عمران کی سیاست نے مزید 4جانیں لے لیں ،پرویز رشید،لاہوریوں نے پٰی ٹی آئی کی کال مسترد کر دی،شہباز شریف

عمران کی سیاست نے مزید 4جانیں لے لیں ،پرویز رشید،لاہوریوں نے پٰی ٹی آئی کی ...

                                اسلام آباد(اے این این،آ ن لا ئن،اے اےن پی) وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہاہے کہ لاہور میں چار مزید جانیں عمران خان کی سیاست کی نذر ہوگئیں، تحریک انصاف کے سربراہ بنی گالہ سے نکلتے ہی لاشوں پر قدم رکھنا شروع کردیتے ہیں، ایمبولینسوں پر حملے پاک بھارت جنگ میں بھی نہیں ہوئے، عمران خان کے ٹائیگر زقوم کیلئے بھیڑئیے ہیں، عمران خان اب احتجاج ختم کرنے کیلئے کمیشن کی بات کرتے ہیں،13 اگست کو ہی کمیشن پر اعتماد کیا جاتا تو اب تک جوڈیشل کمیشن بن کر اپنا کام بھی مکمل کرچکا ہوتا، عمران خان کی حرکتوں کی وجہ سے قوم میں ان کے خلاف کارروائی پر اتفاق رائے پیدا ہورہا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرویزرشید نے کہا کہ لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے مریضوں کی گاڑیوں کو روکنے اور صحافیوں پر تشدد کا عمل قابل مذمت ہے ۔ ایمبولنسز پر حملے تو پاک بھارت جنگ میں بھی نہیں کیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سیاست نے لوگوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے ہمیں متاثرہ خاندانوں سے پوری ہمدردی ہے ، لاہور میں ایمبولینسز کے راستے روکنے سے چار افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تحریک انصاف کو احتجاج کیلئے فری ہینڈ اور سہولیات فراہم کی تھیں، تحریک انصاف کی قیادت نے دکانیں زبردستی بند نہ کروانے ، مریضوں کی گاڑیوں کو راستہ دینے اور پرامن رہنے کا وعدہ کیا تھا مگر ماضی کی طرح ایک بار پھر اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ملتان کے جلسے میں اس وقت بھی تقریر جاری رکھی جب ان کے پارٹی کے کارکنان دم توڑ رہے تھے ، فیصل آباد میں جس شخص کی ڈیوٹی ٹائر جلانے میں لگائی گئی تھی وہ بھی جل کر راکھ ہوا اور ایک شخص فائرنگ سے بھی مارا گیا ۔ ڈی چوک پر احتجاج وزیراعظم ہاﺅس، پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملے کے دوران بھی لوگوں کو زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑے اور یہ سب کچھ عمران خان کی سیاست کی وجہ سے ہوا۔ کیا عمران خان کا نیا پاکستان قوم کو لاشوں کے تحفے دے گا۔ عمران خان کی سیاست کا مرکزی نقطہ لاشیں بن چکا ہے ۔ تحریک انصاف کے کارکنان اپنی پارٹی کے اشتعال انگیز تقاریر کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں نجی ٹی وی کی رپورٹر ثناءمرزا کے ساتھ جس طرح کی بدتمیزی کی گئی اس سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ عمران خان کے ٹائیگرز نے خواتین صحافیوں کو بھی نہیں بخشا، ان کے ٹائیگرز قوم کیلئے بھیڑئیے ہیں جو قوم کی بیٹیوں کی عزت اور وقار نوچنے کیلئے نکلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کونسی سیاست ہے کہ ا ٓپ کے بھیڑیے ایمبولینسز کو گزرنے نہیں دیتے ، مریضوں کو ہسپتال جانے سے روکا جاتا ہے، صحافیوں کو کام نہیں کرنے دیا جاتا ، تاجروں کو دکانیں نہیں کھولنے دی جاتیں، عدالتوں کو انصاف نہیں کرنے دیے جاتا ، آپ وکلاءکو عدالتوں میں پیش نہیں ہونے دیتے ، سرکاری ملازمین کو دفاتر نہیں جانے دیتے اور محنت کشوں کو بچوں کیلئے روزی کمانے سے روکتے ہیں۔ کیا یہی نئے پاکستان کی تعمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں عمران خان نے تحریک انصاف بمقابلہ عوام کا کھیل کھیلا ہے، عوام نے پوری مذمت کی ہے۔ عمران خان نے خود کو اپنے ووٹ بنک سے محروم کیا، لوگ ناراض ہوئے ، انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے عوام کو میٹرو جیسی سستی اور باعزت سواری دی ۔ تحریک انصاف کے غنڈوں نے سب سے پہلا حملہ میٹروبس پر کیا۔ جہانگیر ترین کی ایئر لائن تو اڑ رہی ہے لیکن غریبوں کیلئے چلائی جانے والی میٹرو بس کو روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان غریب شہریوں کے ساتھ فریب کررہے ہیں انہیں سول نافرمانی اور لوگوں کی دکانیں بند کرانے کیلئے کہا جاتا ہے جبکہ عمران خان کے ساتھ کھڑے لوگ بجلی کے بل اور ٹیکس بھی دے رہے ہیں ان کے کارخانے بھی چل رہے ہیں۔ عمران خان کے ساتھیوں میں ایک بھی غریب نہیں ہے، خان صاحب بتائیں کہ جہانگیر ترین کے کارخانے کب بند کروارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کی مہم جوئی کا مقابلہ ایڈونچر سے نہیں سیاست سے کررہے ہیں۔ غنڈہ گردی کرنے والوں کے منصوبے بے نقاب ہونے چاہیے تاکہ وہ غلط تجربوں سے سیکھ کر اپنی راہ کو درست کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اب کہہ رہے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن بن جائے تو احتجاج ختم کردیں گے ، جوڈیشل کمیشن کیلئے 13 اگست کو خط لکھ دیا تھا۔ عمران خان کو چاہیے تھا اسی وقت جوڈیشل کمیشن پر اعتماد کا اظہار کرتے ، احتجاج شروع نہ کیا جاتا، لاشیں نہ گرائی جاتیں تو 15اگست کو ہی کوئی کمیشن بن جاتا اور اب تک اپنا کام بھی ختم کرچکا ہوتا۔ کمیشن کی تشکیل کے راستے میں عمران خان خود سب سے بڑی رکاوٹ تھے ۔

مزید : صفحہ اول