آرمی پبلک سکول کے شُہدا کی شمع فروزاں

آرمی پبلک سکول کے شُہدا کی شمع فروزاں

پشاور کے آرمی پبلک سکول میں آگ اور خون کا جو کھیل ایک سال قبل کھیلا گیا تھا، پورے پاکستان نے اِس زخم کی کسک جس طرح محسوس کی تھی وہ آج بھی ترو تازہ ہے، مائیں آج بھی اپنے ان ہونہار بچوں کو یاد کر کے اپنے آنسو ضبط نہیں کر سکتیں، سکول کے درو دیوار آج بھی اپنے اِن فرزندوں کی یاد میں خاموشی سے گریہ کُناں ہیں، ہمارے گلشن کے اِن پھولوں کو کھلنے سے پہلے ہی دہشت گردوں نے بے دردی سے مَسل دیا تھا، لیکن جس طرح خونِ صد ہزار انجم سے سحر پیدا ہوتی ہے اِن معصوم شہیدوں کا خون بھی ر نگ لایا اور پاکستانی قوم نے ایک نئے جذبے اور ولولے سے دہشت گردوں کا مقابلہ شروع کیا۔ اِس جنگ کے پورے عرصے میں اہلِ وطن نے اِن بچوں کو ایک لمحے کے لئے بھی فراموش نہیں کیا، تعلیمی اداروں کو اُن کے نام سے منسوب کیا گیا، اُن کی یادگاریں بنائی گئیں اور یادوں کی یہ شمعیں آج تک پوری طرح فروزاں ہیں، بچوں کے والدین، بھائی بہنوں اور عزیز و اقربا کے زخموں پر مرہم رکھا گیا،زخمیوں کے لئے علاج معالجے کی ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی، پنجاب کی حکومت نے بہت سے زخمیوں کے بیرونِ مُلک علاج کا اہتمام کیا۔

یہ سانحہ16دسمبر کے روز پیش آیا تھا،اسی روز ہمارے جسدِ قومی پر ایک گہرا گھاؤ 1971ء میں بھی لگا تھا، جس کے باعث ایک مُلک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اس کا مشرقی بازو کٹ کر الگ ہو گیا، سانحۂ پشاور کے بعد دونوں یوم اکٹھے آئے ہیں تو ہماری روح تک کو زخمی کر گئے ہیں، لیکن زندہ قوموں کا سفر ہر حالت میں جاری و ساری رہتا ہے، پاکستان نے بھی مشکل حالات کے باوجود اپنا سفر رُکنے نہیں دیا، سانحہ پشاور کا ایک سال مکمل ہونے پر اسلام آباد کے 122 سکولوں کو شہید بچوں کے نام سے منسوب کیا گیا ہے یہ ان بچوں کی یادوں کو مستقل طور پر یاد رکھنے کا ایک قرینہ ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن ضربِ عضب شروع کر کے یہ پیغام دیا کہ اِس پاک سرزمین پر کسی کو اپنی پسند کے نظریات مسلط کرنے کی کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی، اور جو لوگ قوت کے بل بوتے پر معصوم لوگوں کی جانیں لے کر اپنا خود ساختہ ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کریں گے اُن کو پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔ آپریشن ضربِ عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، اُن کے ٹھکانے تباہ کر دئے ہیں، ہتھیار سازی کے مراکز کو برباد کر دیا گیا ہے اُن کا نیٹ ورک تتر بتر ہو چکا ہے، زیادہ تر کا خاتمہ ہو چکا،جو تھوڑے بہت بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے اُن کے لئے ملک کے اندر کوئی جائے پناہ نہیں اور وہ یاس و نا امیدی کے عالم میں اِدھر اُدھر کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہیں کہیں اُنہیں کامیابی بھی ہو جاتی ہے، لیکن اب اُن کے بچ نکلنے کی کوئی صورت نہیں، جو لوگ مُلک سے باہر نکل کر سرحدی علاقوں میں پناہ گاہیں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغان حکومت کے تعاون سے اُن کا قلع قمع کیا جائے گا اور یہ زیادہ دور نہیں۔

آپریشن ضربِ عضب سے پہلے اتمامِ حجت کی جتنی کوششیں ممکن تھیں وہ کر لی گئیں حتیٰ کہ مذاکرات تک کا آغاز کیا گیا، اِس مقصد کے لئے بعض ایسی شخصیات کی خدمات بھی حاصل کی گئیں جنہیں یہ دعویٰ ہو سکتا تھا کہ وہ اپنے اثرو رسوخ کی بنیاد پر اِس معاملے کو قوت کے استعمال کے بغیر حل کرانے میں ممدو معاون ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن کئی ہفتوں کی کوششوں کے بعد محسوس کیاگیا کہ اتمام ِ حجت کی اِن کوششوں کو شاید کمزوری پر محمول کیا جا رہا ہے۔ ایسے مطالبات بھی سامنے آنے لگے تھے جو کوئی کمزور حکومت بھی ماننے پر تیار نہیں ہو سکتی، غالباً ایسے مطالبات کرنے والوں نے یا تو اپنی قوت کا غلط اندازہ لگایا یا ریاست کی طاقت کو اپنے سے کم تر سمجھا،اس لئے مذاکرات کی ناکامی کے بعد آپریشن ضربِ عضب ضروری ہو گیا تھا جو فوری طور پر شروع کر دیا گیا اور اس کے نتائج بھی مرتب ہوئے پھر اس کا دائرہ وسیع ہوا،نتیجے کے طور پر دہشت گردی کے واقعات بہت کم ہو گئے۔ اگرچہ پشاور کا سانحہ اس جاری ضربِ عضب کے دوران پیش آیا اور اس کے بعد بھی دہشت گرد بڈھ بیر فضائی اڈے میں فجر کی نماز ادا کرنے میں مصروف نمازیوں کو شہید کرنے میں کامیاب ہو گئے،بعض دوسری وارداتیں بھی ہوئیں، لیکن اِن کارروائیوں کے ذریعے اگر وہ آپریشن ضربِ عضب کی راہ روکنا چاہتے تھے تو اس میں اُنہیں بری طرح ناکامی ہوئی، آپریشن کے شروع میں جن لوگوں کے ذہنوں میں بعض تحفظات تھے وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گئے۔ کسی وجہ سے اگر اُن کے لئے کہیں کہیں ہمدردی کے جذبات تھے بھی تو وہ بھی دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائیوں کے بعد ختم ہو گئے،اور قوم جسد ِ واحد کی طرح ان کے خلاف متحد ہو گئی،اب اُن کے حق میں ہمدردی کی کوئی نحیف ونزار آوازبھی نہیں اُٹھتی۔

جن دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول میں خون کی ہولی کھیلی اُن میں سے بیشتر تو موقع پر ہی ہلاک کر دئے گئے تھے، جنہوں نے دور بیٹھ کر دہشت گردی کا منصوبہ بنایاجانفشانی سے کی جانے والی تفتیش کے دوران اُن کا بھی سراغ لگا لیا گیا، اُن پر مقدمہ چلا اور اُن میں سے بھی بیشتر کو تخت�ۂ دار پر لٹکا دیا گیا، مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑے کئے جانے کی وجہ سے معاشرے میں اک گو نہ اطمینان کی لہر بھی دوڑ گئی اور یہ احساس اُجاگر ہوا کہ دہشت گردوں کے ساتھی چاہے جہاں بھی چھپے ہوئے ہوں اُن کا سراغ لگانا ممکن ہے اور اُنہیں کیفر کردار تک پہنچایا بھی جا سکتا ہے۔

مسلکی دہشت گردی نے بھی ہماری قومی وحدت کو زخم زخم کِیا ہوا تھا، نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس پر بھی قابو پانے کی کوشش کی گئی اور ایمپلی فائر کا استعمال محدود کرنے کی وجہ سے انتہا پسندی کی لہر کو بڑی حد تک کنٹرول کر لیا گیا ہے اور توقع ہے کہ یہ اب بڑھنے نہیں پائے گی تاہم پارا چنار جیسے واقعات اب بھی ہو رہے ہیں، اِن واقعات میں ملوث گروہوں کا سراغ لگانے اور اُنہیں سزائیں دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا عدالتی نظام پوری طرح فعال ہے اور جو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے خود ساختہ نظریات کو بزورِ طاقت مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اُنہیں قانون کے حوالے سے سزائیں بھی مل رہی ہیں۔اگرچہ اختلافی آوازیں اب بھی اُٹھتی رہتی ہیں تاہم قوم کا اجتماعی شعور پوری طرح بیدار ہے۔ یہ بات16دسمبر2014ء کو بھی ثابت ہو گئی تھی اور آج بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ آرمی سکول کے شہید بچوں کے ورثا کو اللہ تعالیٰ صبر جمیل کی دولت سے نوازے۔

مزید : اداریہ


loading...