حکومت کے انتظامات اور تحریک انصاف کی امن پسندی سب بے نقاب

حکومت کے انتظامات اور تحریک انصاف کی امن پسندی سب بے نقاب
حکومت کے انتظامات اور تحریک انصاف کی امن پسندی سب بے نقاب

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے سی پلان کا تیسرا مرحلہ مکمل تو ہو گیا لیکن اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گیا ہے تحریک انصاف کے عمران خان تو سونامی لا رہے تھے، طوفان جس نے ایک ہی ریلے میں دنیا کے بہت بڑے حصے کو تہہ و بالا کر دیا اور سینکڑوں جانیں لے لی تھیں۔ عمران اپنی تحریک کو سونامی ہی کہتے ہیں۔ ان کے اس سونامی کی وجہ سے فی الحال چند افراد جان سے گئے اس سے زیادہ کی نوبت نہیں آئی۔ اگرچہ ایسی کوشش مسلسل ہو رہی ہے اور حالات پیدا ہوئے کہ خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو اور اگر یہی ہو تو پھر یقیناسونامی وہی کچھ کرے گا جو سمندر نے کر دکھایا تھا۔ بہرحال مسئلہ لاہور بند کرنے والے تیسرے مرحلے کا ہے۔ جس کے دوران فری ہینڈ دینے اور جمہوری حق کے استعمال کے نام پر لاہور کے شہریوں کو مظاہرین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیاتھا، یہ مظاہرین صبح مختلف مقامات پر درجنوں کی تعداد میں تھے لیکن حکومت کے فری ہینڈ فارمولے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم مداخلت نے تحریک انصاف والوں کو متوجہ کیا اور ان کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور عمران خان کی آمد کے بعد یہ بہت بھاری تعداد میں سڑکوں پر تھے خصوصی طور پر ان کا زور بھٹہ چوک پھر لبرٹی مارکیٹ اور فیصل چوک میں تھا۔

حکومت کی عدم مداخلت اپنی جگہ، تحریک انصاف کا جمہوری حق اس کی جگہ، سوال یہ ہے کہ لاہور کے شہریوں کو کس جرم کی سزا دی گئی کہ وہ عدم تحفظ کا شکار رہے۔ ان کو ٹائروں کے گہرے اور مضر صحت دھوئیں کا مزہ چکھنا پڑا۔ بچے سکول گئے اور ان کو افراتفری میں واپس لانا پڑا۔ جو مریض ایمبولینسوں میں ہسپتال منتقل کئے جا رہے تھے ۔ ایمبولینسوں کو راستہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ جاں بحق ہو گئے تو کیا ہوا۔ حکومت کا فری ہینڈ اور تحریک انصاف کا جمہوری حق تو زندہ باد ہو گیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ لاہور میں اتنا کچھ ہوا اور دونوں اطراف سے اس کے باوجود جھوٹ بولا گیا کہ آج الیکٹرونک میڈیا کا بھی دور ہے اور کیمرے کی آنکھ وہ بھی دکھا دیتی ہے جسے آپ چھپا رہے ہوں ۔

بلاشبہ عمران خاں، چوہدری اعجاز، میاں محمود الرشید، عبدالعلیم خان اور جلاؤ گھیراؤ والے فرزند راولپنڈی شیخ رشید معزز شخصیات ہیں۔بجا ہے ان کا فرمایا ہوا وہ کہہ رہے تھے کہ احتجاج پرامن ہو گا پرامن ہے اور تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے اور مختلف مقامات پر مختلف اوقات میں جب یہ وضاحت پیش کر رہے تھے تو الیکٹرونک میڈیا پر یہ دکھایا گیا اور دکھایا جا رہا تھا کہ لوگوں کو زبردستی روکا جا رہا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں پر ڈنڈے برسائے جا رہے ہیں۔ دوکانیں بند کرانے کے لئے توڑ پھوڑ اور تشدد کا سہارا لیا جا رہا تھا۔ یہ امن کی بات کرنے والے بھی جانتے تھے کہ شہر کے 18نہیں 25بلکہ اس سے بھی زیادہ مقامات پر ٹائر جلا کر جنگلے اور پتھر رکھ کر، کنٹینر کھڑے کر کے حتیٰ کہ درخت جلا کر ٹریفک کو روکا جا رہا ہے، بیرونی شہروں سے آنے والے اور جانے والے پریشان ہوئے۔ گاڑیاں توڑی گئیں، کار چلانے والے کو معزز خاتون کارکن نے تھیڑ مارے۔ اس کے باوجود شہر کے وہ علاقے کھلے رہے جہاں تشدد نہیں کیا گیا تھا۔ اس کی مثال بہت سے علاقے ہیں اور پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ کس طرح شاہ عالم مارکیٹ کے تاجروں کو روکا گیا، بیڈن روڈ کو بند کروایاگیا۔ بھاٹی گیٹ کے دودھ فروش کی دوکان پر توڑ پھوڑ کی گئی۔

یہ صورتحال رات تک تھی، یہاں ایک سوال تحریک انصاف کی قیادت سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر ان کی مقبولیت اتنی ہے کہ ان کے کہنے پر شہر بند ہو گیا تو پھر یہ سب دھرنے، ٹائر جلانے، تشدد اور زبردستی کیوں؟ وہ اپیل کریں، فیصلہ عوام پر چھوڑ دیں کہ وہ اپنا فیصلہ سنائیں۔ لاہور کی آبادی ایک کروڑ پچیس لاکھ افراد تک پہنچ چکی ہے۔ عمران خان کے ساتھ سڑکوں پر جتنے لوگ ہیں، وہ آبادی کا کتنا حصہ ہیں، اس کا حساب وہ خود کر لیں۔

دوسری طرف حکومت اور حکمران جماعت ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں، ان کو حکومت کرنے کا مینڈیٹ ملا تو کیا اس لئے تھا کہ عوام چکی کے دو پاٹوں میں پستے رہیں وہ پوچھتے ہیں حکومت کی رٹ کہاں ہے؟ ریاست کیا ہوئی؟ اگر ان سے یہ سب نہیں سنبھالا جاتا تو وہ اقتدار چھوڑ دیں۔ ان کو اقتدار میں رہنے کا کیا حق ہے؟ پھر ترجمان سے بڑوں تک نے غلط بیانی کیوں کی؟ کہتے ہیں لاہور کے عوام نے عمران خان کی کال مسترد کر دی؟ اسے مسترد کرنا کہتے ہیں، ان کی طرف سے کہا گیا عوام اور مسلم لیگ (ن) کے کارکن صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ مشتعل نہ ہوں، اگر یہی کرنا تھا تو پھر تعلیمی ادارے کھولنے، بازار اور مارکیٹوں کو بند نہ کرنے اور ٹرانسپورٹ جاری رکھنے کے لئے کیوں کہا گیا ۔ سکولوں کے معصوم طالبعلموں کی جانوں کو کیوں خطرے میں ڈالا گیا کہ والدین کو صبح جلد پہنچانے کے لئے کہا گیا۔

لاہور کے ڈی سی او سے کون جواب طلب کرے گا جو فیصل چوک میں کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے کہ بازار کھلے ہیں۔ ٹرانسپورٹ چل رہی ہے۔ کسی نے قانون ہاتھ میں لیا تو اس سے نمٹ لیا جائے گا۔ برخوردار زعیم قادری کیسے کہہ رہے تھے۔قانون حرکت میں آ چکا ہے، وہ قانون کہاں تھا جو حرکت میں آیا، جی نہیں! ایسا کچھ نہیں ہوا، اس سے بہتر تھا کہ آپ ایک روزہ مقامی تعطیل کا اعلان کرتے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کے لئے کہتے، شہر کی سڑکیں تحریک انصاف کے سپرد کر دیتے کہ بالآخر عملاً بھی تو یہی ہوا۔ ہمارے اپنے ساتھ اور دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ کیا بیتی، یہ الگ داستان ہے۔

مزید : تجزیہ