سانحہ پشاور: 130 بچوں سمیت 136 افراد جاں بحق،متعدد زخمی، سرچ آپریشن جاری، حکومت کا تین روزہ سوگ کا اعلان

سانحہ پشاور: 130 بچوں سمیت 136 افراد جاں بحق،متعدد زخمی، سرچ آپریشن جاری، ...
سانحہ پشاور: 130 بچوں سمیت 136 افراد جاں بحق،متعدد زخمی، سرچ آپریشن جاری، حکومت کا تین روزہ سوگ کا اعلان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) ورسک روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے سکول میں گھس کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں خاتون ٹیچر اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت اب تک136بچے شہید ، اساتذہ سمیت کئی بچے زخمی ہوگئے جبکہ سکیورٹی فورسز سے مقابلے میں 6 دہشت گرد بھی مارے گئے۔ سکیورٹی اداروں کی کاروائی کے بعد سکول میں سرچ آپریشن جاری ہے اور بم سکواڈ کی مدد سے پورے علاقے کی تلاشی لی جا رہی ہے، وزیر اعظم نواز شریف نے پورے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ۔

سانحہ پشاور سے متعلق تفصیلی خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پولیس ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس پانچ سے چھ افراد سکول کی دیوار پھلانگ کر اندرداخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کردی۔عینی شاہدین کے مطابق ایک بچے نے سکول کے اندر سے اپنے والدین کو ٹیلی فون پر بتایاکہ فائرنگ کرنیوالے افراد سکول کے اندر ہی موجود ہیں۔ایک اور شخص نے بتایاکہ سکول کے اندر پیپر ہورہے تھے اور ایک پارٹی بھی چل رہی تھی ، وہ لوگ بچوں کو ماررہے تھے ،پرچے دینے والے طلباءکو ایک کونے میں اکٹھا کرکے یرغمال بھی بنالیاگیا۔ سکول سے باہر نکلنے والے ایک بچے نے بتایاکہ اُسے اندر سے سیکیورٹی فورسز نے بازیاب کرایا،بارہویں جماعت کا پرچہ جاری تھاکہ فائرنگ کے فوری بعد خاتون ٹیچر نے اُنہیں لیٹ جانے کی ہدایت کی ، وہ اُٹھے تو چا ر دوستوں کی لاشیں اور کئی زخمیوں کو خون میں لت پت پڑے دیکھا۔

سانحہ پشاور کی تفصیلات جاننے کیلیئے یہاں کلک کریں

سکول کے اندر مسلح افراد کے گھسنے کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے آرمی پبلک سکول اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور پاک آرمی کے ایس ایس جی کے ’ضرارونگ‘نے آپریشن کی قیادت کی۔آپریشن میں  بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک بھی استعمال ئے گئے۔   100کے قریب اساتذہ و طلباءسی ایم ایچ اور لی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیئے گئے ہیں جہاں مزید درجنوں زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ نے خون کے عطیات دینے کی اپیل کردی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کا نشانہ بننے والے بچوں کی عمریں 6سے 16سال کے درمیان ہیں ، سکول انتظامیہ کے مطابق حملے کے وقت سکول میں ڈیڑھ ہزار سے زائد بچے موجود تھے ۔

پشاور میں دہشت گردوں کے حملے پر مزید معلومات کیلئے یہاں کلک کریں

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے بتایاکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 30لاشیں جبکہ سی ایم ایچ میں 106لاشیں موجود ہیں ، حملہ آور غیرملکی تھے اور عربی زبان بول رہے تھے ۔ بعدازاں وزیراعلیٰ کے ترجمان نے 136شہادتوں کی تصدیق کردی۔

مزید : قومی /Headlines