خواتین کو چہرے کے نقاب کی ضرورت نہیں! سعودی عالم کا نیا فتویٰ

خواتین کو چہرے کے نقاب کی ضرورت نہیں! سعودی عالم کا نیا فتویٰ
خواتین کو چہرے کے نقاب کی ضرورت نہیں! سعودی عالم کا نیا فتویٰ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے ایک عالم دین نے حجاب سے متعلق ایک نیا فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ خواتین کو چہرے کا نقاب کرنے کی ضرورت نہیں اور انہیں خوبصورتی کے لئے بناﺅ سنگھاﺅ کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ شیخ احمد الغامدی نے یہ فتویٰ العربیہ کے سسٹر چینل ایم بی سی کے ایک مشہور ٹاک شو ’بدریا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے دیاہے۔

خواتین قیدیوں سے کیسا برتاؤ کیا جائے ؟داعش نے شرمناک ہدایات سے بھراکتابچہ جاری کردیا

انہوں نے اپنے فتویٰ کے حق میں وہ اپنی بے نقاب اہلیہ کے ساتھ ٹی وی پروگرام میں شریک تھے۔ ان کی اہلیہ نے حجات تو اوڑھ رکھا تھا لیکن چہرے کا پردہ نہیں کیا ہوا تھا۔ علامہ احمد الغامدی سعودی عرب کے محکمہ امر بالمعروف ونہی المنکر (المعروف مذہبی پولیس) کی مکہ مکرمہ شاخ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

سعودی عرب کے قدامت پسند علماءاور حلقوں کی جانب سے علامہ احمد الغامدی کے خلاف تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی مخالفت کے ساتھ بعض لوگ ان کی حمایت میں بھی میدان میں آئے ہیں۔ ٹاک شو میں شرکت کے بعد سے علامہ احمد الغامدی اپنے فتویٰ کا دفاع کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہرت کے لئے فتویٰ نہیں دیا، واضح رہے کہ وہ ماضی میں بھی اسی طرح کے متنازعہ فتوے جاری کرنے کے لئے مشہور رہے ہیں۔

قطر کو سنگین ترین الزام کا سامنا

 انہوں نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ موسیقی حرام نہیں ہے اور خواتین اور مردوں کے مخلوط اجتماعات کی اجازت ہے۔ مذکورہ ٹی وی پروگرام کی میزبان بدریاالبشر نے العربیہ نویز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر تو علامہ الغامدی اور ان کے فتویٰ کو ہدف تنقید بنایا جارہا ہے مگر مجموعی طور پر اس کا ردعمل مثب رہا ہے۔

نوٹ: خبر کے اندر موجود رنگین لائنیں دوسری خبروں کی متعلقہ سرخیاں ہیں ، خبر پڑھنے کیلئے رنگین لائن پر کلک کریں تو اسی صفحے پر یہ خبر بند ہوکر متعلقہ خبر کھل جائے گی۔

مزید : بین الاقوامی