شہر ایک مرتبہ پھر تجاوزات کی منڈی میں تبدیل

شہر ایک مرتبہ پھر تجاوزات کی منڈی میں تبدیل

 لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت میں تجاوزات قائم کرنیوالوں کی سرپرستی کر کے شہر لاہور کو تجاوزات کی منڈی میں تبدیل کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والے ٹاؤن ملازمین اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنے ٹاؤنوں میں واپس آ گئے ہیںیہ ٹاؤن اہلکار دوبارہ متحرک ہوگئے ہیں جنہوں نے تجاوزات مافیا کو کھلی چھوٹ فراہم کر دی ہے جس سے شہر ایک مرتبہ پھر تجاوزات کے مراکز میں تبدیل ہو گیا ہے ان ملازمین میں لاہور کے 9 ٹاؤنوں کے ڈیڑھ سو ملازمین کو رشوت خور قرار دے کر ایک سے دوسرے ٹاؤن میں تبدیل کیا گیا تھا اور ان کی تبدیلی کے بعد شہر لاہور کو تجاوزات سے پاک کرنے کیلئے پورے دو ماہ آپریشن کلین اپ کیا گیا جس سے لاہور کے گلی کوچے ، بازار، سڑکیں، شاہرائیں، فٹ پاتھ، سروس روڈ، چوک اور مارکیٹیں تجاوزات سے کافی حد تک پاک ہو گئیں تھیں مگر یہ تسلسل زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکااور ان اہلکاروں نے ملی بھگت سے اپنے تبادلے منسوخ کروا لئے ہیں اور دوبارہ اپنے سابق ٹاؤنوں میں سابق عہدوں پر آ کر دوبارہ تجاوزاتیوں کی سرپرستی شروع کر دی ہے اور اس کے بدلے لاکھوں رو پیہ مہینہ کما رہے ہیں جن سے ایک مرتبہ پھر شہر میں تجاوزات کی بھرمار ہو گئی ہے۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کے مختلف مقامات کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تجاوزاتیوں کی سرپرستی کرنے والوں نے ضلعی حکومت کی تجاوزات کے خاتمے کیلئے کی جانیوالی تمام تر کوششوں کو ایک مرتبہ پھر ناکام بنا دیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹاؤنوں سے نکالے گئے اہلکار وں کی اپنے ٹاؤنوں میں واپسی ہو گئی ہے۔ سابق ڈی سی او لاہور نے تمام ٹاؤنوں میں ایسے ملازمین کی فہرست تیار کی جس میں یہ ثابت ہو گیا کہ شہر لاہور سے تجاوزات ختم نہ ہونے کی بنیادی وجہ ٹاؤنوں کے یہ ملازمین ہیں جس پر راوی ٹاؤن کے 14 ملازمین کو نشتر ٹاؤن اور گلبرگ ٹاؤن تبدیل کیا گیا مگر ڈی سی او کے تبدیل ہوتے ہی ان میں سے 80 فیصد عملہ دوبارہ واپس آ گیا ہے ، شالیمار ٹاؤن سے 7 ملازمین کو عزیز بھٹی ٹاؤن اور گلبرگ ٹاؤن بھجوایا گیا ، اسی طرح عزیز بھٹی ٹاؤن کے ملازمین کو اقبال ٹاؤن ، سمن آباد ٹاؤن اور داتا گنج بخش ٹاؤن تبدیل کیا گیا، واہگہ ٹاؤن سے کرپٹ قرار دیئے گئے ملازمین کو بھی دیگر ٹاؤنوں میں ٹرانسفر کیا گیا مگر یہ ملازمین اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے سابق ٹاؤنوں اور سابق پوسٹوں پر واپس آ گئے ہیں اور انہوں نے تجاوزاتیوں سے ماہانہ طے کر کے تجاوزات کی منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے ڈی سی او کیپٹن(ر) عثمان نے کہا کہ انہیں اس معاملے کا علم نہیں ہے، متعلقہ ڈیپارٹمنٹ یا شعبے سے معلوم کریں گے اگر یہ ثابت ہو گیا تو احکامات واپس کروائیں گے اور ایسے ملازمین کو ٹاؤن ہی نہیں لاہور بدر بھی کروائیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1