بچی کو اغوا کرنے والے ملزمان کی متاثرہ خاندان کو دھمکیاں

بچی کو اغوا کرنے والے ملزمان کی متاثرہ خاندان کو دھمکیاں

چھانگامانگا(رانا محمد یوسف) نواحی گاؤں چکوکی میں سکول جانے والی آٹھویں کلاس کی طالبہ کو بد اخلاقی کی غرض سے لے جانے والے 3ملزمان کے خلاف تھانہ چھانگامانگا میں تیرہ سالہ معصوم بچی عینی شمیم کے بھائی اخلاق احمد نے مقدمہ درج کرایا تھا پولیس نے ایک ملزم اکرام کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ 2ضمانت پر دندناتے پھرتے ہیں معصوم بچی عینی شمیم کی والدہ عابدہ پروین نے نمائندہ پاکستان کو روتے ہوئے بتایا کہ ملزمان ذوالفقار علی ،ساجد علی جگا اور محمد اکرام بااثر ہیں پولیس تھانہ چھانگامانگا کے تفتیشی محمد یٰسین ملزم پارٹی سے بھاری رشوت لے چکا ہے جوملزمان کو بے گناہ کرنے کی غرض سے ملزمان کے چچا جمیل سے لے چکا ہے اور محمد یٰسین تفتیشی مجھے کہتا ہے بی بی تمہاری بیٹی کے کپڑے پھٹے ہیں کوئی بد اخلاقی تو نہ ہوئی ہے ملزمان سے صلح کرلو جبکہ جمیل مجھے ہراساں کرنے کے لیے مختلف لوگوں کے ذریعے پیغام بھیج رہا ہے کہ میرے بھتیجوں کی ضمانت کنفرم ہولینے دو تم اور تمہارے بیٹوں شہباز، عمران، اصغر اور اخلاق کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ چکوکی سے منہ کالا کرکے نکالیں گے مجھے جمیل سے جان کاخطرہ ہے کہ کہیں میرے بیٹوں اور بیٹی کو اغواء کرکے قتل نہ کرادیں اس کے ساتھ ہی عابدہ پروین ایک بار پھر زاروقطار رونے لگی کہ میں ڈی آئی جی شیخوپورہ رینج لاہور کے پاس اپنی بیٹی عینی شمیم کو لے کر پیش ہوچکی ہوں مجھے ابھی تک انصاف نہیں ملا۔ اگر مجھے انصاف نہ ملا تو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ہاؤس کے سامنے ماں بیٹی خود سوزی کرلیں گے جب اس سلسلہ میں ہم نے تفتیشی محمد یٰسین کا موقف لیا تو اس کا کہنا تھا کہ کاش میں ایس پی ہوتا تو دودھ کا دودھ پانی کاپانی کردیتا میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں پھر بھی مسجد میں بیٹھ کر ایمان قرآن سے فیصلہ کروں گا۔

مزید : علاقائی