وہ انوکھا مقدمہ جس میں یہودی اور مسلمان اکٹھے ہو گئے

وہ انوکھا مقدمہ جس میں یہودی اور مسلمان اکٹھے ہو گئے
وہ انوکھا مقدمہ جس میں یہودی اور مسلمان اکٹھے ہو گئے

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) سکارف پہننے پر ملازمت سے محروم کی جانے والی مسلمان لڑکی کی قانونی مدد کیلئے امریکا کے سات یہودی گروپ، ایک مسلم سول حقوق تنظیم اور ایک قانونی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی نے متحد ہوکر امریکی سپریم کورٹ میں سکارف پہننے کے حق کے دفاع کیلئے موقف پیش کردیا ہے۔

بیویوں کو خوش رکھنے کا سستا طریقہ تفصیلات جاننے کیلئے وزٹ کریں

سترہ سالہ لڑکی سمانتھا ایلاف نے ابرکرومی اینڈ فچ نامی کمپنی میں ملازمت کی درخواست دی تھی لیکن اس کے سکارف پہننے کی وجہ سے اسے ملازمت نہ دی گئی۔ اس سے پہلے ایک ماتحت عدالت نے سمانتھا کی 20,000 ڈالر (20 لاکھ پاکستانی روپے) کی درخواست کے حق میں فیصلہ دیا تھا لیکن ڈینور شہر کی کورٹ آف اپیلز نے اس فیصلہ کو رد کردیا تھا جس کے بعد امریکی سپریم کورٹ کا رُخ کیا گیا ہے۔ سمانتھا کے وکلاءکا موقف ہے کہ اگر سکارف مذہبی وجوہات کی بناءپر پہنا جارہا ہے تو اس کی اجازت ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ سمانتھا کو یہ کہہ کر ملازمت سے محروم رکھا گیا تھا کہ سکارف گاہکوں کو بدمزہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔

 

 

مزید : ڈیلی بائیٹس