ایک ووٹر کا ایک ووٹ!طالبہ نے 10ہزار روپے سے ای ووٹنگ مشین بنالی

ایک ووٹر کا ایک ووٹ!طالبہ نے 10ہزار روپے سے ای ووٹنگ مشین بنالی
ایک ووٹر کا ایک ووٹ!طالبہ نے 10ہزار روپے سے ای ووٹنگ مشین بنالی

  

کراچی(ویب ڈیسک)این ای ڈی یونیورسٹی کی طالبہ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنالی جس سے کاغذ کا استعمال اور بوگس ووٹنگ ختم ہوگی اور اخراجات بھی محدود رہیں گے۔تفصیلات کے مطابق این ای ڈی یونیورسٹی شعبہ الیکٹرانکس انجینئرنگ کی طالبہ سدرہ عامر نے شعبے کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عثمان علی شاہ کے ماتحت تعلیمی پراجیکٹ “آرم پروسیسر بیسڈ سمارٹ ای ووٹنگ مشین تیار کی ہے جس کا مقصد کم سے کم وسائل میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن بنانا ہے۔

چین کا حیرت انگیز تجربہ،امریکہ کے میزائل شکن نظام کا توڑ ڈھونڈ نکالا

سدرہ عامر کی تیار کردہ ای ووٹنگ مشین انگوٹھے کے نشان،سمارٹ کارڈ اور کیمرے کی مدد سے ووٹ کی تصدیق کرے گی اس طرح کوئی کسی اور کے شناختی کارڈ کی مدد سے جعلی ووٹ کاسٹ نہیں کرسکے گا۔مشین شناخت کے بعدہی ووٹر کو ووٹ کا حق دے گی جبکہ ایک سے زائد مرتبہ ووٹ کاسٹ کرنے کی صورت میں مشین انتظامیہ کو ایک ہی ووٹر کی جانب سے کاسٹ کئے گئے ووٹوں کی تعداد سے آگاہ کرے گی جس کے بعد انتظامیہ ان ووٹوں کو مسترد کرسکتی ہے۔

اگر نادرا اس مشین کی مدد سے انتخابات کروائے تو مشین کو انٹرنیٹ یا اپنے ریکارڈ کے ذریعے ملک بھر میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔مشین کے استعمال سے زبردستی ووٹ کاسٹ کرنا، جعلی ووٹ ڈالنا اور ایک سے زائد ووٹ ڈالنے کا عمل ختم ہوجائے گا جبکہ اس مشین کے استعمال سے کاغذ کے استعمال اور سٹاف کے اخراجات کی بھی بچت ہوگی۔

امریکی بحریہ کی جاسوس روبوٹ مچھلی ”سائلنٹ نیمو“ کی کامیاب آزمائش

سدرہ عامر کے مطابق اس مشین کی تیاری کے لیے انہیں کچھ پارٹس چین سے منگوانے پڑے جبکہ باقی پارٹس با آسانی پاکستان میں دستیاب تھے اور مشین کی تیاری میں 10 ہزار روپے لاگت آئی۔پاکستان میں انتخابات کے اوقات کار صبح 8 سے شام 5 بجے تک ہیں اور ووٹوں کی گنتی میں بھی چار گھنٹے لگتے ہیں لہذا ای ووٹنگ مشین کی بیٹری ٹائمنگ14 گھنٹے ہے جسے بوقت ضرورت بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔کسی حلقے میں ووٹنگ کا عمل متاثر ہو اور کسی نے ووٹنگ مشین سے چھیڑچھاڑ کی تب بھی ڈالے گئے ووٹوں کا ریکارڈ محفوظ رہے گا۔

ایپل کا پہلا قابل استعمال حالت میں موجود کمپوٹر اندازے سے بھی کم قیمت پر نیلام

سدرہ عامر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک میں جاری سیاسی بحران اور انتخابی عمل کے شفاف نہ ہونے کے باعث اس پراجیکٹ کو بنانے کا سوچا۔شفاف انتخابات کے نتیجے میں عوام کے حقیقی نمائندے سامنے آئیں گے جبکہ دھونس دھمکیوں سے ووٹ ڈلوانے کی روایت کا خاتمہ ہوگا۔ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عثمان علی شاہ نے کہا کہ پاکستانی طلبہ میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے لیکن انہیں مواقع فراہم نہیں کئے جاتے ،اگر ای ووٹنگ مشین کو نادرا انتخابات میں استعمال کرے تو پاکستان میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہے۔

نوٹ: خبر کے اندر موجود رنگین لائنیں دوسری خبروں کی متعلقہ سرخیاں ہیں ، خبر پڑھنے کیلئے رنگین لائن پر کلک کریں تو اسی صفحے پر یہ خبر بند ہوکر متعلقہ خبر کھل جائے گی۔

مزید : کراچی