16دسمبر1971ء: فیلڈ مارشل مانک شا کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے تھا (1)

16دسمبر1971ء: فیلڈ مارشل مانک شا کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے تھا (1)
 16دسمبر1971ء: فیلڈ مارشل مانک شا کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے تھا (1)

  


میرے کئی سویلین ’’پیٹی بھائی‘‘ 16دسمبر 1971ء کے سقوطِ ڈھاکہ کو آج 44 برس گزر جانے کے بعد بھی یوم سیاہ قرار دے رہے ہیں اور مجھے قصور شہر کے ایک اکھاڑے کا وہ ’’استاد پہلوان‘‘ یاد آ رہا ہے جس کے داؤ پیچ کے چرچے سارے شہر میں عام تھے۔۔۔یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے طول و عرض میں بڑے بڑے شہروں میں پہلوانی کے اکھاڑے عام ہوا کرتے تھے۔ ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے ہر سال جب پاک پتن سے اپنے ننھال جاتے تو کوٹ مراد خان سے کوٹ عثمان خان تک کے راستے میں دو تین اکھاڑے پڑتے تھے۔ شام ہونے سے پہلے ہم کشاں کشاں وہاں چلے جاتے اور ’’استاد‘‘ کے داؤ پیچ دیکھ کر بہت متاثر ہوتے۔ وہ اکھاڑے میں اپنے ایک ایک مقابل کو مختلف داؤ سکھاتا اور اسے چاروں شانے چت گرا کر بڑے فخر سے تماشائیوں کی جانب دیکھا کرتا اور ہم دل ہی دل میں اس کی داد دیا کرتے۔

ایک روز یہ ہوا کہ ایک نیا پہلوان بطور مہمان اس اکھاڑے میں آیا۔ معلوم نہیں کہ وہ کون تھا اور کہاں سے آیا تھا لیکن جب اس نے کپڑے اتارے اور لنگر لنگوٹ کس کر اکھاڑے میں اترا تو اس کے ڈبل ڈول نے سب کو مرعوب اور متاثر کیا۔ اتنے میں ’’استاد‘‘ بھی آ گیا اور ’’مہمان‘‘ سے ہاتھ ملایا تو ہم ’’بچہ لوگ‘‘ اس امید میں تھے کہ استاد کے داؤ کے سامنے دیکھتے ہیں اس فیل تن مہمان کا حشر کیا ہوتا ہے۔ لیکن استاد جو داؤ بھی لگاتا وہ مہمان اپنے تن و توش کے سبب اس کو ناکام بنا دیتا۔ آخر جب استاد، داؤ پہ داؤ لگا کر تھک گیا تو مہمان پہلوان نے آن کی آن میں اسے زمین پر پٹخ دیا۔۔۔ سبق یہ نکلا کہ طاقت کا ایک حجم ، کمزور حریف کے ہزار مکر و فن پر بھاری ہوتا ہے۔ فوجی زبان (Military Parlance) میں یہ کہا جائے گا کہ حملہ آور کی فورسز کے حجم (بمعہ اسلحہ) اور دفاع کرنے والے کی ٹیکٹکس (بمعہ اسلحہ) میں ایک تناسب ہوتا ہے۔ جب یہ تناسب بگڑ جاتا ہے اور حجم کا پلڑا ٹیکٹکس کے مقابلے میں بھاری ہو جاتا ہے تو حجم جیت جاتا ہے اور ٹیکٹکس ہار جاتی ہے۔

دنیا کی عسکری تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کی نازی افواج اور روس کی سرخ افواج میں ’’حجم‘‘ کے اسی فرق نے بالآخر جرمن افواج کو شکست سے دوچار کیا۔ یہی سبب 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان میں پاکستان آرمی کی شکست کا باعث بنا۔لیکن بجائے اس کے کہ اس شکست کے بعد پاکستان میں بننے والی مسٹر بھٹو کی حکومت ، اس شکست کے فوجی اسباب کی تحقیقات کسی فوجی کمیشن سے کرواتی اس نے سپریم کورٹ کا رخ کیا اور سقوطِ مشرقی پاکستان کی وجوہات جاننے کے لئے حمود الرحمن کمیشن کو جو مینڈیٹ دیا، وہ مضحکہ خیز تھا۔۔۔ اس کی کچھ تفصیل اس کالم میں پیش کی جا رہی ہے اور کالم کی دوسری قسط میں یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ اس حمام میں دونوں (پاکستان اور بھارت) ننگے تھے۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا کر اپنی سینا کو گویا ’’چارچاند‘‘ لگا دیئے اور یہ سمجھا کہ باقی پاکستان بھی اب گیا کہ گیا۔۔۔ لیکن تاریخ بتا رہی ہے کہ پاکستان نے اپنے اس ’’یومِ سیاہ‘‘ سے سبق حاصل کیا۔ ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم نہ کیا اور 13،14 برس بعد ایٹمی قوت بن گیا، 27برس بعد اس کا برملا اظہار بھی کر دیا اور پھر میزائل پروڈکشن کی دوڑ لگا دی اور پچھلے دنوں شاہین تھری میزائل کا تجربہ کرکے 1971ء کے اپنے ’’یومِ سیاہ‘‘ کو ’’یومِ سفید‘‘ نہ سہی ’’یومِ نیم سفید‘‘ میں تبدیل کر دیا۔ اگر دسمبر 1971ء میں جنرل مانک شا اور اس کے دوسرے فوجی کمانڈر (بشمول جنرل اجیت سنگھ اڑوڑہ) چاہتے تو 16دسمبر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاکستان کا یومِ سیاہ بن سکتا تھا۔۔۔ اس کی تفصیل بعد میں۔

دنیا میں شکستیں بھی بے شمار ہوئیں او رسرنڈر بھی ان گنت ہوئے، لیکن آج تک ایسا نہ ہوا کہ ان فوجی شکستوں اور سرنڈروں کی تحقیق کا کام کسی عدلیہ کے سپرد کیاگیا ہو۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کسی عسکری سزا کے خلاف کسی سول عدالت میں اپیل بھی نہ کی جاسکتی ہو وہاں سانحہ مشرقی پاکستان جیسے عظیم جرم کی تفتیش و تحقیق اور سزا تجویز کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا سہارا لیاگیا اور اسے مینڈیٹ یہ دیا گیا کہ ان عسکری اسباب کا کھوج لگایا جائے جن کی بناء پر یہ سانحہ رونما ہوا، ایسٹرن کمانڈ نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالے، پاکستانی فوجی افسروں نے سرنڈر کیا، مغربی پاکستان کی سرحد پر جنگ بندی کی گئی اور سیز فائر لائن (جو آج کل کنٹرول لائن کہلاتی ہے) پر فوجی کارروائیاں بند کرنے کا حکم دیاگیا ۔۔۔یعنی یہ سارا عسکری مینڈیٹ ایک غیر عسکری تنظیم کو سونپا گیا ۔

مجھے عدلیہ کا بے حد احترام ہے۔ ہماری فاضل عدلیہ کے تمام اراکین کا پیمانۂ ذہانت (I.Q) بلاشبہ اعلیٰ درجے کا ہے۔ ان کی اصابتِ رائے، ان کا قانونی اور آئینی علم و فضل اور جرم و سزا کے بارے میں ان کی معلومات اور فکر وفن اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن جس قسم کے جرم و سزا کے بارے میں انہیں تحقیق کرنے کے لئے اس وقت کے صدرِ پاکستان نے ہدایت کی، اراکینِ عدلیہ اس کی ابجد سے بھی واقف نہ تھے ۔فاضل ججوں نے اپنی اس کمزوری اور محدودیت (Limitation) کو تسلیم کیا۔ ان کا یہ اعتراف قابل صد تحسین ہے اور میرا خیال ہے کہ اس اعتراف کے بعد معاملہ ختم ہوجانا چاہیے تھا اور بھٹو صاحب کو عدالتی کمیشن کی جگہ ایک ایسا کمیشن تشکیل دینا چاہیے تھا جو مسلح افواج کے اراکین پر مشتمل ہوتا۔۔۔ لیکن یہاں تو معاملات ہی اور تھے۔۔۔ ایک ایسی ٹیم کو کسی آبدوز کی غرقابی کا سراغ لگانے کے لئے کہا گیا جو آج تک کسی آبدوز میں سوار ہی نہیں ہوئی تھی، جس نے کبھی خود زیر آب سفر ہی نہ کیاتھا اور جسے معلوم ہی نہ تھا کہ سطحِ آب کے نیچے ایک ایسی دنیا آباد ہے جو بالائے آب دنیا سے بالکل مختلف ہے۔ اس ٹیم کو بالائے سطحِ آب تو ایک ایک قطرے ، ایک ایک موج، ایک ایک گرداب اور ایک طوفان کا علم تھا لیکن زیر آب جو ہنگامے تھے، جو طوفان پلتے، بنتے اور ٹوٹتے تھے اور آبی مخلوق کا وہاں جو اندازِ بودوماند تھا اس کا علم اس ٹیم کو قطعاً کچھ نہ تھا!

فاضلِ اراکین کمیشن نے جن کا تعلق عدلیہ سے تھا، خود تسلیم کیا کہ ہمیں عسکری آپریشنوں کا علم نہ تھا اس لئے ہمیں ان آپریشنوں کے اسباب و علل اور عواقب و نتائج سے متعلق تمام تفصیلات کی بریفنگ دی گئی اور اس بریفنگ کے بعد ہی ہم نے اپنی تحقیقات شروع کیں۔ فاضل عدلیہ کا یہ اعتراف گویا اس دلیل کے مترادف تھا کہ ہمیں کسی ایف 16 یا کس پٹین ٹینک یا کسی غازی آبدوز یا کسی رانی توپ یا کسی خیبر تباہ کن بحری جہاز کے سارے حصوں پرزوں کے نام بتائے گئے اور وہ ساری تفصیلات بھی سمجھائی گئیں جو ان ہتھیاروں کو آپریٹ کرنے کے لئے ضروری تھیں ۔ اور اس کے بعد ہی کہیں جا کر ہم نے یہ کھوج لگایا کہ ایف 16 کیسے کریش ہوا، پیٹن کیسے برباد ہوا ، رانی کیسے تباہ ہوئی، غازی کیسے غرقاب ہوئی اور خیبر کیسے ڈوبا!

بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبی ست

اس کمیشن کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنر ل(الطاف قادر) کو بھی لگا دیا کہ وہ عسکری امور کے سلسلے میں عدلیہ کی مدد کریں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کمیشن تمام کا تمام فوجی افسروں پر مشتمل ہونا چاہیے تھا کہ سانحۂ مشرقی پاکستان ایک فوجی شکست تھی۔کوئی آئینی یا عدالتی یا قانونی شکست یا فتح نہ تھی۔ فوج کی ایک اپنی عدلیہ بھی ہے جسے جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ (JAG) کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کا کوئی ممبر بھی اس کمیشن میں شامل کیا جا سکتا تھا اور اگر اس فوجی جج سے اپنے ’’مطلب‘‘ کی سفارشات کی توقع نہ تھی تو کسی ایسے پروفیشنل رکنِ عدلیہ کو کمیشن کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا تھا جو اپنے کسی سابق عسکری تجربے کی بناء پر تجویز کردہ سزاؤں کی پیشہ ورانہ حیثیت کو سمجھتے، پرکھتے اور پھر اپنی رائے دیتے۔ جنرل الطاف قادر کے بارے میں فوج کی جو رائے تھی اور ان کا میلانِ طبع جس طرف تھا، اس کا علم ساری فوج کو تھا ۔مجھے ہر گز 1971ء کی عسکری قیادت کا دفاع منظور نہیں لیکن میرے ایک سینئر جو فارسی زبان کے ایک فوجی کورس میں میرے ساتھ چھ ماہ تک اکٹھے رہے تھے اور اب دوستاروں والے ایک ریٹائرڈ فوجی آفیسر تھے،۔جب میں نے یہ سوال ان سے کیا کہ حمود الرحمن کمیشن میں بھی تو فوج کا ایک جرنیل موجود تھا اور اس کی موجودگی میں کیا کمیشن کی رپورٹ کو پیشہ ورانہ وقعت اور احترام نہیں مل جاتا؟ تو اس سوال پر وہ مسکرادیئے تھے اور کہا: ’’جیلانی صاحب! آپ نے خواجہ حافظ کا وہ شعر تو سنا ہوگا‘‘:

شبِ تاریک و بیمِ موج و گردابے چنیں حائل

کجا دانند حالِ ما‘ سبک سارانِ ساحل

(ترجمہ: اندھیری رات تھی، بپھری ہوئی موجیں امڈ رہی تھیں اور گرداب پڑ رہے تھے۔ اس قسم کے سمندری طوفان کا علم بھلا ان ‘‘شُہدوں‘‘ کو کیا ہوگا جو ساحل پر کھڑے تھے)۔

یہ درست ہے کہ جو جنرل اور دوسرے سینئر اور جونیئر آفیسرز اس جنگ میں (یا اس شکست میں ) شامل تھے ان میں سے بعض کو کمیشن نے بلایا اور ان کو سنا بھی گیا لیکن ان کی وہ بپتانہ سنی گئی جو انہوں نے چیخ چیخ کر سنانے کی کوشش کی تھی۔ ان افسروں نے لاکھ کہا کہ مشرقی پاکستان کی فوجی اور سیاسی صورتحال سب کی سب شدید طور پر کسی بھی بڑے جنگی آپریشن کو لانچ کرنے کے لئے غیر موافق تھی۔ مثلاً مشرقی پاکستان کی آبادی کی اکثریت فوج کے خلاف تھی، مکتی باہنی بنگالیوں کی وہ فوج تھی جس کے آفیسر پاک فوج سے بھاگ کر آئے تھے، وہ سب کے سب پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے تربیت یافتہ اور راز ہائے درونِ خانہ سے آگاہ تھے، ایئر فورس اور نیوی کے بنگالی افسرں کا بھی یہی حال تھا کہ و ہ رسالپور اور کراچی کی عسکری تربیت گاہوں کے فارغ التحصیل تھے۔ انہیں بھارت نے مزیدٹریننگ دے کر، ہتھیار فراہم کرکے اور شیخ مجیب نے انہیں موٹیویٹ (Motivate) کرکے پاک فوج کے خلاف لانچ کردیا تھا۔ وہ سب لوگ چونکہ فرزندِ زمین تھے، اس لئے چپے چپے سے واقف تھے۔ علاوہ ازیں پاکستان آرمی کو کوئی انصرامی(Logistic)، افرادی اور اسلحی کمک مغربی پاکستان سے نہیں آسکتی تھی، فضاؤں پر انڈین ایئر فورس کامکمل کنٹرول تھا، اسلحہ اور افرادی قوت میں بھارت کو تین ایک کی برتری حاصل تھی، یعنی پا ک فوج کے ایک ڈویژن کے مقابلے میں بھارت کے تین چار ڈویژن حملہ آور تھے، کوئی اسلحہ ساز فیکٹری مشرقی پاکستان میں موجود نہ تھی کہ و ہ پاک فوج کے خرچ شدہ اسلحے اور گولہ بارود کو پورا (Replenish) کرتی۔۔۔ ایسے حالات میں جنگ جاری رکھنا خودکشی تو ہوسکتی تھی، بہادری اور دلیری ہرگز نہیں۔۔۔ لیکن ان بے چاروں کی کچھ نہ سنی گئی۔ (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...