آپ فیس بک کے نشے سے نجات کیوں حاصل نہیں کر پا رہے ؟ دلچسپ معلومات

آپ فیس بک کے نشے سے نجات کیوں حاصل نہیں کر پا رہے ؟ دلچسپ معلومات

 نیویارک (نیوز ڈیسک) دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک کے صارفین کی تعداد سوا ارب سے زائد ہے اور اس میں نہ صرف تیزی سے اضافہ ہورہا ہے بلکہ موجودہ صارفین بھی اس کے ایسے شیدائی ہیں کہ ان کا فیس بک کا استعمال دن بدن کسی نشے کی طرح بڑھتا ہی جارہا ہے۔یہ بات واقعی سچ ہے کہ فیس بک نشے کی طرح لگ جاتی ہے اور یہ بلاوجہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے فیس بک کی وہ چالاکی ہے جو آپ کو اس کی طرف کھینچتی ہے۔آخر فیس بک کے پاس ایسا کونسا جادو ہے جو صارفین کو باربار اس کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتا ہے۔ دراصل یہ کوئی جادو نہیں بلکہ فیس بک انتطامیہ کی سخت محنت اور ذہانت ہے جس کا بنیادی ترین جزو یہ ہے کہ فیس بک مسلسل آپ کی پسند کی گئی پوسٹ پر نظر رکھتی ہے اور آپ جب بھی واپس آتے ہیں تو آپ کی پسند کو پیش نظر رکھ کر مناسب ترین پوسٹ سرفہرست دکھائی جاتی ہے۔ آپ کی پسند کا پتہ چلانے کیلئے ایک سادہ طریقہ تو یہ ہے کہ آپ کے ”لائیک“ پر نظر رکھی جاتی ہے لیکن فیس بک یہ بھی پتہ چلاتی ہے کہ آپ کے دوست کس طرح کی پوسٹ لائک کرتے ہیں اور یہ کہ اصل ”لائیک“ اسے ہی سمجھا جاتا ہے جو پوسٹ کو پڑھنے یا دیکھنے کے بعد کرتے ہیں تاکہ وہ جو آپ پوسٹ پر آتے ہی کلک کردیتے ہیں۔اس کے علاوہ ہر وقت ہزاروں صارفین کو کچھ تجرباتی فیچر پیش کئے جارہے ہوتے ہیں اور ان میں سے جو فیچر کامیاب قرار پاتے ہیں ان کی بنیاد پر نئی تبدیلیاں کی جاتی ہیں جن کی وجہ سے آپ کو ہمیشہ وہ پوسٹ سر فہرست ملتی ہیں جن میں آپ کو واقعی دلچسپی ہوتی ہے۔ یہی وہ فارمولا ہے جو فیس بک کے صارفین کو بار بار اس کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتا ہے۔

مزید : علاقائی