سانحہ پشاور میں 132 بچوں سمیت 141 افراد شہید، چاروں صوبائی و وفاقی حکومت کا تین روزہ سوگ کااعلان ، تمام سات دہشتگرد ہلاک کر کےسکول کو کلیئرکردیاگیا

سانحہ پشاور میں 132 بچوں سمیت 141 افراد شہید، چاروں صوبائی و وفاقی حکومت کا تین ...
سانحہ پشاور میں 132 بچوں سمیت 141 افراد شہید، چاروں صوبائی و وفاقی حکومت کا تین روزہ سوگ کااعلان ، تمام سات دہشتگرد ہلاک کر کےسکول کو کلیئرکردیاگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) ورسک روڈ پر طالبان کے حملے میں 132 بچے جبکہ 9 سٹاف ممبرز شہید جبکہ بچوں سمیت 121 افراد شدید زخمی ہوگئے جو پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں جبکہ آرمی کمانڈوز نےسات دہشتگردوں کو مارکر سکول کو کلیئرکردیا، دوران کاروائی پاک آرمی کے سات جوان شدید زخمی بھی ہوئے۔ پشاور میں ہونیوالی دہشتگردی کی بدترین کارروائی کے بعد چاروں صوبائی و وفاقی حکومت ، پاکستان بار کونسل اور مختلف سیاسی جماعتوں نے تین روزہ سوگ،مسیحی برادری نے کرسمس سادگی سے منانے کااعلان کردیا اوراس دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ پاکستانی رہنماﺅں کے علاوہ وزیراعظم آزاد کشمیر، بھارتی و برطانوی وزیراعظم اور امریکی سفیر نے بھی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے اظہار افسوس کیاہے ۔

ایس ایس جی کے 7 کمانڈو اور 2 افسران زخمی ،960بچے ریسکیو ، سکول کلیئر کروا لیا : ڈی جی آئی ایس پی آر

تفصیلات کے مطابق منگل کو صبح 10بجے کے لگ بھگ چھ مسلح افراد ورسک روڈ پر الیکشن کمیشن کے دفتر کے قریب واقع آرمی پبلک سکول کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوگئے اوربچوں پر تشدد کرنے کے ساتھ ساتھ اندھادھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں 200سے زائد افراد زخمی اور کئی موقع پر شہید ہوگئے ۔

فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور ریسکیو آپریشن شروع کردیا، سیکیورٹی فورسز کے حصار میں آکر ایک دہشتگرد نے خود کو اُڑا لیا جبکہ مقابلے میں مارے گئے ۔ ریسکیو آپریشن کے لیے سکول کی عقبی دیوار کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑادیا جس کے بعد ایمبولینسوں میں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیاجاتارہا۔

حملہ آور ایف سی کی وردیوں میں ملبوث تھے، 8 میں سے 6 دہشتگرد ہلاک ہوئے: وزیر اطلاعات خیبر پختونخواہ

لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور سی ایم ایچ میں 100سے زائد زخمی تاحال زیرعلاج ہیں جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے جبکہ پاکستان آرمی کے ترجمان نے 132 بچوں سمیت کل 141 افراد کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔

سکول سے ریسکیو کیے گئے بچوں نے بتایاکہ سکول کے اندر امتحانات ہورہے تھے اور دوسری طرف الوداعی پارٹی بھی چل رہی تھی ، وہ لوگ بچوں کو ماررہے تھے ،پرچے دینے والے طلباءکو ایک کونے میں اکٹھا کرکے یرغمال بھی بنالیاگیا۔ سکول سے باہر نکلنے والے ایک بچے نے بتایاکہ اُسے اندر سے سیکیورٹی فورسز نے بازیاب کرایا،بارہویں جماعت کا پرچہ جاری تھاکہ فائرنگ کے فوری بعد خاتون ٹیچر نے اُنہیں لیٹ جانے کی ہدایت کی ، وہ عربی یا فارسی میں بات کررہے تھے ، طلباءاُٹھے تو چند دوستوں کی لاشیں اور کئی زخمیوں کو خون میں لت پت پڑے دیکھا۔ ایک اور بچے نے بتایاکہ استاذ کلاس میں موجود تھاکہ اِسی دوران فائرنگ کی آوازسنائی دی جس پر دروازے بند کردیئے لیکن حملہ آوروں نے دروازے توڑ کر فائرنگ اور تشدد شروع کردیا۔

عزم بلند ہے، بچوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے: وزیر اعظم نواز شریف

 ریسکیو ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کا نشانہ بننے والے بچوں کی عمریں 6سے 16سال کے درمیان ہیں ، سکول انتظامیہ کے مطابق حملے کے وقت سکول میں ڈیڑھ ہزار سے زائد بچے موجود تھے ، ہسپتالوں میں خون کم پڑگیا اور خون کے عطیات دینے کی اپیل کردی گئی ۔

 

پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشتگردوں نے سکول کے اندر جگہ جگہ بارودی مواد نصب کررکھاتھا جس کی وجہ سے کلیئرنس آپریشن میں تاخیر اورمشکلات کاسامنا رہا ،سیکیورٹی فورسز نے ریسکیو آپریشن مکمل کرنے کے بعد تمام چھ کے چھ دہشتگردوں کا صفایاکردیاہے جس کے بعد سکول کو کلیئرقراردیدیاگیا۔

 ڈی جی آ ئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کا کہاں سے ہدایات مل رہی تھیں اور ان کا تعلق کہاں سے تھا، ان کا اصل مشن کیا تھا، یہ سب معلوم کر لیا گیا ہے تاہم میڈیا کے ساتھ ایسی معلومات ابھی شیئر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں کے پاس کئی دن تک پاک آرمی کا مقابلہ کرنے کا اسلحہ تھا تاہم فوجی جوانوں نے ان کا بہادری سے مقابلہ کیا اور انہیں مار ڈالا۔

دہشتگردوں نے قوم کے دل کو نشانہ بنایا، ہمارا عزم نئی بلندیوں پر پہنچ گیا: جنرل راحیل شریف

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے آرمی پبلک سکول میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاہے کہ چھ حملہ آور سکول میں داخل ہوئے ، یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن’ ضربِ عضب‘ اورخیبر ایجنسی میں جاری آپریشن’ خیبر ون ‘کے جواب میں ہے جبکہ ترجمان نے اعتراف کیاکہ فوجی آپریشنز میں 500 طالبان مارے گئے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف چند اہم وزراءسمیت فوری طور پر پشاور پہنچ گئے جہاں اُنہوں نے آپریشن پر بریفنگ لی اور بدھ کو پارلیمانی رہنماﺅں کا اجلاس پشاور میں ہی طلب کرلیا۔وزیراعظم نے وزیراطلاعات پرویز رشید اوروزیرخزانہ اسحاق ڈار کو تمام پارلیمانی رہنماﺅں سے رابطے کی ہدایت کردی جبکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف بھی اپنا دورہ کوئٹہ مختصر کرکے پشاور پہنچ گئے ۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی اپنی پارٹی کی مرکزی قیادت سمیت خیبرپختونخواہ کے دارلحکومت پہنچ گئے اور 18دسمبر کو ملک گیر احتجاج موخر کردیا۔

 سانحہ پشاور پاکستان کی ناکامی، وقت آ گیاکہ ساری قوم ایک ہو جائے: عمران خان

پاکستان بار کونسل نے بدھ کو ملک بھر ہڑتال کا اعلان کردیا جبکہ کراچی بارکونسل نے منگل کی شام ہونیوالا سالانہ عشائیہ بھی منسوخ کردیا۔

خیبرپختونخواہ حکومت کے علاوہ وفاق، پنجاب ، بلوچستان اور سندھ حکومت نے بھی تین روزہ سوگ کا اعلان کردیاجبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے شہید ہونیوالے بچوں کے ورثاءکے لیے مالی امداد کا بھی اعلان کردیا۔

پشاور میں ہونیوالے دہشتگردانہ حملے نے عالمی دنیا کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون ، بھارتی وزیراعظم نریندرامودی اور امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے بھی حملے کی مذمت کی اور قیمتی جانوں کے نقصان پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

 

 

مزید : قومی /Headlines