قومی تاریخ کا سیاہ باب: سانحہ مشرقی پاکستان!

قومی تاریخ کا سیاہ باب: سانحہ مشرقی پاکستان!
 قومی تاریخ کا سیاہ باب: سانحہ مشرقی پاکستان!

  


کیا ہم نے اس سے کچھ سبق حاصل کیا؟ آج سے 44 سال پہلے بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے، مکتی باہنی کی بھرپور سرپرستی کرتے ہوئے مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی والے خطے مشرقی پاکستان کو ہم سے الگ کردیا۔ اس عظیم سانحہ پر علامہ اقبالؒ ، قائداعظمؒ اور تحریک پاکستان کے شہداء کی روحیں یقیناًتڑپ اٹھی ہوں گی۔ تحریک پاکستان میں عملی طور پر حصہ لینے والے وہ کارکن جو اس وقت حیات تھے، وہ دھاڑیں مار مار کر رو دیئے۔ ہر طرف یہی دل ہلا دینے والے مناظر تھے۔ ستمبر 1965ء کی جنگ میں پاکستان کی بہادر افواج نے جس طرح اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا تھا، اس مکار اور عیار دشمن نے مکتی باہنی کی عملی مدد کرتے ہوئے اس کا بدلہ ہم سے بمعہ سود وصول کرلیا کہ ہمارا ایک بازو ہم سے جدا کردیا۔16 دسمبر 1971ء کو پیدا ہونے والی نسل تو اب جوانی سے بڑھاپے کی طرف قدم بڑھا رہی ہے اور آج کی نوجوان نسل کو شاید ’’سانحہ مشرقی پاکستان‘‘ کے بارے میں معلومات ہی نہ ہوں کہ کس طرح ’’اپنوں اور غیروں‘‘ کی مشترکہ سازش سے علامہ اقبالؒ اور حضرت قائداعظمؒ کے پاکستان کے دو ٹکڑے ہوئے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان سے ہندوؤں نے جس تیزی سے نقل مکانی کی، اپنا سرمایہ اور فیکٹریوں سے مشینری تک اکھاڑ کر لے گئے، مشرقی پاکستان کو انتظامی اور معاشی طور پر تباہ کرنے کے لئے ہر قدم اٹھایا۔ تعلیمی نصاب، زبان کا مسئلہ اور تعصب کی آگ کو اس طرح بھڑکایا کہ یہاں کے لوگ بھارتی پروپیگنڈے کو سچ سمجھنے لگے۔

حضرت قائداعظمؒ نے 21 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس بھارتی مکروہ سازش کو پُرزور انداز میں بے نقاب کیا۔ انہوں نے عوام سے پوچھا کہ ایسٹ بنگال (مشرقی پاکستان) یا پاکستان کا کوئی حصہ انڈیا یونین میں شامل ہو جائے ،جس پر عوام نے جوش انداز میں کہا نہیں نہیں۔۔۔ "No No"۔ یاد رہے کہ ڈھاکہ کے اس جلسۂعام میں تین لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی جو بانئپاکستان کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کی تقریر سننے کے لئے مشرقی پاکستان کے کونے کونے سے یہاں آئے تھے۔ حضرت قائداعظمؒ نے عوام کی طرف ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ خوش ہیں کہ ہم نے پاکستان حاصل کیا۔ لوگوں نے فلک شگاف نعرے لگائے اور کہا ہاں ہاں ۔۔۔"Yes Yes"۔ جلسہ گاہ کی فضا پاکستان زندہ باد، قائداعظم زندہ باد، مسلم لیگ زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ قائداعظمؒ اور پاکستان کے ساتھ محبت بھرے ان نعروں نے بارڈر پار سازشیوں میں تہلکہ مچا دیا۔ ان تک مشرقی پاکستان کے عوام کا وطن سے محبت کا بھرپور پیغام پہنچ گیا۔ بقول بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان :

دی ہے خدا نے ہم کو وہ دولت شرع نبی ہے جس کی اساس

زندہ رہیں گے تابہ ابد ہم اور ہمارا پاکستان

مشرقی پاکستان کے لوگ قائداعظمؒ اور دو قومی نظریئے سے محبت کیوں نہ کرتے کہ یہیں کے ایک لیڈر شیر بنگال مولوی فضل حق نے 23 مارچ 1940ء کو لاہور کے تاریخ ساز اجتماع میں قرارداد لاہور (قرارداد پاکستان) پیش کی تھی جس کی تائید چودھری خلیق الزمان نے کی تھی۔ حضرت قائداعظمؒ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف مذاہب اور مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں، ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن ہے، یہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ حضرت قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانان برصغیر نے عظیم قربانیاں دیں اور 7 سال کے مختصر عرصے میں ہندوؤں اور انگریزوں دونوں سے آزادی حاصل کی اور انہیں شہداء کی قربانیوں کے طفیل ’’پاکستان‘‘ جیسا عظیم ملک ملا۔

قارئین بات ہو رہی تھی سانحہ مشرقی پاکستان کی۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت قائداعظمؒ کی وفات کے بعد ہم ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں عملاً ناکام ہوئے۔ قائد ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد تو سازشوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ حصول اقتدار کی سازشوں نے مشرقی پاکستان اور مغربی حصے کے درمیان دوریوں اور اختلافات میں اضافہ کیا۔ لسانی، علاقائی اور تعصبات نے حالات کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہمارا ازلی دشمن تاڑ میں بیٹھا سازشوں کے نت نئے جال پھیلا رہا تھا۔ تصور پاکستان کے خالق علامہ اقبالؒ نے ضرب کلیم میں قوم کے اندر نفاق کو اس طرح بیان کیا ہے:

قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاع کردار

بحث میں آتا ہے جب فلسفہ ذات و صفات

ہم یقیناًدشمن کی چالوں کو سمجھنے میں ناکام رہے تھے جس کے نتیجے میں سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا تھا۔ آج بھی ہمارا دشمن اسی طرح بلوچستان میں سازشیں کر رہا ہے اور ہم ہیں کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لئے بھارت نے ہر طرح کا حربہ استعمال کیا، مکتی باہنی کو فوجی تربیت، جدید اسلحے ، مواصلاتی سسٹم کی فراہمی، مالی امداد اور محفوظ پناہ گاہیں، ثقافتی یلغار، ذرائع ابلاغ کے ذریعے نفرت انگیز پروپیگنڈا، اپنے بیرون ممالک سفارتی مشنوں کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا، علیحدگی پسندوں کی جلاوطن حکومت کو تمام سہولتیں دینا۔ یہ سب کچھ مملکت خداداد پاکستان کے خلاف ہی تو تھا، لیکن اس پر عالمی طاقتوں اور جمہوریت پسند ممالک کی خاموشی نے بھارت کی ناپاک سازؤں کو شاید گرین سگنل دے دیا تھا کہ جب بھارت کی مسلح افواج اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ مشرقی پاکستان میں داخل ہوگئی تو بھی پوری دنیا کو بھارت کی کھلم کھلا جارحیت نظر نہیں آئی ،کیونکہ بھارتی پراپیگنڈہ مہم پوری دنیا میں پورے زوروں پر تھی۔

آج کی نوجوان نسل کو پراپیگنڈے کے زہریلے اثرات سے آگاہ کرنے کے لئے پلٹن میدان ڈھاکہ کے جلسہ عام میں کہے گئے شیخ مجیب الرحمان کے الفاظ تحریر کر رہا ہوں۔ انہوں نے عوام کو مغربی پاکستان کے خلاف اشتعال دلانے کے لئے کہا: ’’اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے اور میں نے خود سونگھی ہے‘‘۔ اس قدر زہریلا پراپیگنڈہ۔ اس پر عوام میں اشتعال اور نفرت تو پیدا ہونا ہی تھی، وہ یہ سمجھے کہ مغربی پاکستان ہمارے وسائل استعمال کر رہا ہے، لیکن بقول شیخ مجیب الرحمان ہمارا بری طرح استحصال کر رہا ہے۔ دوسری طرف بھارتی پراپیگنڈہ مشینری پورے زور و شور کے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف بے بنیاد اور شرمناک پراپیگنڈے میں مصروف رہی۔ 1971ء میں ہمارا یہ حال تھا کہ ریڈیو پاکستان کی نشریات ملک کے دونوں حصوں میں نہیں جاسکتی تھیں۔ یہی حال اخبارات و رسائل کا حال تھاکہ جس کی ایک معمولی تعداد مشرقی پاکستان جاتی تھی، ان حالات میں صحیح صورت حال کس طرح سامنے آتی۔ نفرتیں تو بڑھیں گی، دوریاں تو ہوں گی اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ مہم تو کامیاب ہوگی،جو ہوکر رہی۔ ہم تو آج بھی بھارت کی ثقافتی یلغار کے آگے بے بس ہیں۔ ہمارے ہاں انڈیا کا کلچر ہر سطح پر فروغ پا رہا ہے۔ چند سال پہلے ایک انڈین اداکار ’’ارمیلا‘‘ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے ساتھ صرف ایک تصویر بنوانے اور اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے پناہ رش ہوگیا، ٹریفک بلاک ہوگئی۔ پولیس کو فائیو سٹار ہوٹل کے باہر ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے فوری ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔ اس پر ہمیں کانگریسی لیڈر سونیا گاندھی کا وہ تذلیل آمیز بیان سامنے رکھنا چاہئے کہ پاکستان کے لئے ایک ’’ارمیلا‘‘ ہی کافی ہے۔

ہمارا ازلی دشمن بڑا مکار، عیار اور چالاک ہے، ہمیں ہر دم اس کی ناپاک سازشوں اور ارادوں سے خبردار رہنا ہوگا۔ نوجوان نسل کو اس سلسلے میں بڑا محتاط ہونا پڑے گا۔ سانحہ مشرقی پاکستان سے لے کر بلوچستان میں ’’را‘‘ کی سازشوں پر نظر رکھ کر اس کے پس پردہ عوامل کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ نوجوان نسل کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے مشرقی پاکستان میں بھارتی افواج، مکتی باہنی اور باغیوں کا جس دلیری، بہادری، جرأت، جوانمردی اور شجاعت کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کیا، وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے، جسے انڈین پراپیگنڈہ بھی زائل نہیں کرسکا۔ وسیع رقبے اور بے شمار ندی نالوں کے آر پار پھیلے اس میدان جنگ میں ہماری افواج نے دلیری اور بہادری کی جو داستانیں رقم کیں، وہ بھارت کو اچھی طرح یاد ہیں۔ مشرقی پاکستان کی سرحدوں پر بھارت کے ساتھ 19 دن تک مسلسل جنگ رہی ہے لیکن ہمارا دشمن بھارتی بری، بحری فضائی طاقت رکھنے کے باوجود بھی ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکا۔ ھلی کے محاذ پر میجر اکرم شہید (نشان حیدر) اور اس کے ساتھیوں کی جرأت، بہادری اور دلیری کے کارنامے دنیا کی فوجی تاریخ میں مثال بن چکے ہیں۔ مولانا ظفر علی خان نے قوم کے ایسے جرأت مند اور بہادر سپوتوں کے بارے میں کچھ یوں کہا تھا :

زندگی ان کی ہے ،دین ان کا ہے، دنیا ان کی ہے

جن کی جانیں قوم کی عزت پہ قربان ہوگئیں

(جاری ہے)

بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ میں مشرقی پاکستان کے محاذ پر ہماری بہادر افواج کو بحری اور فضائی مدد حاصل نہیں تھی، اس کا مقابلہ اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کے ساتھ تھا۔ اس خطے میں بھارتی تربیت یافتہ مکتی باہنی اور اس کے گوریلے ہر جگہ ہماری افواج کے خلاف چھاپہ مار جنگ اور خفیہ کارروائیوں میں مصروف تھے۔ فضا میں بھارت کے جدید ہوائی جہازوں کی گھن گرج تھی، اس کے باوجود ہماری بہادر افواج نے دشمن کو زمینی راستے سے ملک کے اندر آنے سے روکے رکھا۔۔۔جیسا کہ مَیں نے اوپر تحریر کیا ہے کہ جنگی تاریخ میں ھلی سیکٹر کی جنگ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہاں پر فرنٹیئر فورس کے میجر محمد اکرم اپنے دستے کی کمان نہایت بہادری سے کر رہے تھے۔ ان پر 26 اور 27 نومبر کی رات بھارتی افواج نے بھرپور حملہ کردیا، جسے بھارتی فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی، لیکن 19 دن تک دشمن ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکا۔ ہمارے جوانوں نے وسائل کی کمی کے باوجود بھی بہادری، شجاعت اور شہادت کی وہ داستانیں رقم کیں کہ بھارتی کمانڈر جنرل لچھمن سنگھ بھی ہمارے جری بہادر سپوت میجر محمد اکرم اور ان کی سپاہ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔

15 دسمبر 1971ء کی رات وطن کے اس بہادر سپاہی نے اپنے پاک خون سے پاکستان کی سرزمین کو سیراب کردیا اور شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ اس بات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ’’وطن کا یہ بیٹا‘‘ 16 دسمبر کو ہتھیار ڈالنے کی صبح کو طلوع ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ اس جرأت، بہادری اور وطن کی حفاظت میں اپنی جان قربان کرنے پر پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ ہماری جنگی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے، لیکن ہمیں اس کا احساس نہیں، ہم گروہوں میں بٹ چکے ہیں، صوبائی تعصب، رنگ، نسل، زبان، مفادات اور دولت کی جنگ میں باہم دست و گریبان ہیں۔ ہم نے بانئ پاکستان کے عظیم قول ’’اتحاد، تنظیم، یقین محکم‘‘ کو یکسر فراموش کرچکے ہیں۔ قومی وحدت، قومی مفاد، قومی کردار، اخوت، محبت، بھائی چارے، رواداری، عدل و انصاف، صبر و برداشت، ہمدردی، اصول و ضوابط کچھ بھی تو نہیں بچا۔ فرقہ واریت، گروہ بندی، دہشت گردی، قبضہ مافیا، دھونس دھاندلی، ظلم و زیادتی، چوری بازاری سب کچھ تو ہو رہا ہے، مسجد کا امام، سکول کا ٹیچر، گھر کا سربراہ سب تو اپنی اپنی ذمہ داریوں کو فراموش کرچکے ہیں، اب ہم نام کے پاکستانی اور مسلمان ہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اسی صورتحال کو بال جبریل کے ان اشعار میں بیان کیا ہے آپ بھی ملاحظہ کریں:

اے لا اِلہ کے وارث! باقی نہیں ہے تجھ میں

گفتارِ دلیرانہ، کردار قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے

کھوگیا ہے تیرا جذبِ قلندرانہ

اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق اور یکجہتی پیدا کریں، اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور اس پیارے وطن کو مضبوط، ترقی یافتہ، خوشحال اور طاقتور بنانے کے لئے دن رات ایک کردیں۔ یہ سوچ لیں کہ ہمارا دشمن تاک میں بیٹھا ہوا ہے، ہمیں اس کے ناپاک عزائم کو پوری جرأت اور بہادری کے ساتھ ناکام بنانا ہے۔ ہمیں سانحہ مشرقی پاکستان کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھ کر اس سے سبق سیکھنا چاہئے۔ اس حوالے سے بھارت کا بے بنیاد پراپیگنڈہ اب بھی جاری ہے۔ 44 سال گزرجانے کے باوجود بھی وہ ہماری بہادر افواج کو مطعون کرنے میں مصروف رہی۔ جب سے بھارت میں نریندر مودی کی متعصب سرکار اقتدار میں آئی ہے بنگلہ دیش کی وزیراعظم کی جابرانہ، ظالمانہ اور سفاکانہ سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس نے عالمی قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے ضعیف العمر محب وطن پاکستانیوں کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع کیاہواہے۔ اس پر عالمی برادری، انصاف پسند قوتیں، این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیمیں نہ جانے کیوں چپ سادھے ہوئے ہیں۔ 1974ء میں بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی کانفرنس میں یہ متفقہ فیصلہ ہوا تھا کہ ماضی کی تمام غلطیوں اور تلخیوں کو بھلا کر خیر سگالی کے جذبے کو فروغ دیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت ہی 1973ء کا وار کرائم ٹربیونل ختم کیا گیا تھا۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو نہ صرف تسلیم کیا، بلکہ وزیراعظم پاکستان نے خود بنگلہ دیش کا خیر سگالی دورہ بھی کیا۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے اب 44 سال پرانے واقعات کی بنا پر جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسی پر لٹکا کر بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ حسینہ واجد کے دل و دماغ میں تعصب، نفرت، پاکستان دشمنی اور انتقام کا جذبہ عود آیا ہے۔ اس ظالم سے کوئی پوچھے کہ 1971ء میں تو مشرقی پاکستان تھا، جس کی حفاظت کی جنگ پوری قوم اور مسلح افواج لڑ رہی تھیں۔۔۔ باغی، بھارت اور مکتی باہنی تو حملہ آور تھے۔ ’’عقل کے اندھو‘‘ اس وقت بنگلہ دیش کہاں تھا۔ یہ مظلوم لوگ، جنہیں تم اپنی انتقام کی آگ میں جھونک رہے ہو محب وطن پاکستانی تھے۔۔۔ اور جب بنگلہ دیش بن گیا تو یہ وہاں ہی رہ رہے تھے، پھر ان پر اس قدر ظلم۔۔۔ اسلامی ممالک کیوں خاموش ہیں؟ اسلامی ممالک کی تنظیمیں کہاں گئیں؟ اسلامی کانفرنس کیوں نہیں بلائی جا رہی؟ اس ظلم پر یو این او کی خاموشی بھی ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان سے ایک اور سبق بھی ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں 1971ء کی طرح امریکی بحری بیڑے (یو ایس ایس انٹر پرائز) کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہئے۔ ہمیں اپنی طاقت، اپنے وسائل، اپنے عوام اور اپنی بہادر افواج پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ مولانا ظفر علی خان کے اس خوبصورت شعر میں ہمارے لیے یقیناًایسا ہی پیغام ہے :

اے مسلمان غیر کیوں ہوں تیرے حق کے پاسبان

جب یہ طاقت خود ترے بازوئے فولادی میں ہو

قارئین! 16 دسمبر کا دن یقیناًپوری قوم کے لئے رنج و الم کا دن ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جنرل نیازی کے جنرل جگجیت سنگھ کے سامنے شرمناک انداز میں ہتھیار ڈالنے کے مناظر ہندوستانی میڈیا نے زور شور سے دکھائے، لیکن ہمیں اس سے خائف ہونے کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لینا ہے اور اس کی اصلاح کرنی ہے اور ہمیں اپنا احتساب بھی کرنا ہے۔ اپنی صفوں کے اندر اتحاد رکھنا ہے، اتفاق رکھنا ہے، دل و دماغ، کان اور آنکھیں کھلی رکھنی ہیں۔ ہمیں اپنی صفوں کے اندر چھپے ہوئے شرپسند اور دہشت گرد عناصر کو کان سے پکڑ کر باہر نکالنا ہے اور کچل دینا ہے، خاص طور پر صوبہ بلوچستان پر انتہائی کڑی نظر رکھنی ہے۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کی وجہ سے اس علاقے کی اہمیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اقتصادی ترقی اور خوشحالی اس صوبے اور یہاں کے عوام کا مقدر بننے والی ہے جو ہمارے ازلی دشمن کو کس طرح ہضم ہوسکتی ہے، اس لئے اس نے کافی عرصہ پہلے سے ہی اس علاقے میں ’’را‘‘کے ذریعے سرگرمیاں شروع کی ہوئی ہیں،جنہیں اللہ کے فضل و کرم سے ہماری بہادر افواج اور صوبے کے عوام نے ناکام بنا دیا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کے پی کے، قبائلی علاقہ جات، بلوچستان اور کراچی میں کامیاب کارروائیاں حکومت کی اسی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جس پر حکومت پاکستان اور مسلح افواج یقیناًمبارکباد کی مستحق ہیں۔

یاد رکھیے حضرت قائداعظمؒ نوجوان نسل پر بڑا اعتماد کرتے تھے، تحریک پاکستان میں بھی قائداعظمؒ کی قیادت میں یہی نوجوان ہراول دستہ تھے۔ علامہ اقبالؒ نے بھی ہمیشہ اپنے کلام کے ذریعے نوجوانوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کی ہے۔ آپ کا یہ خوبصورت شعر نوجوانوں کی خدمت میں پیش ہے :

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

نوجوان نسل نے یقیناًاس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، اسی لئے انہیں سانحہ مشرقی پاکستان، بھارتی سازشوں، عالمی طاقتوں کے سفاکانہ رویے، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مفادات اور اسلامی ممالک کی بے حسی سے آگاہ کرنا بے حد ضروری تھا۔ ہمیں امید ہے کہ نوجوان نسل سانحہ مشرقی پاکستان سے سبق سیکھتے ہوئے دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔ وہ اس وطن کی ترقی، خوشحالی، مضبوطی، خود داری اور سالمیت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

مزید : کالم


loading...