”آئی اے ای اے“نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کردیا

”آئی اے ای اے“نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان ...
”آئی اے ای اے“نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کردیا

  


واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے)نے ایران کے خلاف خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کے الزام میں گزشتہ 12 برسوں سے جاری تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کردیا ،تاہم عالمی ادارے کے معائنہ کار ایران کے جوہری پروگرام اور تنصیبات کے جائزے کا کام بدستور انجام دیتے رہیں گے۔غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی (آئی اے ای اے)کے 35 رکنی بورڈ نے منگل کو ہونے والے اجلاس میں ایران کے خلاف تحقیقات ختم کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔”آئی اے ای اے“کے بورڈ آف گورنرز نے تحقیقات ختم کرنے کا فیصلہ ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو کی جانب سے رواں ماہ پیش کی جانے والی رپورٹ کے بعد کیا ہے جس میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق ایران پر عائد کیے جانے والے الزامات کی تحقیقات کے نتائج بیان کیے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ ایران 2003ءتک خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششیں کر رہا تھا لیکن اسلامی جمہوریہ کی جانب سے 2009ءکے بعد ایسی کسی سرگرمی کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔واضح رہے کہ 'آئی اے ای اے' کی جانب سے ایران کے خلاف گزشتہ 12 برسوں سے جاری تحقیقات کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب عالمی ایجنسی نے مغربی طاقتوں کے اس خدشے کی تصدیق کی تھی کہ ایران ماضی میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان رواں سال کے وسط میں طے پانے والے معاہدے کے باعث عالمی ادارے کی اس رپورٹ پر بین الاقوامی برادری نے کوئی خاص ردِ عمل ظاہر نہیں کیا تھا۔معاہدے کے تحت ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں بتدریج اٹھا لی جائیں گی جن کے جواب میں ایرانی حکومت اپنی جوہری سرگرمیاں اور یورینئم کی افزودگی محدود کردے گی۔

مزید : بین الاقوامی


loading...