ظالمان نے سکول حملے کی عجیب منطق پیش کر دی

ظالمان نے سکول حملے کی عجیب منطق پیش کر دی
ظالمان نے سکول حملے کی عجیب منطق پیش کر دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن (مانیڑنگ ڈیسک)تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)نے سانحہ پشاور میں 132معصوم بچوں کو خون میں نہلا نے کی وحشیانہ منطق پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف آپریشن کرنے والے پاکستانی فوجیوں کے بچوں کو مار کر بدلہ لیا گیا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ”ڈیلی بیسٹ“پر شائع ہونے والی صحافی سمیع یوسف زئی کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے کمانڈر جہادیا روز یر نے انہیں بتایا کہ ان بچوں کو اس لئے نشانہ بنایا گیا کہ ان کے والدین طالبان کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں اور یہ حملہ بچوں کیلئے بھی پیغام ہے کہ وہ اپنے والدین کو وزیرستان میں کاروائیاں کرنے سے روکیں ۔ٹی ٹی پی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان بچوں کے والدین فوج میں افسران یا سپاہی ہیں اور چونکہ وہ وزیرستان پر گولہ باری کر رہے ہیں اس لئے ان بچوں پر حملہ کر کے بدلہ لیا گیا ہے۔ کمانڈر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی اپنی جگہ چھوڑ نے پر مجبور ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی بھی اس پوزیشن میں ہے کہ جہاں چاہے حملہ کر سکتی ہے اور مزید یہ کہ ان کے پاس پاکستان میں حملوں کی ابھی طویل فہر ست موجود ہے۔

سانحہ پشاور میں 132 بچوں سمیت 141 افراد شہید،مکمل خبر پڑھنے کے لئے کلک کریں

 

مزید : قومی /اہم خبریں