پنجاب میں دالوں کی کاشت کے فروغ کیلئے پیداواری منصوبہ کی منظوری

پنجاب میں دالوں کی کاشت کے فروغ کیلئے پیداواری منصوبہ کی منظوری

لاہور (این این آئی )دالوں میں تقریباً 20سے24فیصد پروٹین موجود ہوتے ہیں جو کہ انسانی غذا کا اہم جزوہیں۔ مونگ اور ماش کے پودوں کی جڑوں میں نائٹروجن فکسنگ بیکٹیریا موجود ہونے کے باعث یہ زمین کی زرخیز ی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ علاوازیں خوراک کو غذائیت کے اعتبار سے بہتر اور متوازن بنانے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دالوں کی پیداوار میں اضافہ انتہائی ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد اسلم باٹنسٹ ایرڈ زون ریسرچ انسٹییٹوٹ ،بھکر نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں پیداوری منصوبہ دالیں برائے سال 2016-17کی منظوری بارے منعقدہ اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ محمدیامین ایگری اکانومسٹ اڈاپیٹوریسرچ پنجا ب نے اس اجلاس کی صدارت کی۔اس اجلاس میں ڈاکٹر محمد اسلم باٹنسٹ ایرڈ زون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھکر،شیر باز خان پرنسپل سائنٹیفک آفیسر پی اے آر سی فیصل آباد،قطب الدین سٹیٹیشین، ڈاکٹر عزیز الرحمن باٹنسٹ شعبہ دالیں فیصل آباد،محمد علیم سروراسسٹنٹ سائل فرٹیلیٹی آفیسرفیصل آباد، منیر احمد چوہان ڈپٹی ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ فیصل آباد، محمد شفیق دالیں باٹنسٹ ، ڈاکٹرشاہد ریاض ملک این اے آر سی فیصل آباد، ڈاکٹر محمد ظفر اسسٹنٹ اگرانومسٹ ، ریاض احمد اسسٹنٹ انٹومالوجسٹ ، ڈاکٹر محمد جواد اصغر پی ایس او نیاب اور قمر یوسف راحیل اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریسرچ انفارمیشن یونٹ فیصل آباد سمیت زرعی ماہرین نے شرکت کی۔

محمد یامین نے بتایا کہ آئندہ سال پنجاب میں دالوں کے زیر کاشت رقبہ اور پیداواری ٹارگٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے اجلاس میں شریک زرعی سائنسدانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دالوں کی پیداوارمیں اضافہ کے لیے مونگ اور ماش کی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی نئی اقسام جلد متعارف کرائیں تاکہ پاکستان کو دالوں کی پیداوار میں خود کفیل بنایا جا سکے اور دالوں کی درآمد پر خرچ ہونے والے کثیر زرمبادلہ کی بچت ہو سکے۔ محمد شفیق باٹنسٹ شعبہ دالیں ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد نے بتایا کہ ان کا ادارہ مونگ اور ماش دالوں کی ایسی نئی اقسام وضع کرنے پر کام کررہا ہے جوفی ایکڑ زیادہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ خشک سالی کابھی بہتر مقابلہ کرسکیں گی۔ڈاکٹرشاہد ریاض ملک نمائندہ این اے آر سی فیصل آبادنے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ کاشتکاروں کو دالوں کی کاشت کی طرف راغب کرنے کے لیے معیاری بیج کی فراہمی کے ساتھ مارکیٹنگ کے مسائل کو حل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے دالوں کی زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے کاشتکاروں کو نئی ترقی دادہ اقسام کی کاشت، جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی اور کھادوں کے بہتر استعمال کی جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی کی ضرورت پر زور دیا ۔زرعی ماہرین اور شرکاء نے پیداواری منصوبہ دالیں(مونگ وماش )2016-17کے مسودہ کو چند ضروری ترامیم کے بعدمنظور کرلیا ۔

مزید : کامرس


loading...