داعش سے وابستہ ٹوئٹر اکاﺅنٹس دراصل کس ملک کی حکومت کی جانب سے چلائے جارہے ہیں؟ ہیکرز نے سراغ لگالیا، ایسے ملک کا نام سامنے آگیا کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا

داعش سے وابستہ ٹوئٹر اکاﺅنٹس دراصل کس ملک کی حکومت کی جانب سے چلائے جارہے ...
داعش سے وابستہ ٹوئٹر اکاﺅنٹس دراصل کس ملک کی حکومت کی جانب سے چلائے جارہے ہیں؟ ہیکرز نے سراغ لگالیا، ایسے ملک کا نام سامنے آگیا کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا

  


لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں جاری دہشتگردی کے پیچھے امریکا، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کا ہاتھ ہونے کے دعوے بے شمار دفعہ سامنے آئے ہیں لیکن ہمیشہ انہیں پراپیگنڈا قرار دے کر رد کیا جاتا رہا ہے۔ اب برطانیہ میں پہلی دفعہ کچھ ایسے ہی انتہائی تہلکہ خیز دعوﺅں کے ساتھ اہم ترین شواہد بھی سامنے آگئے ہیں، جس کے بعد برطانیہ میں حکومتی ایوانوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مراکز میں ایک طوفان برپا ہے۔

اخبار دی مرر کے مطابق ہیکروں کے ایک گروپ VandaSec نے انٹرنیٹ پر موجود کچھ اکاﺅنٹس پر تحقیق کی جو بظاہر داعش کی نمائندگی کررہے تھے۔ ہیکر گروپ نے پتہ چلایا کہ بظاہر تو ان اکاﺅنٹس کے آئی پی ایڈریس سعودی عرب کے نظر آتے تھے لیکن جب خصوصی ٹولز اور تکنیک کے ذریعے ان کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ ان آئی پی ایڈریسز کا تعلق برطانوی ادارے ڈیپارٹمنٹ آف ورک اینڈ پنشنز سے ہے۔ ہیکر گروپ کے ایک رکن نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ” کیاآپ نہیں سمجھتے کہ یہ بہت عجیب بات ہے؟ ہم نے ان اکاﺅنٹس کا تعلق لندن سے ڈھونڈ نکالا ہے، جو کہ برطانوی انٹیلی جنس سروس کا گھر ہے۔“ یہ تشویشناک انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ پکڑے گئے اکاﺅنٹس کے ذریعے صرف شدت پسند تنظیموں کا پیغام ہی نہیں پھیلایا جاتا تھا بلکہ ان کے ذریعے نوجوانوں کو شام اور عراق بھیجنے کے لئے بھرتی بھی کیا جاتا تھا۔

مزیدجانئے: برطانوی مسلمان فوج کے بجائے داعش میں جاسکتے ہیں : ٹرمپ کا نیا شوشہ

کیا دہشت گردوں کے نام پر چلنے والے اکاﺅنٹس کو برطانوی انٹیلی جنس ایجنسیاں چلارہی تھیں؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر کوئی پوچھ رہا ہے اور برطانوی حکام نے چپ سادھ رکھی ہے۔ اگرچہ برطانوی ڈیپارٹمنٹ آف ورک اینڈ پنشنز نے یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے آئی پی ایڈریس کسی سعودی کمپنی کو فروخت کردئیے گئے تھے، جس کے بعد انہیں شدت پسندی کا پیغام پھیلانے کے لئے استعمال کیا گیا، لیکن ان مشکوک اکاﺅنٹس کا سراغ لگانے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں برطانیہ سے ہی چلایا جارہا تھا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک کے بعد دوسرے اسلامی ملک کو تباہ کرنے والے مغرب کا مشکوک کردار ان انکشافات کے بعد تقریباً بے نقاب ہوگیا ہے، اور توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید حیرت انگیز اور تشویشناک حقائق سے پردہ اٹھنے والا ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...