سڑکوں کی بندش ،حکومت مخالف تقاریر بغاوت اور دہشت گردی کے زمرے میں آ سکتی ہیں

سڑکوں کی بندش ،حکومت مخالف تقاریر بغاوت اور دہشت گردی کے زمرے میں آ سکتی ہیں ...

                             لاہور(شہباز اکمل جندران)پی ٹی آئی کی طرف سے لاہور کی بندش اور حکومت مخالف تقاریربغاوت اور دہشت گردی کے زمرے میں آسکتی ہیں۔ نقل و حرکت اور کاروبار و تجارت کی آزادی شہریوں کا آئینی حق ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے دن بھر شہر کے داخلی و خارجی راستوں ،اہم شاہراﺅں اور مارکیٹوں کو زبردستی بند کرکے، مال روڈ پر مظاہر ہ کرکے شہریوں کو نہ صرف ان کے آئینی حق سے محروم رکھا بلکہ بظاہر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے ساتھ ساتھ تعزیرات پاکستان کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔اور ان قوانین کے متحرک ہونے اور ان جرائم میں ملوث پائے جانے کی صورت مےں ذمہ داروں کو کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ معلوم ہواہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پلان سی کی روشنی میں گزشتہ روز شہر لاہور عملی طورپر بند رہا ۔ شہر کی اہم سٹرکیں اور داخلی و خارجی راستے بلاک رہے۔ اور اکثر مقامات پر مارکیٹیں و دوکانیں بھی بند رہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ زبردستی کا عنصر شامل ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور ہنماﺅں کے خلافت تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997حرکت میں آسکتا ہے۔اور مقدمات درج ہوسکتے ہیں۔1973کے آئین کے تحت کسی بھی پاکستانی شہری کو نقل وحرکت یا تجارت کرنے یا گھر سے نکلنے سے نہیں روکا جاسکتا۔آئین کے آرٹیکل 15کے تحت شہریوں کو نقل وحرکت کی آزادی (freedom of movement) جبکہ آرٹیکل 18 کے تحت تجارت ، کاروبار یا پیشے کی آزادی (freedom of trade, business of profession)حاصل ہے۔اور پاکستان کی حکومت یا کسی سیاسی پارٹی کا سربراہ یا کوئی شہری کسی بھی شہری کے آئینی حقو ق سلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ۔اور آئین کی خلا ف ورزی پر قانون قانون متحرک ہوسکتا ہے۔اسی طرح مال روڈ پر مظاہر کرنے کے علاوہ شہر کےlockdown اور حکومت مخالف تقاریر پر انسداد دہشت گردی ایکٹ1997اور تعزیرات پاکستان 1860بھی حرکت میں آسکتا ہے۔ پی ٹی آئی نے مال روڈ پر مظاہر ہ کرکے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 144کی خلاف ورزی کی ہے۔ جس کی سزا دو سال تک قید ہوسکتی ہے۔اسی طرح تعزیرا ت پاکستان کی دفعہ 124-Aکے تحت تحریری یا زبانی الفاظ کے تحت یا اشاروں کنائیوں میں یا کسی دکھائی دی جانے والی چیز کے ذریعے وفاقی یاصوبائی حکومت کے خلاف نفرت پیدا کرنے یا توہین کرنے کی صورت ملزم کم ازکم تین سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا کا مستوجب قرار پائیگا۔ اسی طرح انسداد دہشت گردی ایکٹ1997کے سیکشن 6(2)(i)کے تحت شہریوں کو گھروں سے نکلنے ، روڈ بلاک کرنے یاکاروبار کرنے سے روکنے اور اس حوالے سے ان کے اندر خوف پید ا کرنے اور معاشرتی زندگی متاثر کرنے پر ذمہ دار کو مذکورہ قانون کے سیکشن 7کے تحت کم از کم پانچ سال قید اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے

مزید : صفحہ اول