روسی طیارہ دہشت گردی سے تباہ نہیں ہوا تھا، مصری رپورٹ

روسی طیارہ دہشت گردی سے تباہ نہیں ہوا تھا، مصری رپورٹ

قاہرہ(کے پی آئی)مصر نے روس کے مسافر طیارے کو 31 اکتوبر کو شورش زدہ علاقے شمالی سینا میں پیش آئے حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی ہے اور اس میں کہا ہے کہ طیارے کی تباہی میں دہشت گردی یا کوئی اور غیر قانونی اقدام کارفرما ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔روس اور مغربی حکومتیں پہلے یہ کہہ چکی ہیں کہ میٹروجیٹ کے زیرانتظام ائیربس اے 321 کو دوران پرواز بم سے تباہ کیا گیا تھا۔داعش نے اس واقعے کی ذمے داری قبول کی تھی اور یہ دعوی کیا تھا کہ اس نے طیارے میں بم رکھوایا تھا۔لیکن مصر کی شہری ہوابازی کی وزارت نے اس حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی تکمیل کے بعد کہا ہے کہ اس کو کسی مجرمانہ کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

وزارت کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ بیان کے مطابق ''فنی تحقیقاتی کمیٹی کو کوئی ایسی چیز نہیں ملی ہے جس سے کسی غیر قانونی مداخلت یا دہشت گردی کی کارروائی کا اشارہ ملتا ہو''۔روس کا یہ مسافر طیارہ مصر کے ساحلی سیاحتی مقام شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرز برگ کے لیے روانہ ہوا تھا اور پرواز کے چند منٹ کے بعد ہی العریش شہر کے علاقے حسنہ میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔اس حادثے میں طیارے میں سوار تمام دو سو چوبیس افراد مارے گئے تھے۔

مزید : عالمی منظر


loading...