انجینئروں نے گیس قلت کو اگلے اڑھائی ماہ کیلئے انتہائی سنگین قرار دیا

انجینئروں نے گیس قلت کو اگلے اڑھائی ماہ کیلئے انتہائی سنگین قرار دیا

لاہور ( خبرنگار) سوئی ناردرن گیس کمپنی کے انجینئروں نے گیس کی شدید ترین قلت کو اگلے اڑھائی ماہ کے لیے انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ 20 دسمبر سے گیس بحران شدید صورتحال میں تبدیل ہو جائے گا اور اگلے اڑھائی سے تین ماہ تک گیس بحران جاری رہے گا۔ جس میں گھریلو سیکٹر گیس بحران کی لپیٹ میں رہے گا جس پر گیس حکام نے گیس پریشر بڑھانے کے لیے ٹرانسمشن لائنوں کمپریروں کی تعداد بڑھا دی ہے جن میں گیس کے پریشر کو بڑھایا جائے گا۔ دوسری جانب گیس واوں کے تمام تر اقدمات کے باوجود گیس کی شدید ترین قلت برقرار ہے اور لاہور میں گیس کی شدید ترین قلت کے خلاف گذشتہ روز بھی صارفین سراپااحتجاج بنے رہے ہیں۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں گیس کی ڈیمانڈ 2800 ملین کیوبک فٹ رہی ہے۔ جس کے مقابلہ میں گیس کا شارٹ فال 1500 ملین کیوبک فٹ رہا ہے، اور گیس نہ ملنے سے ایل پی جی اور لکڑیوں کا استعمال بڑھا دیا ہے، جس کے باعث جہاں ایل پی جی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ جس پر صارفین نے شدید احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک طرف گیس بحران نے سر اٹھا رکھا ہے۔ تو دوسری جانب ایل پی جی اور لکڑیاں نایاب ہو کر رہ گئی ہیں، جس میں جہاں ایل پی جی بلیک میں فروخت ہو رہی وہاں لکڑیاں بھی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں، حکومت گیس بحران کو دور نہیں کر سکتی ہے تو کم سے کم ایل پی جی اور لکڑیوں کی قیمتیں کم کر دیں تا کہ ایل پی جی اور لکڑیاں خرید کر کے گھروں کے چولہے گرم کر سکیں لاہور میں گیس کی شدید ترین قلت کے باعث تندوروں اور ہوٹلوں سے زبردست رش رہا ہے اور شہری گیس بحران کے خلاف سراپا احتجاج بنے رہے ہیں اس حوالے سے گیس کمتر کے حکام کا کہنا ہے کم گیس بحران شدید صورتحال میں تبدیل ہو رہا ہے اس میں صارفین گیس کا کم سے کم استعمال کریں گیزر اور روم ہیٹرز کا استعمال نہ کریں اگر گیزر کا استعمال کرنا بھی ہے تو صرف آدھ گھنٹہ پہلے گیزر کو آن کریں جبکہ کمپریسرز کا اسعمال بالکل نہ کریں تاکہ گیس کا پریشر تمام صارفین تک پہنچ سکے۔

سنگین قرار

مزید : صفحہ آخر