آلو کے چپس کب اور کیسے ایجاد ہوئے ؟

آلو کے چپس کب اور کیسے ایجاد ہوئے ؟
آلو کے چپس کب اور کیسے ایجاد ہوئے ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (نیوز ڈیسک) فرینچ فرائی یا آلو کے لمبوترے چپس ساری دنیا کی طرح ہمارے ہاں بھی بہت مقبول ہیں اور اگرچہ ان کے شاندار ذائقے اور مقبولیت پر تو کوئی بحث نہیں لیکن ان کا نام متنازعہ ہے اور غالباً ہم انہیں غلطی سے فرانس کے ساتھ منسلک کربیٹھے ہیں۔

کھانے میں کیا آرڈر کریں؟" پیز اہٹ" نے مشکل آسان کر دی

آج دنیا انہیں فرینچ یا فرانسیسی ضرور کہتی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فرانسیسیوں نے آلو فرائی کرنے شروع کئے تو اس سے تقریباً ایک صدی پہلے بیلجیئم کے لوگ انہیں فرائی کرکے کھا چکے تھے۔ فرانس تو باقاعدہ طور پر آلو دشمن ملک تھا۔ یہاں پائے جانے والے آلو چھوٹے اور قدرے کڑوے تھے اور یہ لوگ صرف اپنے پالتو سوﺅروں کو آلو کھلاتے تھے جبکہ خود انہیں کھانے کا تصور بھی نہیں رکھتے تھے۔ ایک وقت پر فرانسیسی پارلیمنٹ نے آلوﺅں کی کاشت پر پابندی بھی لگادی تھی۔

خاتون کے تجربے نے مردوں کا پول کھول دیا

ایک تھیوری کے مطابق ہسپانوی قوم نے بیلجیئم سے آلو کو فرانس پہنچایا۔ ایک دوسری تھیوری کے مطابق بیلجیئم پر فرانسیسی قبضے کے دوران فوجیوں نے پہلی دفعہ آلو دیکھے۔ البتہ اس ضمن میں سب سے زیادہ شہرت یافتہ کردار فرانسیسی فوج کے میڈیکل آفیسر اینٹوئن آگستس ہیں۔ تاریخ دان کہتے ہیں کہ جب انہیں سات سال کیلئے قید میں رکھا گیا تو انہیں کھانے کیلئے آلو دئیے جاتے رہے۔ جب وہ رہا ہوکر فرانس آئے تو انہوں نے آلو کی مقبولیت کیلئے بھرپور مہم چلائی۔ لوگوں میں آلو کی مقبولیت بڑھانے کیلئے انہوں نے آلو کے کھیت کے گرد مسلح گارڈ بٹھائے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ بہت قیمتی چیز ہے۔ بالآخر لوگ ان کی مہم سے متاثر ہوئے اور فرانس میں آلو اسقدر مقبول ہوئے کہ شاہی باغات کو بھی آلوﺅں کے کھیتوں میں بدل دیا گیا۔ اب فرانسیسی لوگوں نے بھی ان کی لمبی قاشیں کاٹ کر فرائی کرنا شروع کردیں۔ فرانس سے نکل کر آلو برطانیہ اور امریکا پہنچے اور پھر امریکی کمپنیوں نے فرینچ فرائی کو دنیا بھر میں مقبول کروادیا۔ امریکیوں کو آلو اتنے پسند آئے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ فرینچ فرائی کھانے والی قوم بن گئے اور بعض ممالک میں اسے امریکن فرائی بھی کہا جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس