آیا کہ وہ اپنا سفری پاس بھول آیا ہے جسے لینے کے لئے وہ واپس چلا گیا جبکہ اس کے دوستوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔اس نے اپنا پاس لیا اور واپس سٹیشن کی طرف چل پڑا۔ یہ صبح سوا آٹھ بجے کا وقت تھا جب اس نے فضا میں ایک جنگی جہاز دیکھا جس میں سے دو نامعلوم اشیائ پیراشوٹ سے باندھ کر گرائی گئیں لیکن جیسے ہی یہ دونوں اشیاءزمین سے ٹکرائیں تو جاپان پر قیامت ہی گزر گئی۔ جہاں یہ بم گرے وہ اس مقام سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر تھاجس سے اس کے کان بہرے ہوگئے، آنکھیں چندھیا گئیں جبکہ اس کا نچلا دھڑ بری طرح جل چکا تھا لیکن وہ کسی طرح محفوظ مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جہاں اس کے دو ساتھی بھی موجود تھے۔اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ وہاں رات گزاری اور اگلے دن دوستوں کے ساتھ ناگاساکی جانے کے لئے ٹرین پر سوار ہوگیا۔ناگاساکی پہنچ کر وہ ہسپتال چلا گیا اور اپنی مرہم پٹی کروانے کے بعد تین دن آرام کرکے 9اگست 1945ءکواپنے دفتر پہنچا۔اس کا باس یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا کہ صرف ایک بم نے سارے کا ساراہیروشیما صرف ایک بم سے ملبے کا ڈھیر بن سکتا ہے، اس کے باس نے اس سے کافی جرح کی لیکن پھر بھی اسے یاماگوچی کی باتوں پر یقین نہیں آرہاتھا۔(اس وقت میڈیا اتنا تیز نہیںتھا اور نہ ہی دنیا کو ایٹم بم کی تباہ کاریوں کا علم تھا)۔ابھی ان کی بات جاری تھی کہ اسی دوران سائرن بجنا شروع ہوگئے جس کا مطلب تھا کہ دشمن (امریکہ)کا حملہ ہوچکا ہے جسے سنتے ہی تمام لوگ فرش پر لیٹ گئے۔اس بار شہر کے وسط میں دو بم پھینکے گئے اور وہ بھی یاما گوچی سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔اس بار بھی خوش قسمتی سے اسے کوئی بظاہر چوٹ نہ لگی لیکن خطرناک تابکاری اپنا کام کر رہی تھی۔امریکی طیارے اصل میں ایک اور شہر ’کوکورا ‘کو نشانہ بنانے آئے تھے لیکن اس وقت اس شہر پر بادل تھے جس کے باعث انہوں نے ناگاساکی کی طرف منہ کرلیا لیکن یہاں بھی بادل تھے۔ امریکی طیاروں میں ایندھن کی کمی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے کسی اور شہر کی جانب جانے کی بجائے ناگاساکی کو نشانہ بنا ڈالا۔یاما گوچی ایک خوش قسمت انسان تھا جو ان بموں سے محفوظ رہا لیکن اس نے کبھی بھی اس کا فخر سے ذکر نہیں کیا، اس کی بیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس کا ذکر کرکے ان لوگوں کے دل نہیں دکھانا چاہتا تھا جن کے پیارے اس حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔ وہ 1980ءتک خاموش رہا لیکن بالاآخر اس نے خاموشی توڑی اور جاپانی حکومت کو اپنی کہانی بتائی اور 2009ءمیں اسے جاپانی حکومت نے باقاعدہ طور پر اس فہرست میں شامل کرلیا جس میں لوگ اس ایٹم بم کے گرنے کے باوجود زندہ رہے تھے۔یہ خوش قسمت جاپانی93سال کی عمر میں 4جنوری 2010ءکو جگر اور گردوں کے کینسر سے 93سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔مرنے سے پہلے اس نے کہا تھا کہ وہ تو بونس پر زندگی گزارتا رہا ہے کیونکہ وہ تو ان دو دنوں میں مر سکتا تھا جب خوفناک بموں نے جاپان میں تباہی مچائی تھی لیکن قدرت نے اسے زندہ رکھا اور نئی زندگی دی۔

مزید : علاقائی