ایس ای سی پی کی پارٹنر شپ ایکٹ 1932ء میں اصلا حات کی سفارش

ایس ای سی پی کی پارٹنر شپ ایکٹ 1932ء میں اصلا حات کی سفارش

کراچی (اکنامک رپورٹر) سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) نے کارپوریٹ قوانین میں اصلاحات متعارف کروانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اسی تناظر میں پیش قدمی کرتے ہوئے ایس ای سی پی نے پارٹنر شپ ایکٹ 1932ء میں بھی اصلاحات تجویز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایس ای سی پی کے چیئر مین ظفر حجازی نے پارٹنر شپ ایکٹ 1932ء کے از سر نو جائزہ لینے اور اس قانون کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اصلاحات مرتب کرنے کا ٹا سک ایس ای سی پی کی ایک ان ہاوس کمیٹی کودیا۔

اس کمیٹی نے پارٹنر شپ ایکٹ 1932ء کا جائزہ لینے کے بعد تجویز کردہ سفارشات کی رپورٹ ایس ای سی پی کے چیئر مین کو جمع کروا دی ہے۔ علاوہ ازیں، ایس ای سی پی نے پیشہ ورانہ اداروں کے ماہرین کے رائے حاصل کرنے کے لئے ، انسٹیٹیوٹ آف چارٹر اکاؤنٹنٹ آف پاکستان اور انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹ کو بھی متعلقہ ایکٹ کا جائزہ لینے اور دو ہفتوں کے اندر تجاویز دینے کا کہا ہے۔ ان اداروں سے بھی رائے حاصل کرنے کے بعد ایس ای سی پی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کوپارٹنر شپ ایکٹ 1932ء میں اصلاحات کی سفارش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پارٹنر شپ ایکٹ 1932ء میں اصلاحات تجویز کرنے کے لئے ایس ای سی پی کی ان ہاوس کمیٹی نے نہ صرف اس ایکٹ کا تفصیلی جائزہ لیا بلکہ دیگر ممالک میں پارٹنر شپ فرموں کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کے لئے رائج قوانین کا بھی جائزہ کیا گیا۔ اصلاحات تجویز کرتے وقت مدنظر رکھا گیا ہے کہ یہ قانون ملک میں کاروباری اداروں اور پارٹنر شپ فرموں کے فروغ کے لئے آسانی فراہم کرے اور کاروباری ریکارڈ اور آڈٹ کی ضروریات بھی پوری کی جائیں۔ کاروباری فرموں کے لئے نام کے جاری کرنے کے لئے بھی دائرہ کار اور شرائط عائد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملنے جلتے ناموں سے دھوکہ دہی یا فریب کا قلع قمہ کیا جا سکے۔

مزید : کامرس


loading...