سانحہ مشرقی پاکستان اور ہماری مستقبل کی پیش بندی

سانحہ مشرقی پاکستان اور ہماری مستقبل کی پیش بندی
 سانحہ مشرقی پاکستان اور ہماری مستقبل کی پیش بندی

  


بات بہت پرانی نہیں اسی سال 7جون کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا، اس دوران انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہونے والے ایک پروگرام میں شرکت بھی کی۔یہ پروگرام پاکستان کو توڑنے اور بنگلہ دیش بنانے میں بھارتی کردار کے اعتراف و خدمات کے حوالے سے تھا ۔نریندر مودی نے اس موقع پر جو گفتگو کی اس کا ایک ایک لفظ پاکستان دشمنی میں ڈوبا ہوا ہے ۔ مودی کا کہنا تھا: ’’بنگلہ دیش کی آزادی میں بھارتی فوجیوں کا خون بھی شامل تھا،ہمارے لوگوں نے بھی بنگلہ دیشیوں کے کندھے سے کندھا ملا کر جدو جہد کی،ہم مکتی باہنی کے ساتھ مل کر لڑے ،ہمارے فوجیوں کے علاوہ عام ہندؤوں کا بھی بنگلہ دیش بنانے (پاکستان توڑنے) میں حصہ ہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی (پاکستان توڑنے کی تحریک )میں مَیں نے بھی بطور رضاکارحصہ لیا‘‘۔۔۔مودی نے پاکستان توڑنے کی پرانی یادوں اور باتوں کو دھراتے ہوئے بتایا:’’ واجپائی نے اس کارنامے( پاکستان توڑنے) پر اندرا گاندھی کو درگا سیئا کا خطاب دیاتھا‘‘۔پاکستان توڑنے کا اعتراف اگر چہ اندراگاندھی نے بھی بحیثیت وزیر اعظم کیا تھا،لیکن مودی پہلے بھارتی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے سر کاری دورے میں ایک دوسرے ملک کی سرزمین پر کھڑے ہوکے وزیراعظم کی حیثیت سے میڈیا کے سامنے پوری ڈھٹائی کے ساتھ دشمنی کا اظہار واقراراور پاکستان توڑنے کا اعتراف کیا ہے۔

مودی کے بیان میں اگرچہ کوئی نئی چیز نہیں، اس لئے کہ بھارت کے کم و بیش تمام سیاستدان پاکستان کے بارے میں یہی نفرت بھرے جذبات رکھتے ہیں۔البتہ ایک نئی بات جو ہمارے سمجھنے کی بھی ہے ،وہ یہ کہ پاکستان کو توڑنے کے باجود بھی بھارتی حکمرانواں اور سیاستدانوں کے پاکستان دشمن جذبات میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی ۔ یہ دشمنی آج بھی زندہ اور جوان ہے۔ بھارت وہ ملک ہے جس نے ہمارا ایک بازو توڑا،7کروڑ آبادی اور56ہزار مربع میل پر مشرقی خطہ ہم سے جدا کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان سے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی مملکت ہونے کا اعزاز چھن گیا،لیکن ہمارے نادان حکمران ،سیاستدان بچ جانے والے ایک ہی بازو کے ساتھ بھارت سے بغل گیر ہونے اور دوستی کے رشتے استوار کرنے کے لئے بے تاب و بے قرار ہیں اور بھو ل گئے ہیں کہ بھارت نے ہمارا بازو ہی نہیں توڑا،ہماری شہ رگ (مقبوضہ جموں کشمیر )کو بھی پوری قوت سے دبوچ رکھا ہے۔ اصول یہ کہ جو قوم تاریخ سے سبق حاصل نہ کرے، اور اپنے ماضی کو یاد نہ رکھے وہ باربار ماضی کی غلطیوں کا اعادہ کرتی ہے۔ ماہرین عمرانیات قوموں کے ماضی کو ان کی یادداشت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جو قوم اپنا ماضی بھول جائے، وہ اپنی یادداشت کھو بیٹھتی ہے۔ پھر اس قوم پر ایک وقت آتا ہے جب وہ خود قصۂ ماضی بن جاتی ہے۔ اس لئے ماضی کو بہرصورت یاد رکھنا چاہئے۔

ماضی کا نہ بھولنے والا ایک سبق سانحہ مشرقی پاکستان ہے۔ یہ سانحہ اچانک رونما نہیں ہوا تھا ،بلکہ اس کے پیچھے سال ہاسال کے عوامل اور حادثات کارفرما تھے جو اس کے وقوع پذیر ہونے کا سبب بنے۔ یہ درست ہے کہ قوموں کی زندگیوں میں المیے اور حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں ، قوموں کو فتح و شکست اور عروج و زوال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن زندہ قومیں اپنے ماضی، اور اپنے دشمن کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ایسے ہی پاکستانی قوم سانحہ مشرقی پاکستان کو کبھی نہیں بھول سکتی، البتہ اقتدار واختیار کے ایوانوں میں براجمان ہمارے حکمرانوں نے اس سانحہ کو ضرور بھلادیا ہے ۔یقینی بات ہے اگر ہمارے حکمرانوں نے اس سانحہ کو یاد رکھا ہوتااور اپنے دشمن کو فراموش نہ کیا ہوتا توآج ہمارا ملک ناگفتہ بہ حالات سے دوچار نہ ہوتا۔ ماضی کا یاد رکھنے والا ایک سبق یہ ہے کہ متحدہ ہندوستان کے 9صوبے تھے۔ جب تقسیم ہند کا وقت آیا تو 9 میں سے 7 صوبے مکمل طور پر ہندوؤں کو دے دیئے گئے۔ صرف دو صوبے، یعنی بنگال اور پنجاب تقسیم ہوئے۔

دو آدھے صوبوں(مشرقی بنگال اور مغربی پنجاب)سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان پر مشتمل پاکستان بھی انگریز اور ہندوؤں کو قبول نہیں تھا،اس لئے کہ انگریز اور ہندو پاکستان کے قیام کے حق میں ہی نہ تھے۔ ان کے نزدیک پاکستان محض جغرافیائی تقسیم کا نام نہیں تھا، بلکہ اسلام اور عقیدۂ توحید سے موسوم ایک مملکت کا نام تھا۔اس لئے ہندو اور انگریز اس کے قیام کے خلاف تھے۔ کانگریسی رہنماؤں کے پاکستان کے خلاف وقتاً فوقتاً دیئے جانے والے بیانات ان کے خبث باطن کا عملی ثبوت تھے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 14جون 1947ء کے اجلاس میں پاکستان کے متعلق اپنے مستقبل کے عزائم کا اظہار ان الفاظ میں کر دیا تھا: ’’ہمارے دلوں میں ہمیشہ متحدہ ہندوستان کا تصور قائم رہے گا۔ ایک وقت آئے گا جب دو قومی نظریہ باطل، مسترد اور غیر معتبر قرار پائے گا؟۔۔۔ واضح رہے کہ 14جون کا یہ بیان کانگریس کے کسی رہنما کا ذاتی نہیں بلکہ ایک ایسی جماعت کا پالیسی بیان تھا جو 15اگست کو بھارت کی عنان حکومت سنبھالنے والی تھی۔ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد 14جون کے اپنی پالیسی ساز اور سرکاری بیان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسلسل کوشاں رہی۔ سانحہ مشرقی پاکستان کانگریس کی انہی مذموم اور ناپاک کوششوں کا نتیجہ تھا۔

بھارت کی طرف سے پاکستان کو جنگ کی پہلی دھمکی اس کے قیام کے صرف 40دن بعد عدم تشدد کا پرچار کرنے والے گاندھی نے 26ستمبر 1947ء کو پرارتھنا کی ایک میٹنگ میں دی تھی اور اس کے ٹھیک ایک ماہ بعد 27اکتوبر کی سیاہ شب بھارت نے اپنی فوجیں ریاست جموں وکشمیر میں داخل کر کے پاکستان کے خلاف جنگ کی دھمکی کو عملی جامہ پہنا دیا تھا۔ ریاست جموں کشمیر کے 41,342مربع میل علاقے پر قبضے کے بعد بھارت کا اگلا محاذ مشرقی پاکستان تھا۔ حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جس طرح مشرقی پنجاب میں گورداسپور بھارت کو دے کر ریاست جموں و کشمیر میں اس کی دراندازی کی راہ ہموار کی گئی تھی ایسے ہی بنگال میں کلکتہ بھارت کو دے کر مشرقی پاکستان کے لئے جغرافیائی، اقتصادی، معاشی اور دفاعی مشکلات کھڑی کی گئیں۔ کشمیر کی طرح کلکتہ کو بھی پاکستان سے کاٹنے کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا۔ جیسا کہ سردار پٹیل نے بعد میں کہا تھا: ’’ہم بنگال کی تقسیم پر صرف اسی صورت میں رضامند ہوئے تھے کہ ہمیں کلکتہ سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں۔ ہم نے واضح کر دیا تھا کہ اگر کلکتہ نہیں تو کچھ بھی نہیں‘‘۔

1947ء کے فوراً بعد ہی بھارت نے مشرقی پاکستان میں سازشوں کے جال بچھانے اور وہاں کی فضا کو مسموم کرنے کے لئے کلکتہ میں تحقیقی مراکز قائم کر دیئے تھے، ان مراکز میں گمراہ کن اعداد وشمار پر مبنی کتابیں، تصویریں ، پمفلٹس اور اشتہارات تیار کر کے مشرقی پاکستان بھیجے جاتے۔ یہ بات معلوم ہے کہ مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ہندو اساتذہ عام تھے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی ہندو اساتذہ کا مرکزتھی۔تعلیمی ادارے دشمن کے سپرد کرد ینا اپنی سرحدیں دشمن کے لئے کھول دینے کے مترادف تھا۔ کلکتہ سے تیار ہونے والا لٹریچر مشرقی پاکستان کے ہندو اساتذہ تک پہنچتا، وہ اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے، نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ اور زہر آلود کرتے، بنگالیوں میں احساس محرومی اجاگر کرتے، گمراہ کن اعداد وشمارکو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور ایسے لیکچر دیتے جن میں کہا جاتا کہ وسائل تو ہمارے ہیں، مگر ان پر عیش وعشرت مغربی پاکستان والے کر رہے ہیں۔ اس طرح بنگالی نوجوان یہ سمجھنے لگے کہ جس آزادی کی خاطر انہوں نے قربانیاں دیں، وہ آزادی مغربی پاکستان کے ارباب اقتدار و اختیار کے ہاں گروی ہو چکی ہے۔ دونوں خطوں کے معاشرتی و سماجی ڈھانچے میں فرق، زبان کا تنازع اورصوبائی خود مختاری جیسے مسائل اندر اندر ہی چنگاری کی طرح سلگتے رہے۔ بھارتی پروپیگنڈہ اس چنگاری کو ہوا دیتا رہا، پھر ایک وقت آیا جب یہ چنگاری شعلے کی طرح بھڑک اٹھی۔ مغربی پاکستان کا حکمران طبقہ ان مسائل و معاملات کو سلجھانے، سدھارنے کی بجائے ان کے الجھاؤ اور بگاڑ کا سبب بنا۔جب یہ شعلہ بھڑکا تو سب کچھ راکھ ہو گیا، بھائی بھائی کا دشمن بن گیا، پاکستان دولخت ہو گیا، ایک جسم تھا جو کٹ گیا،ایک دل تھا جس نے دھڑکنا چھوڑ دیا۔

پاکستان کے دولخت ہونے کا باعث بننے والے مسائل پیچیدہ ہرگز نہیں تھے، تاہم سب سے اہم مسئلہ جس سے پہلوتہی کی گئی اور جو حقیقتاً مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنا ،وہ اسلام اور اللہ کے قرآن سے انحراف تھا۔ بات بہت سیدھی سی تھی کہ ہندوستان بہت وسیع و عریض خطہ تھا جس میں مسلمان دور دور تک بکھرے ہوئے تھے۔ راجکماری سے کراچی تک بکھرے مسلمانوں کو اگر کسی چیز نے ایک لڑی میں پرو دیا تو وہ اسلام تھا۔ یہ اسلام کے نام کی برکت تھی کہ پورے برصغیر کے مسلمان پاکستان کے نام پر جان قربان کرنے کے لئے آمادہ و تیار تھے۔ آج مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہات کا تعین کرنے والے دونوں خطوں میں زبان، بیان ،صوبائی خودمختاری اور زمینی و جغرافیائی جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب دونوں خطوں کے عوام نے مل کر وطن کے حصول کی مشترکہ جدوجہد کی تو کیا اس وقت یہ مسائل نہیں تھے؟۔۔۔ سب کچھ ایسے ہی تھا۔ یہ مسائل اس وقت بھی تھے۔ زمینی خلیج اور زبان کی تفریق اس وقت بھی تھی لیکن اسلام کے رشتے کی وجہ سے ایک ہزار میل دور بیٹھے دونوں خطوں کے مسلمانوں کے جذبات و احساسات ایک تھے اور ان کے دل بھی ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ بنگالی مسلمانوں کی اسلام اور پاکستان کے ساتھ محبت شک وشبہ سے بالاتر تھی۔ (جاری ہے)

1965ء کی جنگ میں لاہور کے محاذ پرایسٹ رجمنٹ بنگال کے ٹائیگرز نے بھی دادوشجاعت کے جوہر دکھائے تھے۔لاہور کینٹ کے قبرستان میں بنگالی شہدا کی قبریں آج بھی ان کی پاکستان کے ساتھ محبت کی یادوں کو مہکا رہی ہیں۔اسی طرح انگریز کے انخلا اور وطن کی آزادی کے لئے ان کی قربانیاں تاریخ ساز تھیں۔ جماعت مجاہدین سے وابستہ بنگال و بہار کے مسلمان ایک سو سال تک انگریز کے خلاف برسرپیکار رہے، اسے لوہے کے چنے چبواتے رہے، قیدوبند کی صعوبتوں اورسختیوں کو سنتِ یوسفی سمجھتے رہے، پھانسی کے پھندوں کو جنت کی معراج جانتے رہے، آہنی زنجیر و سلاسل کو لباسِ زینت سمجھ کرپہنتے رہے اور جب قیام پاکستان کی تحریک چلی تو اسے سید احمد اور شاہ اسماعیل شہیدین کی برپا کردہ مقدس جہادی تحریک کا ماحاصل سمجھ کر کامیاب کرنے کے لئے کمر بستہ ہو گئے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بنگال و بہار سے تعلق رکھنے والے جماعت مجاہدین کے جانبازوں اور سرفروشوں کا مشرقی بنگال کو مشرقی پاکستان بنانے میں اہم کردار تھا، لہٰذا جب پاکستان بن گیا تو ضرورت اس امر کی تھی کہ اس کے قیام کے مقاصد کو بروئے کار لایا جاتا۔ لاالہ الااللہ کو محض نعرے کی بجائے اقتدار کے محلات، عدلیہ کے ایوانوں، عوام کی زندگیوں، ہر محکمے اور ہر شعبے میں عملاً نافذ کیا جاتا۔

سچی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان کا مقدر اسلام سے وابستہ کر دیا جاتا تو پھر دونوں خطوں میں نہ تو زبان ولسان کے مسائل پیدا ہوتے نہ صوبائی خودمختاری و احساس محرومی کا عفریت جنم لیتا اور نہ بھارت کی سازشیں کامیاب ہوتیں۔ جب اسلام سے روگردانی اور بے وفائی کی گئی تو دونوں خطوں میں نفرتوں، عداوتوں اور دشمنیوں کے بیج پھوٹنے لگے یہاں تک کہ بھارت کی بوئی ہوئی نفرت، لسانیت اور صوبائیت کی فصل پک کر تیار ہو گئی۔ دہشت گردی، تخریب کاری اور بغاوت کو منظم کرنے کے لئے بنگلہ دیش کی نام نہاد آٹھ رکنی جلاوطن حکومت کا ہیڈکوارٹر کلکتہ کے علاقے 58بالی گنج میں بنایا گیا۔ 3دسمبر کو جب اندرا گاندھی نے اپنی فوج کو مشرقی پاکستان پر علی الاعلان حملہ کرنے کا حکم دیا ۔اس وقت وہ کلکتہ میں تھیں حملہ آور بھارتی فوج کی تعداد پانچ لاکھ تھی۔ پاک فوج سے بھاگے ہوئے بنگالی فوجی جوان، افسر، مکتی باہنی اور مجیب باہنی کے دستے اس کے علاوہ تھے۔ پاک فوج کے مقابلے میں دشمن کی طاقت سات گنازیادہ تھی۔ چنانچہ 16دسمبر کو پاک فوج کو ڈھاکہ ریس کورس میں سازش کے تحت ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا گیا۔جن لوگوں نے مشرقی پاکستان میں پاک فوج اور ریاست کے خلاف جنگ لڑی انہوں نے اس جنگ کو اپنی ۔۔۔اور اپنے وطن کی آزادی کی جنگ قرار دیا تھا، لیکن کیا واقعی یہ ان کی اپنی جنگ تھی ؟ اور کیا واقعی یہ ان کے خطے کی آزادی کی جنگ تھی؟۔۔۔

خوش فہمی اور خوش گمانی کے شکار ان لوگوں کو 16دسمبر کے دن ہی اپنے سوالوں کے جوابات مل گئے تھے اور یہ تلخ حقیقت ان پر واضح ہو گئی تھی کہ جس جنگ کو انہوں نے مشرقی پاکستان کی آزادی اور بنگلہ دیش کے قیام کی جنگ سمجھا۔۔۔ وہ دراصل بھارت کی بالادستی قبول کرنے اور اس کی غلامی کا طوق پہنائے جانے کی جنگ تھی۔ پاک فوج سے بھاگنے والے بنگالی فوجی جوانوں، افسروں اور مکتی باہنی کے دستوں پر مشتمل جو فوج تشکیل دی گئی بھارتی میڈیا کے بقول اس کی تعداد 2لاکھ تھی۔ پاک فوج سے بھاگنے والا کرنل محمد عطاالغنی جو کرنل عثمانی کے نام سے معروف تھا اس فوج کا کمانڈر انچیف اور مشترکہ کمانڈ کا بھی سربراہ تھا۔ واضح رہے کہ کرنل عثمانی پاک فوج کی مایہ ناز ایسٹ رجمنٹ بنگال کاسپوت اور 65ء کی جنگ میں لاہور کے محاذ پر بہادری کے جوہر دکھا چکا تھا۔ وہ بنگالی جوبھارتی پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر فوج سے بھاگے ان میں یہ بھی شامل تھا۔ کرنل عثمانی کو پاک فوج کی اعلیٰ قیادت سے جو شکوے تھے ان میں ایک شکوہ پروموشن نہ دئیے جانے کا تھا۔وہ سمجھتا تھا کہ پروموشن روک کر اس کی حق تلفی کی جارہی ہے۔پاک فوج سے بھاگنے ،وطن سے غداری کرنے اور اپناہاتھ بھارت کے ہاتھ میں دینے کے بعد یہ شخص مکتی باہنی کا کمانڈر انچیف تو بن گیا،لیکن حالات کی کیسی ستم ظریفی تھی کہ جب ڈھاکہ کے ریس کورس میں ہتھیار ڈالے جانے کی تقریب منعقد ہوئی تو بھارتی فوج نے مکتی باہنی کے اس کمانڈر انچیف او ر پاک فوج سے بھاگے ہوئے دیگر فوجی افسروں کو اس تقریب کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا تھا، حالانکہ یہ وہی کرنل عثمانی تھا جس کو بھارتی حکومت نڈر، بہادر، شہ زور اور نہ جھکنے والا بنگا بیر (شیر بنگال) کہا کرتی تھی۔

بھارت نے اس شیر بنگال سے جو کام لینا تھا لے لیا،کام نکل جانے کے بعد اسے دھتکار دیا اور مکھن سے بال کی طرح باہر نکال پھینکا۔ اگر شیر بنگال اور بنگلہ دیش کی افواج کے کمانڈر انچیف کی بھارتی فوج کے سامنے یہ بے بسی تھی تو باقی بنگالی فوجی افسروں یا عام سویلین، جنہوں نے بھارت کا ساتھ دیا تھا، ان کی اوقات کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔ اقوام عالم کی تاریخ بتاتی ہے کہ اپنے وطن اور اپنی دھرتی کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور دشمنوں کا ساتھ دینے والوں سے فاتح فوجیں ہمیشہ یہی سلوک کرتی ہیں۔ یہ گھر کے رہتے ہیں اور نہ گھاٹ کے، ان کی حالت اس موج کی سی ہوجاتی ہے، جو دریا سے نکل کر اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے اور اس ٹہنی کی سی ہوتی ہے، جو درخت سے ٹوٹ جائے توکبھی سرسبزوشاداب نہیں ہوسکتی۔ جنگ بندی کا مسودہ مشرقی کمانڈکاچیف آف سٹاف میجر جنرل جیکب ،جو یہودی تھا، بھارت سے ڈھاکہ لے کے پہنچا۔ جنگ بندی کی دستاویز پر پاکستان کی طرف سے جنرل نیازی اور بھارت کی طرف سے جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے دستخط تھے۔جنرل نیازی نے اپنا سروس ریوالور جنرل اروڑا کے حوالے کیا اور پاکستانی فوجیوں کو بھارتی سرزمین پر لے جا کر قیدی بنایا گیا تھا۔

یہ حقائق اگرچہ بہت تلخ ہیں، لیکن بتلانا یہ مقصود ہے کہ1971ء کے وقت جو جنگ لڑی گئی ،وہ درحقیقت بھارت کی بالادستی کی جنگ تھی جو ا س نے پاکستان سے ناراض بنگالیوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر لڑی۔ بھارت کا مقصد پاکستان کو دولخت کرنا تھا اور مشرقی پاکستان کو اپنے زیراثر لانا تھا۔ بعد ازاں اندرا گاندھی نے اپنے مذموم مقاصد کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا: ’’آج ہم نے دوقومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا اور مسلمانوں سے ہزار سالہ ظلم کا بدلہ لے لیا ہے‘‘۔۔۔بھارت مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کر کے اقوام متحدہ کے چارٹر 1950ء کی صریحاً خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا۔ اسی طرح بھارت 1966ء کے ان پاک بھارت معاہدوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا جن میں ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر اور دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی اس امر کا واضح ثبوت تھا کہ بھارت کو پاکستان کے معاملے میں نہ یو این اوکے چارٹر کی پروا ہے اور نہ اپنے کئے ہوئے معاہدوں کی پاسداری ہے۔ بھارت کاآج بھی پاکستان کے ساتھ یہی رویہ اور سلوک ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ بھارت، پاکستان دشمنی میں آج بھی اسی جگہ کھڑا ہے، جہاں وہ 67سال پہلے یا 16دسمبر 1971ء کے موقع پر تھا۔ابھی گذشتہ سال 16 دسمبر کا آرمی پبلک سکول پشاور کا دلدوز اور المناک سانحہ ہمارے سامنے ہے۔ اس وارادت کے لئے دن کا انتخاب بتانے کے لئے کافی ہے کہ یہ کارروئی ہمارے ازلی دشمن بھارت کی ہے ۔ وہ ایک طرف مذاکرات اور دوستی کی باتیں کرتا اور دوسری طرف اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ اس نے دشمنی نہیں، طریقہ واردات بدلا ہے۔ کشمیر کے معاملے میں بھی اس کا رویہ منافقانہ اور عیارانہ ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان اور اس کے بعد سے اب تک بھارت کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور مسئلہ کشمیر پر اس کی ہٹ دھرمی ۔۔۔ ہمارے حکمرانوں کی برہمن کے ساتھ مصالحت، مفاہمت اور دوستی کی بے جا توقعات وابستہ کرنے کانتیجہ ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ بھارت کے ساتھ بے جا جنگ وجدل کا بازار گرم کیا جائے، لیکن ہم یہ کہے بغیر بھی نہیں رہ سکتے کہ بے جا مصالحت، بے مقصد مفاہمت اور کھوکھلی و یک طرفہ اعتماد سازی کی امیدیں ہمیشہ جارحیت کو دعوت دیتی ہیں،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے پاکستان کے ساتھ ماضی و حال میں روا رکھے جانے والے رویے و کردار، اس کی دوستی و دشمنی اور سانحہ مشرقی پاکستان کے زخموں کے تناظر میں معاملات طے کئے جائیں۔

یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ 1971ء کے موقع پر بہت سے لوگوں نے پاکستان کو متحد رکھنے کی کوششیں کی تھیں، بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ابتداً شیخ مجیب الرحمن نے جنگی جرائم کے تحت ان پر مقدمہ چلانا چاہا ، لیکن بعد میں ان لوگوں کو پاک فوج کے ساتھ تعاون کرنے والا قرار دے کر معاملہ ختم کر دیا گیا تھا، اس سلسلے میں باقاعدہ سہ فریقی معاہدہ ہواتھا۔ اب بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت 43سال قبل ہونے والے معاہدے کو توڑ رہی ہے۔ پاکستان کو متحد رکھنے کی کوششیں کرنے والے بزرگوں کو عمر قید اور پھانسی کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔ آج حسینہ واجد بنگلہ دیش میں ظلم ڈھارہی ہے اور مودی کے دورے سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اس ظلم میں بھارت شامل ہے۔حسینہ واجد اور بھارت کا آج کاگٹھ جوڑ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ 43سال پہلے مشرقی پاکستان میں تاریخ کے بدترین مظالم ڈھانے والے اصل مجرم شیخ مجیب الرحمن اور بھارت تھے ،جن لوگوں نے پاکستان کو بچانے اور متحد رکھنے کی کوشش کی، وہ اس وقت بھی مظلوم تھے،آج بھی مظلوم ہیں۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں ہمیں بحیثیت قوم اپنا جائزہ لینا ہو گا کہ 43سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں ؟اس سانحہ سے ہم نے کیا سبق حاصل کیا؟۔۔۔ ہم سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں اوران غلطیوں کی اصلاح کے لئے ہماری کیا پیش بندی ہونی چاہئے ۔۔۔کہاجاتا ہے کہ 1971ء میں ہم عسکری اعتبار سے کمزور تھے، اس لئے بھارت کو جارحیت کی جرأت ہوئی ۔جزوی اعتبار سے یہ بات درست ہو سکتی ہے، لیکن اصل حقیقت کو پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ سمجھنے کے لئے ہمیں1965ء اور 1971ء کی جنگوں کا تھوڑا سا موازنہ کرنا ہو گا۔دونوں جنگوں میں 7سال کا وقفہ ہے۔کبھی ہم نے سوچا کہ 1965ء میں ہمیں شاندار فتح کیسے نصیب ہوئی اور71ء میں معاملہ اس کے برعکس کیوں رہا؟۔۔۔ سچی بات یہ تھی کہ 1965ء کی جنگ میں ہم نے مدد کے لئے اللہ کو پکارا اوراپنا اتحادی اللہ کو بنایا تھا۔ایوب خان کی تقریر کے ایمان افروز اس جملے ’’لاالہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو‘‘ سے پورے ملک میں فضائے بدر کا نقشہ بن گیا تھا۔1971ء کی جنگ میں ہم نے اللہ کی بجائے ساری امیدیں امریکہ سے وابستہ کرلیں۔اللہ سے رشتہ وتعلق توڑ کر امریکہ سے جوڑ لیا۔آسمان والے کو مدد کے لئے پکارنے کی بجائے امریکی بحری بیڑے کے انتظار میں بیٹھے رہے۔ہم بھول گئے کہ جس کا مدد گار اللہ بن جائے ساری دنیا مل کر بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور جس کی مدد اللہ نہ کرے ساری دنیا مل کر بھی اسے بچا نہیں سکتی۔

آج ہمارا ملک ایک بار پھر اندرونی و بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہماری سول و فوجی قیادت خطرات سے غافل نہیں، ملک کے دفاع واستحکام کے لئے یک دل ویک جان ہے۔حفاظتی و دفاعی تدابیر میں بہتری لائی جارہی ہے۔بحمدللہ ہمارا ملک ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے اب دشمنوں کے لئے ترنوالہ نہیں رہا۔ یہ سب تدابیر واقدامات بجا ،لیکن سب سے بڑی تدبیر یہ ہے کہ ہم اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور اس سے کئے ہوئے وعدوں کو ایفا کریں۔1947ء کے موقع پر ہم نے اللہ سے جووعدے کئے، ان میں پاکستان کو لاالہ کی جاگیر بنانے،بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو تنہا نہ چھوڑنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے وعدے بھی شامل تھے ۔ سو ہمیں یہ بات یقین سے سمجھ لینی چاہئے کہ اللہ کی مدد اسی وقت ہمارے شامل حال ہوگی ،ہمارا ملک اسی وقت مضبو ط و مستحکم ہوگا اورہمارے مسائل و مصائب اس وقت حل ہوں گے ،جب ہم اللہ سے کئے ہوئے وعدے پورے کریں گے۔

ہمیں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ 16دسمبر کا سانحہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج پر قرض ہے۔ دانا آدمی مقروض ہو جائے تو وہ قرض خوا ہ کے پاؤں نہیں پڑتا، بلکہ ہمیشہ قرضہ چکانے کی فکر میں رہتا ہے۔ جو آدمی قرض کی ادائیگی سے بے پروا ہو جائے وہ قرض کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے ،جب اس کا گھر رہتا ہے نہ عزت و آبرو۔ لوگ اس کے جسم کے کپڑے تک نوچ لیتے ہیں۔ یہی حال قوموں کا ہے قوموں کی تقدیر کے فیصلے حقائق سے آنکھیں چرانے سے نہیں ،بلکہ فہم و فراست، عقل ودانش، جرأت و شجاعت، دلیری و بہادری، خون کی سیاہی اور شمشیر کی نوک سے لکھے جاتے ہیں۔ یہی زندہ و خوددار قوموں کا طریقہ وشیوہ ہے اور یہی 16دسمبر کا سبق ہے۔

مزید : کالم


loading...