ہمارا پلان ”ڈی “ترقی اور دھرنے والوں کا ”ڈی “تباہی کا منصوبہ ہے ،نواز شریف

ہمارا پلان ”ڈی “ترقی اور دھرنے والوں کا ”ڈی “تباہی کا منصوبہ ہے ،نواز شریف ...

                      چکوال(اے این این،آ ن لائن،ما نےٹر نگ ڈ ےسک،اے پی پی،آ ئی اےن پی) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا پلان ”ڈی“ ترقی ہے،تخریب کاری کا پلان”ڈی“ کسی اور کا ہے،اگلے الیکشن میںہم ترقیاتی منصوبے اور اپنے کارنامے لے کرجبکہ دوسرے اپنے دھرنے،گالیاں،پارلیمنٹ پر حملے اور ملک میں ترقی کا راستہ روکنے کا داغ لے کر عوام کے پاس جائیں گے،ٹائر جلا کر ملک بند کرنے والوں کو قوم کے سامنے حساب دینا ہو گا، حکومتی پلان ڈی میں بھاشا، داسو، تربیلا فور منصوبوں کی تکمیل، کراچی میں پورٹ قاسم اور بہاولپور میں قائداعظم سولر پاور منصوبے شامل ہیں جن کے مکمل ہونے سے گھریلیوں صارفین، کاشتکاروں اور صنعتکاروں کو فائدہ پہنچے گا،اللہ تباہی کا پلان رکھنے والوں سے ملک کو بچائے،جب ہم نے موٹروے شروع کی تب رخنے آتے تھے اب دھرنے آتے ہیں، رکاوٹیں نہ ڈالی گئیں توترقی کا عمل مزید تیزی کے ساتھ آگے بڑھے گااور ملک جلد ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا،ہم پر الزامات نئی بات نہیں،ماضی میں ہمیں پھنسانے کے لئے ہر طرح کی چان بھٹک کی گئی کچھ ثابت نہیں ہوا،اب بھی الزامات کھوکھلے ثابت ہونگے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چکوال میں اسلام آباد لاہور موٹر وے کی تعمیر نو کا آغاز کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نواز شریف نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس موٹر وے کی تعمیر نو کا آغاز ہورہاہے جو آج سے پندرہ سولہ سال پہلے بنائی گئی تھی ۔موٹروے کے افتتاح کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہوا تھا ۔جنوبی ایشیاءمیں پاکستان کی موٹر وے اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے ۔ملکی تاریخ میں چھ رویہ موٹر وے تعمیر کی گئی ۔پاکستان میں پہلی مرتبہ موٹروے کی تعمیر سے عوام کو سفر کی آرام دہ سہولت میسر آئی جس سے غیر ملکی بھی فائدہ اٹھارہے ہیں اور وہ بھی موٹر وے پر سفر کرتے ہیں ۔اب موٹر وے کی باڑلگائی جائے گی اور کیمرے بھی لگائے جائیں گے جس پر اربوںروپے خرچ ہوں گے ۔پاکستان نے موٹروے اپنے خرچے پر بنائی کسی سے قرضہ نہیں لیا۔انہوں نے کہاکہ ڈی جی ایف ڈبلیو او میجر جنرل محمد افضل حکومت پاکستان کو 206ارب رورپے بھی دیں گے اور تعمیر نو بھی کریں گے ۔موٹر وے کا آغاز جس دن ہوگا اسی دن ساڑھے 9ارب روپے حکومت کو ملیںگے ۔اب اس موٹر وے سے پیسہ کمایا جارہاہے ۔موٹر وے جب بنی تھی تو اس کی لاگت ایک بلین ڈالر کے قریب تھی۔ہماری حکومت ختم کردی گئی پھر دوسری مرتبہ ہم حکومت میں آئے اور ہم نے 1998ءمیں موٹر وے کا افتتاح کیا تھا ۔لاہور سے اسلام آباد موٹر وے 249ارب روپے کی مالیت کا اثاثہ ہے ۔اثاثوں کی قیمت ہمیشہ بڑھتی ہے ،کام وقت پر شروع اور اپنی مدت میں مکمل ہو تو اسے اور کوئی اچھی بات نہیں مل سکتی وسائل کا ضیاع بھی نہیں ہوتا۔جو چیز ریکارڈ مدت میں بنتی ہے اس کی ویلیو بھی زیادہ ہوتی ہے ملک میں ایسے کئی منصوبے ہیں جو بروقت بنے اور ان کی آمدن بھی بہت زیادہ ہے ۔ایف ڈبلیو او موٹر وے کی تعمیر نو کرے گی ۔ ایف ڈبلیو او کی ٹیکنالوجی سے پاکستان کی کمپنیوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے ۔میں ایف ڈبلیو او کی اس لیے تعریف کرتا ہوں کہ اس نے بلوچستان میں جاکران علاقوں میں سڑکیں بنائیں جہاں پر پرائیویٹ سیکٹر سڑک بنانے کیلئے تیار نہیں تھا۔موٹروے دنیا کی بہترین موٹر ویز میں شمار ہوگی ۔میں نے میجر جنرل افضل کو کہاہے کہ ڈیڑھ سال کی مدت میں تعمیر نو کا کام مکمل کیا جائے ۔اتنی بڑی موٹر وے ڈیڑھ سال میں مکمل ہونا بہت بڑی بات ہے میں ان کو پیشگی مبارکباد دیتا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ آج سے سترہ سال پہلے پاکستان کا شمار ان ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا تھاجو سڑکوں ، ہائی ویز اور ایکسپریس ویز سے ترقی کرکے موٹر وے جیسی سہولتیں اپنے شہریوں کو فراہم کرتی ہیں ۔موٹر وے پاکستان نے اپنے وسائل سے بنائی ۔17سالوں میں کروڑوں شہریوں کو محفوظ اور آرام دہ سفر مہیا کیا بلکہ قومی زندگی کے گھنٹوں اور روپو ںکی بچت بھی دی گزشتہ دنوں عالمی بینک کے کنسورشیم نے قومی اثاثے کا اندازہ لگایا تو یہ اپنی لاگت سے پانچ گنا بڑھ کر 249ارب روپے کا ہے ۔ان برسوں میں پاکستان نے بھی فوائد حاصل کیے اور اس کی مالیت بھی بڑھ گئی ۔یہی ہمارا پلان ڈی ہے۔ ڈی سے ڈویلپمنٹ اورڈی سے ڈیسٹرکشن بھی ہے ۔میں نے پلان ڈی یعنی ڈویلپمنٹ کو یاد رکھا ہے ڈی ڈیسٹرکشن (تباہی)والاڈی میرے پاس نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈویلپمنٹ والی ڈی ہے جس کے پاس ڈیسٹرکشن والی ڈی ہے اللہ تعالیٰ ان سے پاکستان کو محفوظ رکھے ۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم پاکستان کی تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرتے ہیں تو راستے بند کرنے کی ابتداءکردی جاتی ہے ۔راستے میں روڑے نہیں پہاڑ کھڑے ہونے لگتے ہیں۔ہم موٹر وے تعمیر کرتے ہیں کہ سامان سے لدے ٹرکوں اور مسافروں سے بھری گاڑیوں کے تیز پہیے دوڑیں لیکن وہاں دوڑنے والے ٹائروں کو آگ لگائی جارہی ہے ۔نہ موٹر وے ہو نہ اس پر تیز رفتار ٹائر دوڑیں نہ ترقی و خوشحالی کی منزل نصیب ہو۔لیکن یہ رکاوٹیں بڑھتے ہوئے قدموں کو نہیں روک سکتیں۔ ہمیں اقبال نے یہ سبق دیاہے کہ ۔۔۔۔۔تندیءباد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب ۔۔۔۔۔یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے ۔۔۔۔انھوں نے کہا کہ جب اس موٹر وے کی تعمیر شروع ہوئی تب رخنے آتے تھے اب دھرنے آتے ہیں ۔عوام کو یاد ہوگا کہ ہماری منتخب حکومت کو ختم کیاگیا اور ہم پر الزام بھی لگے جو آجکل بھی لگ رہے ہیں ہمیں دوبارہ موقع ملنے پر موٹر وے کو مکمل کیا جو ہم پرتنقید کرتے تھے ۔وہ اسی موٹر وے کا سفر کرتے ہیں اور ساتھ تعریف بھی کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم دس سال سخت ترین انتقام کا نشانہ بنے ۔ہر طرح کی چھان پھٹک کی گئی ۔تلاش تھی کہ بجلی کا ایک ٹکڑا بھی غلط نکال کر ہمیں بدنام کیا جائے لیکن الحمد اللہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوا ۔ہم نے دیانت اور شفافیت سے قوم کا اثاثہ تعمیر کیا ۔یہ ہماری خدمت کا ریکارڈ ہے جب بھی شفاف انتخابات ہوتے ہیں تو پاکستان کے عوام ہمیں خدمت کا موقع دیتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ2018ءکے انتخاب کا یہی ریکارڈ لے کر عوام کے پاس جائیں گے۔ ہمارے ریکارڈ میں درج ہوگا کہ لوڈشیڈنگ کی اذیت کو ختم کیا ،گیس کی قلت دور کی ،مہنگائی کی کمر کو توڑا ،دہشتگردی کی عفریت کو ختم کیا ۔ملک کا روپیہ بھی مضبوط کیا ۔جن کو عوام نے ایک صوبے میں موقع دیا ان کے ہاتھ میں یہ ریکارڈ ہوگا کہ ہم نے پاکستان کی ترقی کو روکنے کیلئے دھرنا دیا ۔ٹائروںکو آگ لگا کر راستے بند کیے ،معیشت کے مرکز شہروں کو بند کرایا ،پارلیمنٹ پر قبضہ کیا ،جمہوریت کو گالیاں دیں ،اب ہمیں ووٹ دو ،ہم نے اپنے صوبے کا جو حال کیاہے وہی پورے پاکستان کا کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو فائدہ ہوگا ہر پاکستانی کی قوت خرید میں اضافہ ہوگا ۔زرعی و صنعتی پیداوار پر کم خرچ ہوگا ۔بجلی دو روپے 32پیسے کم کی ہے جس کا فائدہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں ،صنعتکاروں اوردیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے موٹر وے لاہور سے اسلام آباد تک تعمیر کی ،پشاور تک موٹر وے تک پہنچایا،وقت آئے گا کہ جب پشاور سے کابل تک موٹر وے بنے گی ۔کراچی کو لاہور سے جوڑنے کا کام شروع کرنے والے ہیں ۔کراچی سے لاہور موٹر وے بنے گی جس کا جلد سنگ بنیاد رکھا جائے گا ۔ہم ملک میں سڑکوں کا جال بچھارہے ہیں ۔اس سے قبل وزیراعظم کو منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی فرنٹئیر ورک آرگنائزیشن میجر جنرل محمد افضل نے بتایا کہ ایم 2 چکوال، لاہور اسلام آباد موٹروے منصوبہ ایف ڈبلیو او اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی شراکت سے مکمل ہوگا جس پر 225 ارب روپے خرچ ہوں گے جب کہ منصوبے کی تعمیر سے موٹروے کی معیاد میں 20 سال کا اضافہ ہو جائے گا اور اس دوران ایف ڈبلیو ڈی موٹروے کی دیکھ بھال کرے گی اور 20ویں سال ایف ڈبلیواو موٹروے کی تعمیرنو کرکے حکومت کے حوالےکرےگا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منصوبہ ڈیڑھ سال میں مکمل کیا جائے۔ٹریفک کے نظام کی نگرانی کیلئے ہر ایک کلو میٹر کے فاصلے کیمرے نصب ہوں گے ۔موٹر وے پر رہنمائی کیلئے ایک خصوصی ایف ایم چینل بھی قائم کیا جائے گا ۔انہوں نے بریفنگ میں بتایاکہ موٹر وے کے اطراف میں سفیدے کے درختوں کی جگہ پھلدار درخت لگائے جائیں گے ۔تعمیر نو کے کام میں یقینی بنایا جائے گا کہ ٹریفک متاثر نہ ہو۔این ایچ اے کے چیئرمین اور ایف ڈبلیو او کے ڈی جی میجر جنرل محمد افضل نے ایم ٹو کی تعمیر نو کی دستاویز پر دستخط کیے ۔وزیراعظم میاں نوازشریف چکوال پہنچے تو مسلم لیگ ن کی قیادت نے استقبال کیا ۔وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے ۔

 نواز شریف

 ہمارا پلان ”ڈی “ترقی اور دھرنے والوں کا ”ڈی “تباہی کا منصوبہ ہے ،نواز شریف                                چکوال(اے این این،آ ن لائن،ما نےٹر نگ ڈ ےسک،اے پی پی،آ ئی اےن پی) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا پلان ”ڈی“ ترقی ہے،تخریب کاری کا پلان”ڈی“ کسی اور کا ہے،اگلے الیکشن میںہم ترقیاتی منصوبے اور اپنے کارنامے لے کرجبکہ دوسرے اپنے دھرنے،گالیاں،پارلیمنٹ پر حملے اور ملک میں ترقی کا راستہ روکنے کا داغ لے کر عوام کے پاس جائیں گے،ٹائر جلا کر ملک بند کرنے والوں کو قوم کے سامنے حساب دینا ہو گا، حکومتی پلان ڈی میں بھاشا، داسو، تربیلا فور منصوبوں کی تکمیل، کراچی میں پورٹ قاسم اور بہاولپور میں قائداعظم سولر پاور منصوبے شامل ہیں جن کے مکمل ہونے سے گھریلیوں صارفین، کاشتکاروں اور صنعتکاروں کو فائدہ پہنچے گا،اللہ تباہی کا پلان رکھنے والوں سے ملک کو بچائے،جب ہم نے موٹروے شروع کی تب رخنے آتے تھے اب دھرنے آتے ہیں، رکاوٹیں نہ ڈالی گئیں توترقی کا عمل مزید تیزی کے ساتھ آگے بڑھے گااور ملک جلد ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا،ہم پر الزامات نئی بات نہیں،ماضی میں ہمیں پھنسانے کے لئے ہر طرح کی چان بھٹک کی گئی کچھ ثابت نہیں ہوا،اب بھی الزامات کھوکھلے ثابت ہونگے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چکوال میں اسلام آباد لاہور موٹر وے کی تعمیر نو کا آغاز کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نواز شریف نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس موٹر وے کی تعمیر نو کا آغاز ہورہاہے جو آج سے پندرہ سولہ سال پہلے بنائی گئی تھی ۔موٹروے کے افتتاح کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہوا تھا ۔جنوبی ایشیاءمیں پاکستان کی موٹر وے اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے ۔ملکی تاریخ میں چھ رویہ موٹر وے تعمیر کی گئی ۔پاکستان میں پہلی مرتبہ موٹروے کی تعمیر سے عوام کو سفر کی آرام دہ سہولت میسر آئی جس سے غیر ملکی بھی فائدہ اٹھارہے ہیں اور وہ بھی موٹر وے پر سفر کرتے ہیں ۔اب موٹر وے کی باڑلگائی جائے گی اور کیمرے بھی لگائے جائیں گے جس پر اربوںروپے خرچ ہوں گے ۔پاکستان نے موٹروے اپنے خرچے پر بنائی کسی سے قرضہ نہیں لیا۔انہوں نے کہاکہ ڈی جی ایف ڈبلیو او میجر جنرل محمد افضل حکومت پاکستان کو 206ارب رورپے بھی دیں گے اور تعمیر نو بھی کریں گے ۔موٹر وے کا آغاز جس دن ہوگا اسی دن ساڑھے 9ارب روپے حکومت کو ملیںگے ۔اب اس موٹر وے سے پیسہ کمایا جارہاہے ۔موٹر وے جب بنی تھی تو اس کی لاگت ایک بلین ڈالر کے قریب تھی۔ہماری حکومت ختم کردی گئی پھر دوسری مرتبہ ہم حکومت میں آئے اور ہم نے 1998ءمیں موٹر وے کا افتتاح کیا تھا ۔لاہور سے اسلام آباد موٹر وے 249ارب روپے کی مالیت کا اثاثہ ہے ۔اثاثوں کی قیمت ہمیشہ بڑھتی ہے ،کام وقت پر شروع اور اپنی مدت میں مکمل ہو تو اسے اور کوئی اچھی بات نہیں مل سکتی وسائل کا ضیاع بھی نہیں ہوتا۔جو چیز ریکارڈ مدت میں بنتی ہے اس کی ویلیو بھی زیادہ ہوتی ہے ملک میں ایسے کئی منصوبے ہیں جو بروقت بنے اور ان کی آمدن بھی بہت زیادہ ہے ۔ایف ڈبلیو او موٹر وے کی تعمیر نو کرے گی ۔ ایف ڈبلیو او کی ٹیکنالوجی سے پاکستان کی کمپنیوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے ۔میں ایف ڈبلیو او کی اس لیے تعریف کرتا ہوں کہ اس نے بلوچستان میں جاکران علاقوں میں سڑکیں بنائیں جہاں پر پرائیویٹ سیکٹر سڑک بنانے کیلئے تیار نہیں تھا۔موٹروے دنیا کی بہترین موٹر ویز میں شمار ہوگی ۔میں نے میجر جنرل افضل کو کہاہے کہ ڈیڑھ سال کی مدت میں تعمیر نو کا کام مکمل کیا جائے ۔اتنی بڑی موٹر وے ڈیڑھ سال میں مکمل ہونا بہت بڑی بات ہے میں ان کو پیشگی مبارکباد دیتا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ آج سے سترہ سال پہلے پاکستان کا شمار ان ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا تھاجو سڑکوں ، ہائی ویز اور ایکسپریس ویز سے ترقی کرکے موٹر وے جیسی سہولتیں اپنے شہریوں کو فراہم کرتی ہیں ۔موٹر وے پاکستان نے اپنے وسائل سے بنائی ۔17سالوں میں کروڑوں شہریوں کو محفوظ اور آرام دہ سفر مہیا کیا بلکہ قومی زندگی کے گھنٹوں اور روپو ںکی بچت بھی دی گزشتہ دنوں عالمی بینک کے کنسورشیم نے قومی اثاثے کا اندازہ لگایا تو یہ اپنی لاگت سے پانچ گنا بڑھ کر 249ارب روپے کا ہے ۔ان برسوں میں پاکستان نے بھی فوائد حاصل کیے اور اس کی مالیت بھی بڑھ گئی ۔یہی ہمارا پلان ڈی ہے۔ ڈی سے ڈویلپمنٹ اورڈی سے ڈیسٹرکشن بھی ہے ۔میں نے پلان ڈی یعنی ڈویلپمنٹ کو یاد رکھا ہے ڈی ڈیسٹرکشن (تباہی)والاڈی میرے پاس نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈویلپمنٹ والی ڈی ہے جس کے پاس ڈیسٹرکشن والی ڈی ہے اللہ تعالیٰ ان سے پاکستان کو محفوظ رکھے ۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم پاکستان کی تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرتے ہیں تو راستے بند کرنے کی ابتداءکردی جاتی ہے ۔راستے میں روڑے نہیں پہاڑ کھڑے ہونے لگتے ہیں۔ہم موٹر وے تعمیر کرتے ہیں کہ سامان سے لدے ٹرکوں اور مسافروں سے بھری گاڑیوں کے تیز پہیے دوڑیں لیکن وہاں دوڑنے والے ٹائروں کو آگ لگائی جارہی ہے ۔نہ موٹر وے ہو نہ اس پر تیز رفتار ٹائر دوڑیں نہ ترقی و خوشحالی کی منزل نصیب ہو۔لیکن یہ رکاوٹیں بڑھتے ہوئے قدموں کو نہیں روک سکتیں۔ ہمیں اقبال نے یہ سبق دیاہے کہ ۔۔۔۔۔تندیءباد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب ۔۔۔۔۔یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے ۔۔۔۔انھوں نے کہا کہ جب اس موٹر وے کی تعمیر شروع ہوئی تب رخنے آتے تھے اب دھرنے آتے ہیں ۔عوام کو یاد ہوگا کہ ہماری منتخب حکومت کو ختم کیاگیا اور ہم پر الزام بھی لگے جو آجکل بھی لگ رہے ہیں ہمیں دوبارہ موقع ملنے پر موٹر وے کو مکمل کیا جو ہم پرتنقید کرتے تھے ۔وہ اسی موٹر وے کا سفر کرتے ہیں اور ساتھ تعریف بھی کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم دس سال سخت ترین انتقام کا نشانہ بنے ۔ہر طرح کی چھان پھٹک کی گئی ۔تلاش تھی کہ بجلی کا ایک ٹکڑا بھی غلط نکال کر ہمیں بدنام کیا جائے لیکن الحمد اللہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوا ۔ہم نے دیانت اور شفافیت سے قوم کا اثاثہ تعمیر کیا ۔یہ ہماری خدمت کا ریکارڈ ہے جب بھی شفاف انتخابات ہوتے ہیں تو پاکستان کے عوام ہمیں خدمت کا موقع دیتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ2018ءکے انتخاب کا یہی ریکارڈ لے کر عوام کے پاس جائیں گے۔ ہمارے ریکارڈ میں درج ہوگا کہ لوڈشیڈنگ کی اذیت کو ختم کیا ،گیس کی قلت دور کی ،مہنگائی کی کمر کو توڑا ،دہشتگردی کی عفریت کو ختم کیا ۔ملک کا روپیہ بھی مضبوط کیا ۔جن کو عوام نے ایک صوبے میں موقع دیا ان کے ہاتھ میں یہ ریکارڈ ہوگا کہ ہم نے پاکستان کی ترقی کو روکنے کیلئے دھرنا دیا ۔ٹائروںکو آگ لگا کر راستے بند کیے ،معیشت کے مرکز شہروں کو بند کرایا ،پارلیمنٹ پر قبضہ کیا ،جمہوریت کو گالیاں دیں ،اب ہمیں ووٹ دو ،ہم نے اپنے صوبے کا جو حال کیاہے وہی پورے پاکستان کا کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو فائدہ ہوگا ہر پاکستانی کی قوت خرید میں اضافہ ہوگا ۔زرعی و صنعتی پیداوار پر کم خرچ ہوگا ۔بجلی دو روپے 32پیسے کم کی ہے جس کا فائدہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں ،صنعتکاروں اوردیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے موٹر وے لاہور سے اسلام آباد تک تعمیر کی ،پشاور تک موٹر وے تک پہنچایا،وقت آئے گا کہ جب پشاور سے کابل تک موٹر وے بنے گی ۔کراچی کو لاہور سے جوڑنے کا کام شروع کرنے والے ہیں ۔کراچی سے لاہور موٹر وے بنے گی جس کا جلد سنگ بنیاد رکھا جائے گا ۔ہم ملک میں سڑکوں کا جال بچھارہے ہیں ۔اس سے قبل وزیراعظم کو منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی فرنٹئیر ورک آرگنائزیشن میجر جنرل محمد افضل نے بتایا کہ ایم 2 چکوال، لاہور اسلام آباد موٹروے منصوبہ ایف ڈبلیو او اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی شراکت سے مکمل ہوگا جس پر 225 ارب روپے خرچ ہوں گے جب کہ منصوبے کی تعمیر سے موٹروے کی معیاد میں 20 سال کا اضافہ ہو جائے گا اور اس دوران ایف ڈبلیو ڈی موٹروے کی دیکھ بھال کرے گی اور 20ویں سال ایف ڈبلیواو موٹروے کی تعمیرنو کرکے حکومت کے حوالےکرےگا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منصوبہ ڈیڑھ سال میں مکمل کیا جائے۔ٹریفک کے نظام کی نگرانی کیلئے ہر ایک کلو میٹر کے فاصلے کیمرے نصب ہوں گے ۔موٹر وے پر رہنمائی کیلئے ایک خصوصی ایف ایم چینل بھی قائم کیا جائے گا ۔انہوں نے بریفنگ میں بتایاکہ موٹر وے کے اطراف میں سفیدے کے درختوں کی جگہ پھلدار درخت لگائے جائیں گے ۔تعمیر نو کے کام میں یقینی بنایا جائے گا کہ ٹریفک متاثر نہ ہو۔این ایچ اے کے چیئرمین اور ایف ڈبلیو او کے ڈی جی میجر جنرل محمد افضل نے ایم ٹو کی تعمیر نو کی دستاویز پر دستخط کیے ۔وزیراعظم میاں نوازشریف چکوال پہنچے تو مسلم لیگ ن کی قیادت نے استقبال کیا ۔وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے ۔

مزید : صفحہ اول