زندہ ثقافت

زندہ ثقافت
 زندہ ثقافت

  


بے شک مایوسی گناہ ہے، مگر کیا کیجئے؟ پچھلے تیس برس سے وطن عزیز جن انسانیت سوز مظالم سے دوچار ہے، اس پر دکھ کا اظہار ایک فطری عمل ہے۔ انسانی زندگی قدرت کی عطا کردہ نعمت ہے، جسے چھبن لینا روئے زمین پر سب سے بڑا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ انسان اس کرہ ارض پر فطرت کی نوک پلک سنوار کر اس کی خوبصورتی کو نکھارنے آیا ہے۔ وہ تہذیب و ثقافت کے گلدستے میں رنگا رنگ پھولوں کا اضافہ کرتا ہے۔ فن تعمیرکے شاہکاروں سے لے کر آرٹ کے شاہ پارے تخلیق کرتا ہے۔ صدیوں سے سجے یہ انمول ورثے ہمارے قومی اثاثوں میں شامل ہیں۔ اسی طرح ہماری روایات مذہبی تہوار، موسمی میلے ٹھیلے، موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ ہماری ثقافت کا جزو لاینفک ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ انمول ورثے بھی انتہا پسندوں کی دہشت کی زد میں آ گئے ہیں۔جب بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے تاخت و تاراج کیا تو اس کے ردعمل میں چند غیرذمہ دار عناصر نے پاکستان میں مندروں کو نقصان پہنچایا۔ طالبان نے بامیان (افغانستان) میں بدھا کے مجسمہ کو ملیا میٹ کر دیا، حالانکہ یہ ایک تاریخی ورثہ تھا، جس کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری تھی۔

زیارت میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی رہائش کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ قومی تاریخی عمارت کو تباہ کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ ان صوفیاء کے مقبروں پر حملے کئے گئے جو ساری زندگی امن و آشتی کا درس دیتے رہے، جنہوں نے انسانوں کو وحدت کی لڑی میں پرونے کی جدوجہد کی۔ صد حیف! اس سے ہماری ثقافت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ لاہور میں حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے دربار پر حملے میں تیس معصوم انسان لقمہ ء اجل بنے۔ خوشحال خان خٹک کے مقبرے کو نشانہ بنایا گیا۔ کھیل کود ہمارے لئے تفریح اور خوشی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ کرکٹ میں پاکستان بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے۔ لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے نے پاکستان کو دنیا کی نظروں میں غیر محفوظ بنا دیا۔ یہ حملہ ہماری قومی ثقافت کو مکدر کر گیا۔ کرکٹ کے شائقین کے لئے بالخصوص اور عام پاکستانیوں کے لئے بالعموم یہ ایک عظیم صدمہ تھا۔عبادت گاہیں خواہ کسی بھی مذہب کی ہوں، مقدس و محترم سمجھی جاتی ہیں۔ یہ جگہیں کسی نہ کسی شکل میں خدا کی عبادت کے لئے مخصوص ہوتی ہیں، جس طرح حرم میں کسی کو نقصان پہنچانا منع ہے، اسی طرح مسجد بھی امن کا گہوارہ ہے۔ مسجدوں میں نمازیوں پر حملے وحشت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جنازوں اورجرگوں کے اجتماع پر خودکش حملے کسی بھی مذہب میں جائز نہیں ہیں۔ جرگے ہماری قبائلی روایات کے امین ہیں۔ پنچائیت کی طرح لوگ مقامی سطح پر باہمی مشاورت سے جھگڑوں کے تصفیے کرتے ہیں۔ افسوس ہمارے اس ثقافتی ورثے کو بھی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔

وادی ء سوات میں 855سے زائد ہوٹل سیاحوں کے طعام و قیام کا انتظام و انصرام کرنے میں مصروف ہیں۔ چالیس ہزار سے زائد لوگوں کا معاش اس صنعت سے وابستہ ہے۔ یہ وادی پاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہلاتی ہے۔ عسکریت پسندوں نے اس جنت نظیر وادی کو جہنم زار بنائے رکھا۔ ان دہشت گردوں کے تسلط سے یہ وادی سنسان ہو گئی، کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے اور مقامی لوگ فاقوں سے مرنے لگے۔2007ء سے 2009ء تک کے عرصہ میں ساٹھ ارب روپے کا مالی نقصان ہوا۔ افواج پاکستان کو سلام پیش کرنا چاہے، جنہوں نے جانی قربانیاں دے کر اس علاقے سے عسکریت پسندوں کو مار بھگایا۔ اس جنگ کے دوران ہماری پاک فوج نے ایک بہادر جرنیل کی شہادت بھی پیش کی۔ اب یہ علاقہ دہشت گردوں کی دست برد سے پاک ہو چکا ہے اور وادی کی رونق لوٹ آئی ہے۔ زندگی رواں دواں ہے۔ لوگ نئے عزم سے اس خوبصورت وادی کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔پاکستان پہاڑوں ،میدانوں ،صحراؤں اور دریاؤں کی سرزمین ہے۔کے ٹو (K-2) ماؤنٹ ایورسٹ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی چوٹی ہے۔ ہر سال مقامی اور غیر ملکی کوہ پیما اسے سر کرنے کے لئے پاکستان آتے ہیں۔ جون 2013ء میں 9افراد پر مشتمل غیر ملکی سیاحوں کی ٹیم نانگا پربت پہنچی۔ ان میں پانچ سیاح یوکرائنی تین چینی اور ایک روسی تھا، انہیں مسلح دہشت گردوں نے گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس واقعہ سے نہ صرف کوہ پیمائی اور سیاحت کو نقصان پہنچا، بلکہ اس کے نتیجے میں ہمارے امریکہ چین اور یوکرائن کے ساتھ تعلقات کو بھی زد پہنچی۔

تعلیمی ادارے ہماری تہذیب و ثقافت کی پرورش گاہیں ہیں۔ ہماری آنے والی نسل کی تربیت اور ترقی کا دار و مدار انہی اداروں سے منسلک ہے۔ یہ نرسریاں ہمارے پھول سے بچوں کی آبپاری کرتی ہیں۔ جہالت کے اندھیروں کو دور کرکے علم کی شمعیں روشن کرتی ہیں۔ ہم روشنی کے ان میناروں کو بھی محفوظ نہ رکھ سکے۔ عقل کے اندھوں نے ایک ہزار سے زائد سکولوں کو ملیا میٹ کر دیا۔ مدرسے تو امن و محبت کا درس دیتے ہیں۔16 دسمبر 2014ء ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ اس دن آرمی پبلک سکول کے 132معصوم پھولوں کو ظالموں نے کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا۔ نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہمارے بچو! ہم تمہیں بھولے نہیں۔ ہم تمہیں کبھی بھی نہیں بھولیں گے۔ ہم آج بھی ان ماؤں کے دکھ میں شریک ہیں، جن کی گود سے یہ ننھی کلیاں چھن گئیں۔ حوصلہ ہے ان ماں باپ کا جنہوں نے دل پر کاری ضرب کھا کر بھی صبر و استقامت سے کام لیا اور خدا کی رضا پر خاموش رہے۔جب بھی ایسا سانحہ ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے ، گویا ہم پتھر کے دور میں رہ رہے ہیں۔ پاؤں رکھنے کے لئے جگہ نہیں ملتی۔ کیا ہم خوبصورتیوں کے قاتل ہیں؟ کیا ہمیں آرٹ سے نفرت ہے؟ کیا زندگی ایک خوبصورت نعمت نہیں ہے؟ ہمارے ہاں چار موسم ہیں، سردی، گرمی، خزاں اور بہار ، لیکن اب یہ موسم خوف، غیر یقینی، موت اور نوحہ گری میں بدل چکے ہیں۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں۔ آس کا سورج ہر روز ایک نیا پیغام لے کر طلوع ہوتا ہے اور نئی زندگی کی نوید دیتا ہے۔ غم اور موت تو زندگی کا جزو لازم ہیں۔

اساطیری ادب میں ققنس ایک ایسا پرندہ ہے جو نغمہ سرا ہوتا ہے تو اس کی مدھر لے اسے جلا دیتی ہے، اس کی راکھ سے بہت سارے ققنس جنم لیتے ہیں اور یہ لا متناہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ آج دہشت گردوں کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے۔ آرمی پبلک سکول کے ننھے پھول آج بھی مسکرا رہے ہیں۔ اساتذہ بلا خوف و خطر تندہی سے پھولوں کی آبیاری میں مصروف ہیں، یہی زندگی ہے یہی حاصل زندگی ہے۔کھیل کے میدان آج بھی آباد ہیں۔ کرکٹ کی دنیا میں تفریح کے سامان پہلے کی طرح موجود ہیں اور شائقین اس کھیل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ مسجدیں امام بارگاہیں اور دیگر عبادت گاہیں آباد ہیں اور خدا کے بندے اپنے رب سے رابطہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔ بازاروں کی رونقیں قائم ہیں، بلکہ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وادیء سوات آج بھی سیاحوں کے لئے چشم براہ ہے۔ جرگے آج بھی عوام کے مسائل حل کرنے میں مصروف ہیں۔ زیارت میں قائداعظمؒ کی تاریخی رہائش آج بھی اپنی پہلی سی سج دھج دکھا رہی ہے۔ آج بھی فوجی جوانوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ وطن عزیز پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کے لئے تیار ہیں۔۔۔سچ ہے کہ رات کے اندھیرے سورج کے اجالوں کو نہیں روک سکتے۔ ثقافت زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔

مزید : کالم


loading...