وزیراعظم کے خیالات اور امن کا عمل: بھارت کی طرف سے پذیرائی!

وزیراعظم کے خیالات اور امن کا عمل: بھارت کی طرف سے پذیرائی!

وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھارتی اخبار ’’ہندو‘‘ کو انٹرویو اور شنگھائی تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر خطے میں امن کو ترقی سے منسلک کرتے ہوئے بتا دیا ہے کہ پیرس میں بھارتی وزیراعظم سے ملاقات، قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات اور بھارتی وزیر خارجہ کی آمد کوئی راز نہیں، لیکن ہر بات اور کام کے اظہار کا وقت متعین ہوتا ہے، پہلے سے بتانا سود مند ثابت نہیں ہوتا، وزیراعظم نے تاپی پائپ لائن کے افتتاح کے موقع پر بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا اور پورے خطے میں امن کی خواہش اور عملی اقدامات پر زور دیا تھا۔ انہوں نے مسلسل اپنے مُلک کے وقار اور خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات اور دوستی کا عزم ظاہر کیا اور ان کے خیالات کو پذیرائی بھی ملی۔وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ امن کا عمل کٹھن ہوتا ہے اور اس میں وقت لگتا ہے، وزیراعظم کے خیالات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں اور ان کی پذیرائی بھی ہوئی جو سشما سوراج(بھارتی وزیر خارجہ) کی اپنی پارلیمنٹ کے ایوان بالا(راجیہ سبھا) میں بریفنگ سے عیاں ہے۔ یہ سشما سوراج بی جے پی کی حکومت ہی میں ہیں اور کہتی ہیں کہ پاکستان سے دوریاں امن اور ترقی کی راہ میں حائل تھیں، اب جامع مذاکرات کشمیر سمیت تمام مسائل پر ہوں گے اور کسی کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

واقعات سے ازخود ظاہر ہو گیا ہے کہ امن کی راہ کٹھن ہے اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنا کچھ ہوا، وزیراعظم کے مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت سے لے کر اب تک کتنے مراحل آئے اور یہ بھی محسوس ہونے لگا کہ دونوں ملک ایک اور جنگ کے دہانے پر آ گئے ہیں اور پھر بات ٹلتی گئی اب بات جامع مذاکرات پر آ گئی ہے تو اسے کسی کی فتح یا شکست سے موسوم کرنا درست نہیں ہو گا اور نہ ہی انہتا پسندی سے کوئی صورت بنے گی مسائل کے حل کے لئے صبر اور تحمل سے کام لینا ہو گا۔ میڈیا اور سیاست دانوں سمیت ہر ایک کو مثبت سورچ اپنانا ہو گی۔

جہاں تک برسر اقتدار جماعت اور حکومت کے اثرات کا مسئلہ ہے تو اس کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے، سشما سوراج کی پاکستان آمد اور پیرس میں دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد سے بھارت میں شیو سینا کی سرگرمیوں میں بھی فرق آیا ہے تاہم ذرا غور فرمائیں تو پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر نے اپنی وزیر خارجہ سے ذرا مختلف خیال ظاہر کیا اور کہا کہ کشمیر پر بات ہو گی، لیکن یہ’’ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر‘‘ پر ہو گی جبکہ سشما سوراج نے یہ نہیں کہا۔انہوں نے صرف کشمیر کہا، بہرحال جہاں تک پاک بھارت تنازعات کا تعلق ہے تو کسی سے یہ توقع کہ وہ اپنے موقف سے انحراف کرے غلط ہوگی یہ تو مذاکرات جاری رہیں تو راہیں بھی نکلتی رہیں گی۔ سبوتاژ کرنے والے بھی اپنے کام میں لگے رہیں گے۔بلکہ ابھی سے لگ چکے ہیں، اورمزید کھل کر بھی لگ جائیں گے، یہ تو مذاکرات کاروں اور حکمران سیاسی رہنما ؤں کی ذہانت اور دیانت ہو گی، جو مسائل حل کرنے میں ممد ہو گی اچھی توقعات رکھنا چاہئیں۔جہاں تک وزیراعظم محمد نواز شریف کا تعلق ہے تو انہوں نے اب تک بین الاقوامی امور اور خطے کے امن اور بھائی چارے کے حوالے سے بڑی دانش تحمل اور صبر کا ثبوت دیا ہے اس پر ان کی تعریف بے جا یا خوشامد نہیں، وہ ایک مدبر سیاست دان بن کر اُبھرے ہیں اور اپنی اس حیثیت کو ’’زوروں سے منوا‘‘ رہے ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...