گورنر مشرقی پاکستان نے کہا تھا۔۔۔چھ نکات پر سمجھوتہ کر کے اقتدار عوامی لیگ کو منتقل کردیں

گورنر مشرقی پاکستان نے کہا تھا۔۔۔چھ نکات پر سمجھوتہ کر کے اقتدار عوامی لیگ ...

سوال:16دسمبر 1971 کو آپ کہاں تھے ؟

جواب: 16د سمبر کو ہم انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل تھے جو کہ ریڈ کراس زون بنا دیا گیا تھا۔ مجھے میرا ایک بنگالی ڈپٹی کمشنر فرید ، خود وہاں لے گیا تھا ۔

سوال : فرید بنگالی تھا ؟ اس کے لئے تو نقل و حرکت کوئی مشکل نہیں تھی ۔

جواب : نہیں تھی۔ میرے ان کے ساتھ بہت گہرے تعلقات تھے ۔ اور مجھے مارنے میں بھی کسی کو دلچسپی نہیں تھی۔

سوال : آپ کو بحیثیت غیر بنگالی کمشنر ایک مشکل تو تھی جس کی وجہ سے آپ کو بھی ریڈ کراس زون میں جانا پڑا اور فرید صاحب کو نہیں جانا پڑا ۔

جواب: بات یہ تھی کہ ہم میں سے کئی لوگ تھے جو بدنام تھے۔ بنگالی ان بدنام لوگوں کو مار دینا چاہتے تھے، میں ان میں سے نہیں تھا ۔ طبقاتی امتیاز اس طرح تھا کہ اگر آپ نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہیں تو سالا پنجابی ، اور اگر آپ نے خراب کپڑے پہنے ہوئے ہیں تو سالا بہاری۔مَ یں سالے پنجابی اور سالے بہاری کی کیٹیگری میں آتا تھا۔ دونوں صورتوں میں جو لوگ مجھے جانتے تھے، ان سے مجھے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے میری شکل نہیں دیکھی تھی اور مجھے نہیں جانتے تھے اور جو نفرت پھیل رہی تھی اس نفرت میں نقصان یہ تھا کہ لوگ پکڑ کر مجھے مار دیتے۔ اس لئے کوئی نہ کوئی ڈپٹی کمشنر یا افسر میرے ساتھ رہتا تھا اور جب میں باہر نکلتا تھا تو بھی وہ میرے ساتھ ہوتے تھے۔ راستہ میں جب بھی کوئی پوچھتا تھا کہ کون ہے تو وہ لوگ ہی جواب دیا کرتے تھے۔ میں نے کبھی پولیس یا فوجی محافظ اپنے ساتھ نہیں رکھے تھے ۔

سوال: آپ نے کہا کہ کچھ لوگ بدنام تھے۔ بنگالیوں نے کیا معیار رکھا ہوا تھا بدنامی کو طے کرنے کا؟

جواب: مغربی پاکستان کے کچھ پولیس آفیسرز کے متعلق شکایات تھی کہ ان لوگوں نے ان کی لڑکیوں کی عصمت دری کی۔ اور وہ تو بڑے ظالم تھے ۔ غیر ضروری طور پر لوگوں کو مارتے تھے۔ غیر ضروری طور پر فائرنگ کرتے تھے۔ معصوم لوگوں کو مار دیتے تھے۔ ایسے ہی نکل رہے ہیں کوئی آدمی آیا ، کسی نے زیادہ بحث کی تو گولی مار دی۔ ایسے جو بھی لوگ تھے انہیں بدنام کہا جاتا تھا۔ بنگالیوں نے مشرقی پاکستان میں تعینات مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو سو کے لگ بھگ ایسے افسران کی ایک فہرست بنائی ہوئی تھی۔انہیں وہ مارنا چاہتے تھے۔ اس فہرست میں میرا نام نہیں تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ان لوگوں کو ہم نہیں چھوڑ یں گے۔ بنگلہ دیش قائم ہونے کے بعد بھٹو صا حب کو بھی یہ فہرست بھیجی گئی تھی۔

سوال: کیا وہ بنگلہ دیش کی قانونی اور جائز حکومت تھی ؟

جواب: قانونی تو نہیں تھی کیوں کہ منظور نہیں ہوئی تھی اور بھارتی ان کے سر پر سوار بیٹھے ہوئے تھے۔ شیخ مجیب الرحمان رہا نہیں ہوئے تھے ۔ قانونی تو اسے کسی اعتبار سے نہیں کہا جا سکتا تھا۔ ایک رات کوئی بارہ بجے کرمی ٹولہ میں کچھ لوگ آئے جو مکتی باہنی کے لوگ تھے۔ انہوں نے دوروازہ کھٹکھٹایا ، میں باہر نکل کر آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ لوگوں کی تلاش ہے۔ مجھ سے انہوں نے کہا کہ آپ کمشنر تھے۔ میں نے ان لوگوں کے نام معلوم کئے جن کی انہیں تلاش تھی۔ انہوں نے کچھ نام لئے۔ میں وہ نام دہرانا نہیں چاہتا ہوں۔ 17دسمبر کو بھارتی فوج ہمیں ریڈ کراس زون ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل سے ٹرکوں میں لاد کر کرمی ٹولہ لے آئی تھی ۔

سوال: مکتی باہنیوں کا رویہ کیسا تھا ؟

جواب: درشت رویہ تھا۔ وہ مشتعل تھے۔ لیکن جب انہوں نے میرا نام سنا تو تھوڑے نرم ہوئے تھے۔ وہ مسلح تھے۔ وہاں مسلح گھومنا کوئی خاص بات نہیں تھی۔ ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں تھا اگر وہ چاہتے تو مجھے ہلاک کر سکتے تھے۔

سوال: ہتھیار ڈالنے کی کاروائی آپ نے دیکھی تھی؟

جواب: نہیں ہم نے نہیں دیکھی۔ انہوں نے گورنر کو آنے کا کہا تھا۔ گورنر نے جواب دیا تھا کہ میں نہیں آ ؤں گا کیوں کہ میں مستعفی ہو گیا ہوں۔

سوال: گورنر کے مستعفی ہونے کیا وجہ تھی؟

جواب: جب حالات بہت زیادہ خراب ہوئے اور لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ نیازی نے یہ کہہ دیا کہ ہم ایک دفاعی لڑائی لڑ رہے ہیں اور اس میں ہم بھارتیوں کو روک سکتے ہیں اور صرف ایک مدت کے لئے تاخیر کر سکتے ہیں، اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ روکنے اور تاخیر کرنے کی جو قیمت ہمیں ادا کرنا پڑے گی وہ بہت زیادہ ہوگی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس تیزی سے مکتی باہنی والے بہاریوں کو مار رہے تھے ، اور جس تیزی سے یہ ان بنگالیوں کو مار رہے تھے ، جو پاکستانی نقطہ نظر رکھتے تھے یا پاکستان کی طرف دوستی رکھتے تھے، یا جنہوں نے پاکستان کی مدد کی، ہزاروں کی تعداد میں لوگ روز مارے جارہے تھے۔ اب یہاں پر دو نقطہ نظر تھے۔ ایک نظریہ نیازی کا تھا جو خالص فوجی تھا یہ وہ کہتے تھے کہ میں آخر وقت تک لڑوں گا اور مر جاؤں گا، ہتھیار نہیں ڈالوں گا، دوسرا گورنر کا نقطہ نظر تھا جو کہتے تھے کہ بے وقوفی کی باتیں آدمی کو نہیں کرنا چاہئے۔ آپ اگر ان کو روک بھی نہیں سکتے ہیں اور اتنے بہاری اور بنگالی مارے جارہے ہیں، ہمارے سارے دوست ختم ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کیا یہ عقل مندی کی بات نہیں ہے کہ صورت حال کو تبدیل کیا جائے۔

سوال: کیا بھارتی فوج پاکستانیوں کو مار رہی تھی ؟

جواب: بھارتی فوج نظم کی پابند فوج تھی۔ وہ ایسے بھی اگر کسی کو مارتے تھے تو لوگ نظر رکھتے تھے۔ یہ کام مکتی باہنی کا تھا۔ بھارتی فوج نے تو فتح کے بعد بھی اپنے چھہ سات سو آدمیوں کا ٹرائل کیا تھا ، کورٹ مارشل کیا تھا جو لوٹ مار اور عصمت دری میں ملوث تھے لیکن آپ نے کسی کو بھی ٹرائل نہیں کیا۔ نیازی اور گورنر کی سوچ میں بنیادی فرق یوں تھا کہ گورنر کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں کسی مقصد کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دینا پڑے تو کوئی بات نہیں ہے، ایک دن تو مرنا ہی ہے، گورنر خود اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ دلیر آدمی تھے۔ آنکھوں سے نظر نہیں آتا تھا، چلا نہیں جاتا تھا لیکن بہادری اور دلیری کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے ۔ بہر حال جب نیازی صاحب اڑے رہے تو پھر گورنر نے صدر پاکستان سے خود رابطہ کیا اور پیغام بھیجا۔ اس میں انہوں نے اپنی اور نیازی کی گفتگو کو تفصیلی ذکر کیا کہ سول انتظامیہ کام کرنے کے قابل نہیں رہی ہے، جیسور اور بعض اور شہروں پر بھارتی فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔ انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے۔ صورت حال بہت زیادہ خراب ہے اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ اقتدار منتخب لوگوں کو منتقل کیا جائے۔

سوال: اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک اقتدار کی منتقلی کی بات کر رہے تھے ؟

جوب ۔ جی ہاں۔ وہ مسلسل اسی بات پر زوور دے رہے تھے اور یہ بھی کہا تھا کہ یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ عوامی لیگ والے بھارت سے ملنا چاہتے ہیں، وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ گورنر یہ بھی کہہ رہے تھے کہ چھہ نکات پر بھی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ آپ اقتدار ان کے حوالے کردیں۔ دوسرا یہ بھی تھا کہ روز انہ ایسے واقعات ہو رہے تھے جن پر توجہ دینا لازمی تھا۔

سوال: آپ کی سوچ کیا تھی؟

جواب: میں ہر ہر واقعہ پر اپنا رد عمل تحریر میں کیا کرتا تھا۔ میں ہر واقعہ پر رائے دیا کرتا تھا ۔

سوال: کس طرح کا رد عمل تھا ؟

جواب: ان کو میری نیک نیتی پر اعتماد تھا۔ وہ شائد یہ سمجھتے تھے کہ ان کی سوچ میر ی سوچ سے مختلف ہے۔ جو ان کی ذمہ داریاں ہیں اور ان کے جو مسائل ہیں، میں ان کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پا رہا ہوں۔ خود انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ وہ وضاحت کریں کہ کیا مسائل ہیں، ہم دونوں ایک انداز سے کیوں نہیں سوچ سکتے۔ یا پھر انہوں نے سوچا ہو کہ اس کو تو ہم نے شو پیس کے طور پر رکھا ہوا ہے۔

سوال: کھبی کسی ذمہ دار فرد نے آپ سے رابطہ کیا ہو اور کہا ہو کہ آپ ہر ایک کی سفارش کیوں کرتے ہیں؟

جواب: سفارشیں تو میں بہت ساروں کی کرتا تھا۔ میں اس سے قبل بھی پانچ سال بنگال میں رہ چکا تھا ، بہت لوگ میرے جاننے والے تھے۔

سوال: کیا یہ معمول ہو گیا تھا کہ لوگوں کا آنا اور رونا دھونا؟

جواب: بات یہ ہے کہ آپ میرے دوست ہیں، جاننے والے ہیں، آپ میرے پاس آئے، تو میں کیا کروں۔ آپ کی بات تو سنوں گا۔

سوال: کیا ایسی شکایتوں کی تعداد بڑھ رہی تھی؟

جواب: بھئی لوگ بے و قوف تو نہیں ہیں۔ جب انہیں یہ اندازہ ہوگیا اور سمجھ گئے کہ مجھے ایسے ہی شو پیس کے طور پر رکھا ہوا ہے مگر یہ بات سمجھنے میں لوگوں کو چار پانچ ماہ لگ گئے۔

سوال: ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تو بنگالی تھے اور وہ کام کرہے تھے ؟

جواب: ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کی بھی یہ ہی کیفیت تھی۔ وہ شروع شروع میں تما م شکایات میرے پاس لاتے تھے۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ میرے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں ۔ انہیں بھی پتہ تو لگ جاتا تھا کہ سوائے الجھانے کہ اور کچھ نہیں ہوگا۔ اور میرے بھی فوجیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہورہے تھے۔ پھر انہوں نے شکایات لانا بند کر دیا ۔ وہ ذاتی طور پر سمجھدار اور اچھے لوگ تھے۔ میں جب جاتا تھا تو کھلے دل سے خیر مقدم کیا کرتے تھے۔ ڈھاکہ کے ڈپٹی کمشنر فرید مسلسل مجھ سے اور میری بیوی سے ملاقات کے لئے آتے تھے۔ کھبی کھبی ضد کرتے تھے کہ کھانے پر چلیں۔ کھانے پر ہم انہیں میاں بیوی کو بلا لیتے تھے۔

سوال: جب آپ جنگی قیدی بن گئے تو ان کے رویہ کیا تھا؟

جواب: جب تک ہم ڈھاکہ میں رہے وہ آتے رہے۔

سوال: بنگالی تو اپنی آزادی حاصل کرنے پر بہت خوش ہوں گےَ ؟

جواب: ایک تو ہم خود ایسے تجربہ سے گزر رہے تھے جو کہ بڑا تلخ تھا دوسرا ہمارا ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اس وجہ سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ خوش تھے یا نہیں تھے۔ آپ ان کی خوشی کا بہر حال اندازہ اس طرح کر سکتے ہیں کہ ڈیڑھ دو ما ہ سے مسلسل دفعہ 144لگا ہوا تھا اور لوگوں کو گھروں سے باہر نکلے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن جب سقوط ڈھاکہ ہوا تو لوگ آزاد تھے ۔

سوال: آپ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ آپ کے اے ڈی ایم نے آپ کو فون کیا کہ اسے حراست میں لے گیا ہے اور ان کی بیوی کو بند کر کے ان کی بیٹیوں کو جوان لے گئے تھے ؟

جواب: جوان لے نہیں گئے تھے ، اے ڈی ایم نے کہا تھا کہ جوا ن عصمت دری کرنا چاہتے ہیں۔ میری مداخلت سے وہ محفوظ رہے جس کے بعد ان کی بیوی مسلسل فون کر کے میرا شکریہ ادا کیا کر تی تھی کہ آپ نے میری بچیوں کی عزت بچالی۔ آپ نے احسان کیا۔

سوال۔ اس قسم کی رپورٹیں موصول کرنے پر آپ کی کیا کیفیت ہوتی تھی؟

جواب: بہت بری کیفیت ہوتی تھی۔ کبھی رونے لگتا تھا۔ کھبی آنسو نکل آتے تھے۔ کھبی بے بسی محسوس کیا کرتا تھا۔ کھبی ایسے ہی پاگلوں کی طرح لوگوں سے الجھ جاتا تھا۔ حالانکہ میں مجموعی طور پر اس کردار کا مالک نہیں ہوں۔ میرے اعصاب مضبوط ہیں۔ لیکن رویہ اکثر غیر معمولی ہوجاتا تھا۔

سوال: اس دوران آپ نے کبھی یہ کیوں نہیں سوچا کہ آپ مستعفی ہو جائیں؟

جواب: مستعفی کیوں ہو جاتا؟ لوگوں کی میں کچھ نہ کچھ مدد کرتا تھا۔ اس سے بھی لوگ جائیں۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ یہ تو بزدلی ہے۔ لڑائی میں میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ ایک لڑائی ہے جس میں آپ کو شکست ہو رہی ہے ، میدان چھوڑ کر کیوں بھاگ جائیں؟ اگر میں چھوڑ کر بھاگ جاتا تو یہ کتاب کیسے لکھتا؟ یہ آپ سے انٹرویو کیسے کر رہا ہوتا؟

سوال:کیا شیخ مجیب الرحمان کا یہ الزام درست ہے کہ بنگالی لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی ؟

جواب: کوئی تردید نہیں کرتا ہے۔ رپورٹیں طویل عرصے تک گردش میں رہی ہیں۔ کمیشن کے سامنے بھی بیانات ہوئے تھے۔ میرا اپنا کمیشن کے سامنے بہت طویل بیان ہے۔ میں جو آپ کو دے رہا ہوں وہ بہت تھوڑا ہے، جو ہوا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ اور آپ ان لوگوں کو سزا نہیں دینا چاہتے ہیں۔بھارتیوں نے پانچ سو آدمیوں کو کورٹ مارشل کیا ہے۔ آپ نے کتنوں کا کیا ہے۔

سوال: آپ جس طرح مضامین لکھ رہے ہیں، کتاب لکھ دی ہے، کیا کوئی روحانی تکلیف ہے؟

جواب: میں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میرے دوست کہتے ہیں کہ میں اپنا وقت اور کوششیں اس کام میں ضائع کر رہا ہوں کیوں کہ کسی کے پاس وقت نہیں ہے کہ لوگ جائز اور ناجائز طریقے سے پیسے بنانے میں مصروف ہیں۔ میں ان سے مکمل اختلاف تو نہیں کرتا۔ لیکن میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر زندگی میرے لئے کوئی مسئلہ بن جاتی ہے تو میں زندگی کے لئے کوئی مسئلہ نہیں بنو گا۔ خدا نے ہر انسان کو چیخ پکار کرنے کا حق دیا ہے۔ اس حق کو استعمال کرتے ہوئے میں چیختا رہوں گا اور چیختا رہوں گا جب تک میں مر نہیں جاتا کیوں کہ میں اپنی قبر میں آرام و سکون کے ساتھ تو سو رہا ہوں گا۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ آپ کو جواب مل گیا کہ میں کیوں یہ سب کچھ کر رہا ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس ملک کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ پاگلوں کا تناسب کم ہے۔ کسی صحت مند معاشرے میں پاگل اور سمجھدار لوگوں کا ایک تنا سب ہونا چاہئے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں پاگلوں کا تناسب بہت کم ہو گیا ہے۔

سوال: پاگلوں سے مراد ایسے لوگ جو dedicated and devoted ہوں ؟ ۔

جواب: جو آپ کہیں۔ پاگل تو وہ ہی ہوتا ہے جو حالات کو نہیں سمجھتا، اپنے راستے پر چلنا شروع کر دیتا ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ میں ان پاگلوں میں سے ہوں۔ میں یہ کوشش کر رہا ہوں کہ اس ملک میں جو پاگلوں کا خلاء ہو گیا ہے اسے کسی حد تک پر کروں۔ اس لئے کہ اس قسم کی با تیں کرنا ایک ایسے ملک میں جہاں آپ منتخب نہیں ہو سکتے جب تک آپ کے پاس پیسے نہ ہوں، اسمگلنگ کے پیسے ہوں، جیسے بھی پیسے ہوں، اس کے بغیر آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ اس ملک میں اس قسم کی با تیں کرنے والے تو پاگل لوگ ہی ہوں گے، لیکن بات یہ ہے کہ جس ملک میں اتنے بڑے جرائم ہوئے ہوں، ان کی وجہ سے آپ کا دل نہیں دہلتا، وہ آپ کی انکھوں میں آنسو نہیں لا تے وہ آپ کے ضمیر کو میں جھنجھوڑتے ، آپ کچھ نہیں کر سکتے۔

سوال: آپ کے خیال میں قانون قدرت کیا ہے ؟

جواب: قانون قدرت یہ ہی ہے جو آپ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کسی کی زندگی محفوظ نہیں ہے ، روز کوئی نہ کوئی مارا جارہا ہے۔ کراچی جیسے شہر میں آپ کی زندگی محفوظ نہیں ہے۔ حیدرآباد میں کوئی محفوظ نہیں ہے۔ یہاں یہ جو خوشحالی کا جزیرہ ہے (اسلام آباد) یہاں بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔آپ کی پارلیمنٹ کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق کام کرنے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھ جیسے آدمی کو یہ باتیں کھل کر ہر ایک کے سامنے کرنا چاہئے۔ ممکن ہے کہ کسی کی بات کہیں لگ جائے۔

سوال: جب ہمارے فوجیوں کو کرمی ٹولہ میں رکھا گیا اور ان کے پاس رائفلیں بھی تھیں تو انہیں نے بغاوت کیوں نہیں کی؟

جواب۔ بغاوت کس کے خلاف کرتے۔ لوگ ان کے گلے پڑ جاتے۔ مکتی باہنی ان کے گلے پڑ جاتی۔ یہ اپنے ڈیفنس میں ہی لگے رہے۔

سوال۔ ہمارے لوگوں کا مورال گر گیا ہوگا؟

جواب۔ مورال تو اسی دن سے گر گیا تھا جس دن سے لڑائی شروع ہو ئی تھی۔

سوال: سید صاحب جس طرح آج کل ڈپٹی کمشنر عیش کی زندگی گزارتے ہیں ، آپ کو تاسف ہوتا ہے کہ آپ کچھ نہیں کر سکے۔

جواب: مجھے تو خیال نہیں آتا۔میں تو اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں کہ بہت محبت کرنے والی بیوی ہے۔ بہت ذہین بچے ہیں ، جنہوں نے ہمیشہ نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کے لئے مجھے کبھی سفارش نہیں کروانا پڑی۔ خود سید ہونے کے ناطے آبا و اجداد نے فقیرانہ ز ندگی کی عادت ڈالی ہوئی ہے۔ بازار میں ٹوکری لے کر سودا لینے خود جاتا ہوں۔ جب ڈھاکہ میں تھا تو چیف سیکریٹری نے وارننگ دی تھی کہ آپ اپنے ا سٹیٹس کے مطابق نہیں رہتے ہیں۔ کمشنر کی یہ شان نہیں ہی کہ ٹوکری لے کر جایا کرے۔

سوال: بہاریوں اور بنگالیوں کے درمیان تعلقات کس نوعیت کے تھے ؟

جواب: ایک تو وہ لوگ تھے جنہوں نے ایک دوسرے خاندانوں میں شادیاں وغیرہ کر لی تھیں۔ دوسرے وہ لوگ تھے جو کسی طرح بھی گھلنے ملنے کو تیار نہیں تھے۔ دلوں میں نفرتیں تھیں۔ بنگالی بنیادی طور پر ظالم نہیں ہے لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے ظلم بھی بہت زیادہ دکھایا۔ بچوں تک کو مارا۔ بوئرا میں بھارت کے حملے کے بعد صورت حال بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔

سوال وہ کیا واقعہ تھا ؟

جواب: اس واقعہ میں ہوا یہ کہ ہندوستان نے ہمارا ایک علاقہ جس کا نام ہے بوئیرا ہے، اس پر حملہ کر دیا۔ طریقہ کار یہ تھا کہ مکتی باہنی آگے آگے، پیچھے بھارت کے ٹینک اور فوج تھے۔ پاکستانی فوج نے مزاحمت کی مگر بھارت کا حملہ اتنا شدید تھا کہ جب ہمارے چار سیبر ہوائی جہاز وں نے حملہ کیا تو بھارت نے وہ مار گرائے۔ اور ٹینکوں سے وہ آکر پورے علاقے پر قابض ہو گئے۔ یہ اعلان جنگ تھا لیکن جنگ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ میں نے بعد میں آغا شاہی اور دوسروں سے بھی پوچھا کہ آپ نے لڑائی کیوں نہیں کی انہوں نے کہا کہ اس کا جواب تو یحییٰ خان ہی دیں گے۔ میں نے ان سے معلوم کیا کہ آپ نے مشورہ دیا تھا کہ ہمیں اس معاملہ کو سیکورٹی کونسل میں لے جانا چاہئے۔ انہیں نے جواب دیا کہ ہم نے مشورہ دیا تھا۔

سوال: کیا بنگالیوں میں کوئی گروہ تھے جو پاکستانی فوج کے حامی ہوں ؟

جواب: سوائے وہ ہی الشمس اور البدر جیسی ترغیب شدہ فورس جسے جماعت اسلامی نے پیدا کیا تھا۔ اور جو بہاری تھے۔

سوال۔ جب افسران ہی بے محل irrelevant ہوگئے تو سیاست دانوں کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ اور تعلق ہی برقرار نہیں رہا ہوگا ؟

جواب: نہیں ۔ رابطوں اور تعلق کی بات یہ تھی کہ بارہ تیرہ لیڈر تو پہلے ہی بھارت بھاگ گئے تھے۔ اس کے بعد تیس چالیس اور بھاگ گئے ہوں گے۔ 168 تھے قومی اسمبلی میں اور تین سو تھے صوبائی اسمبلی میں ۔ وہ سارے کے سارے اپنے گھروں اور گاؤں میں یا جنگلوں میں چلے گئے تھے۔ وہ آنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ خوفزدہ بھی تھے کہ پکڑ لیں گے مار دیں گے۔

سوال: جب شاہ عزیز الرحمان اور فرید احمد نے آپ سے کہا کہ لوگوں سے بات کریں، فہرست ہم دے دیتے ہیں تو پھر آپ نے کیا کیا؟

جواب: میں نے گورنر صاحب کو بتا دیا تھا۔ ٹکا خان گورنر بھی تھے۔ مالک کو انہوں نے خود ہی بتا دیا تھا۔ میرے بتانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ مالک اور ٹکا خان کے درمیاں فرق یہ تھا کہ جب میں ٹکا خان کے پاس جاتا تھا تو مجھے انہیں بہت سی باتیں بتانا پڑتی تھیں۔ انہیں علم نہیں ہوتا تھا۔ مالک کے پاس ایسا نہیں ہوا ۔ میں جب کوئی بات منہ سے نکالتا تھا تو اس سے کہیں زیادہ انہیں معلوم ہوتا تھا۔

سوال: ٹکا خان نے کیا جواب دیا ؟

جواب: ان کی ذہانت کے متعلق آپ کی جو بھی رائے ہو ، وہ ایک نیک نیت آدمی تھے۔ میری اطلاعات یہ تھیں کہ انہوں نے یحیی خان کو یہ باتیں بتا دیں تھیں۔ یہ بھی کہا تھا کہ آپ عام معافی کا اعلان کردیں، جو انہوں نے دو مرتبہ کی بھی لیکن اس میں اتنے اگر مگر لگائے گئے کہ وہ ناکارہ سی بات بن گئے تھی۔ کار آمد نہیں تھی۔ دو دفعہ عام معافی کا اعلان کیا لیکن وہ بے معنی تھی۔

سوال: وہ لوگ کس طرح کی عام معافی مانگ رہے تھے ؟

جواب: ہم نے یہ تجویز دی تھی کہ جن کے خلاف آپ نے کاروائی کی ہے وہ ہو گئی، جن کے خلاف آپ کاروائی کرنا چاہتے ہیں ان کے ناموں کا اعلان کریں۔ باقی سب کو معاف کریں اور لوگوں سے کہیں کہ آؤ، حکومت بناؤ۔ مسئلہ صرف (چھہ نکات میں سے) غیر ملکی امداد اور تجارت کا ہی رہ گیا تھا۔ اعلان کر دیں کہ جو لوگ ان بنیادوں پر حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں وہ قائم کرلیں۔ شاہ عزیز الرحمان (مجیب کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد وزیر اعظم بنے) بعد میں اور مولوی فرید احمد (پاکستان حامی ہونے کی وجہ سے قتل کر دئے گئے) کہتے تھے کہ وہ لوگ تیار تھے۔

سوال: بنگالی توپاکستان سے ناراض تھے ، ساتھ رہنا نہیں چاہتے تھے ، اپنی آزاد ریاست چاہتے تھے؟

جواب: ایسا نہیں تھا۔ بہت سارے لوگ محب الوطن تھے ۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ لوگوں کو ان حالات میں ڈال دیں کہ جہاں ان کے بیوی بچے محفوظ نہ ہوں، پھر اس کی سوچ کیا ہوگی۔

سوال: پھر کیا تھا ؟

جواب: انہوں نے کہا کہ ہمارے چھہ نکات تسلیم کرو۔ مذاکرات کے بعد آپ نے کہا کہ ہم پونے چھہ نکات تسلیم کرتے ہیں اور اس کے بعد آپ نے رات کو مارشل لاء لگا دیا۔ کچھ لوگ بھاگ گئے۔ آپ اتنے نالائق تھے کہ وہ سب مجیب کے گھر میں جمع تھے۔ مجیب کو دو گھنٹے پہلے اطلاع مل گئی تھی کہ مارشل لاء لگایا جارہا ہے۔ مجیب نے کئی پاکستانیوں کو اطلاع دی کہ بھائی یہ تو ایکشن شروع کر رہے ہیں، بھاگو اب ۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاھب کو بھی مجیب نے مطلع کیا۔ ان کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا کہ ایکشن شروع کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں جب آپ کسی کو اعتماد میں لینے پر تیار نہیں تھے تو آپ انہیں کس بنیاد پر محب وطن بنانا چاہتے تھے۔ آپ اقتدار ان کے حوالے نہیں کریں گے۔ آپ انہیں انصاف فراہم نہیں کریں گے۔ آپ ان کے کسی آدمی کو اہم عہدے پر نہیں رکھیں گے۔ کیا ان بنیادوں پر آپ ان کی وفاداری چاہتے تھے۔ اس سے زیادہ وہ اپنی نیک نیتی کا کیا ثبوت دیتے کہ مجیب الرحمان نہیں بھاگا۔ کیا آپ کو اس بات کو علم ہے کہ شاہ ایران نے بھٹو صا حب کو پیغام دیا کہ میں آرہا ہوں اور میں مجیب سے ملنا چاہتا ہوں۔ بھٹو صاحب نے شاہ کے آنے سے پہلے ہی مجیب کو ہوائی جہاز میں بٹھا کر بھیج دیا۔ کیوں ؟ ( شیخ مجیب الرحمان کو حکومت پاکستان نے25جنوری 1971ء کو آزاد کر دیا تھا) اور مجیب اتنا اہم تھا کہ آپ اس کے ذریعہ اپنے جنگی قیدیوں کی رہائی کرا لیتے۔ کسی قسم کے تعلقات طے کر لیتے جس کے لئے شاہ ایران بھی مدد کرنے کو تیار تھا۔ کسی بھی بہترین موقع سے فائدہ نہیں لیا گیا۔ اگر چھہ نکات میں سے صرف پاؤ نکتہ کا مسئلہ رہ گیا تھا جب مجیب آپ کے قید میں تھا تو مذاکرات کیوں نہیں کئے گئے۔

سوال: مجیب تو شعوری طور پر نہیں بھاگے ہوں گے۔ صرف یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ پاکستان کے حامی ہیں۔ پھر رہنماء کیسے بھاگ سکتا تھا ۔ اگر وہ بھی بھاگ جاتے تو پھر تو سارا کھیل ہی خراب ہو جاتا؟

جواب: اگر مقصد صرف آزادی حاصل کرنا تھا تو وہ بھی بھاگ جاتا۔ بھارت تو آزاد کرانے کے لئے تیار تھا۔ بھارت تو بہت کہتے رہے مجیب کو کہ آپ آجائیں لیکن وہ نہیں گیا۔ وہ تو آپ کے پاس آگیا۔ آپ نے ان کے آنے کا فائدہ کیوں نہیں اٹھایا ۔

سوال: کیا عوامی لیگ کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی یا مجلس عاملہ میں صد فیصد لوگ ایسے تھے جو معاملات کا سیاسی حل چاہتے تھے یا کچھ عناصر بھارت سے مرعوب تھے، اس کے اثر میں تھے اور پاکستان کو دو لخت کرنا چاہتا تھا؟

جواب: آپ نے 1958 کے بعد سے بنگالیوں کو اقتدار سے مکمل محروم کر دیا تھا۔ آپ نے منعم خان جیسے شخص کو گورنر بنایا جس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس نے صرف آپ کی طاقت پر حکمرانی کی۔ اس دور میں بنگالیوں کا کسی معاملے میں عمل دخل نہیں رہا تھا۔ وہ (بنگالی) بھی اپنے تجربہ کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ آپ ان پر صرف حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ ان حالات میں جب آپ انہیں کچھ بھی دینے پر تیار نہیں تھے، آئین کے تحت دئے گئے حقوق دینے پر تیار نہیں تھے۔ انہیں کسی ذمہ دار پوزیشن پر رکھنے کو تیار نہیں تھے ، سوائے منعم خان جیسے لوگوں کے جن کا کوئی دین و ایمان نہیں تھا۔ حالانکہ ذاتی طور پر آدمی اچھا تھا۔ لیکن لوگوں کا نمائندہ نہیں تھا۔ وہ ایوب خان کا نمائندہ تھا۔ اس تک لوگوں کی پہنچ ہی نہیں تھی ۔ اسے جو اختیار دئے گئے تھے ان پر عمل کرتا تھا۔ وہ ایک سیاست داں تھا لیکن وہ اس سطح پر نہیں پہنچ سکا تھا کہ اپنی انفرادی شخصیت بنا لیتا۔

سوال: جب آپ بوگرا میں ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے گئے، تو محمد علی بوگرا کو وزیراعظم کی حیثیت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ کیا لوگ ناراض تھے ؟

جواب۔بوگرا کے علاقہ میں ان کا خاندان تھا۔ یہ نواب تھے ۔ یہ بڑے پاکستان کے حامی لوگ تھے۔ اس علاقہ پر مرشد آباد کا اثر زیادہ تھا۔ اثرات فوری طور پر تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ انہیں تبدیل ہونے میں صدیاں لگتی ہیں۔ اس طرح کے جو لوگ تھے ۔ ان کی سوچ اسلامی تھی۔ اردو سے قریب تر تھے۔ دلی کے مغل ثقافت سے زیادہ متاثر تھے۔ ان کے اثرات کی وجہ سے لوگ ان کے قریب تھے۔ آپ اودھ جائیں آپ کو شیعہ اثر ملے گا۔ لوگ کہتے سنے جائیں گے کہ خون حسین کی قسم، علی اکبر کی تشنگی کی قسم، یہ کیوں ہے۔ یہ صدیوں سے ایک ثقافت بنی چلی آ رہی تھی۔

سوال۔ لیکن پھر سن تہار کے علاقہ میں جو کچھ ہوا؟

جواب: 1958ء کے بعد سے غیر بنگالی بنگالیوں کی محرومیت کے ذمہ دار تصور کئے جاتے تھے ۔ اس سے قبل انہیں نے کرنا فلی پیپر ملزمیں غیر بنگالی منیجر وغیرہ کو مار دیا تھا۔ یہ سب کچھ ہوا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیوں ہوا۔ یہ اس لئے ہوا کہ آپ نے ان کے معاملات پر فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔ 1935ء ایکٹ کے تحت جو اختیارات انہیں ملے ہوئے تھے ، جو سیاسی آزادی حاصل تھی، وہ بھی 1958ء کے بعد آپ نے چھین لی۔ یہ کس قسم کی آزادی تھی، کس قسم کا پاکستان تھا جس میں وہ آئے تھے ۔

سوال: یہ کہا جاتا ہے کہ چھہ نکات مغربی پاکستان کے کچھ لوگوں نے مجیب کو لکھ کر دئے تھے ؟

جواب: مقدمہ چلا ہے، الطاف گوہر کا نام لیا گیا تھا۔

سوال: لیکن الطاف گوہر نے تردید کی تھی۔

جواب: انہوں نے عدالت میں بھی تردید کی تھی۔ عدالت میں یہ ثابت نہیں ہوسکات کہ انہوں نے لکھ کر دئے تھے۔ بہر حال ثابت نہ ہونا ایک الگ بات ہے، لیکن الطاف گوہر ان لوگوں میں سے تھے جو اس قسم کے کام کرتے تھے۔

سوال: کیاہارون بھی مجیب کی مالی مدد کیا کرتے تھے ؟

جواب: یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ سرمایہ دار کے طور پر مدد کیا کرتے تھے، کیا امریکہ کی شہ پر کرتے تھے۔ یا ان کا تعلق سی آئی اے سے تھا یا انہیں کسی انٹیلی جنس سے پیسے ملتے تھے۔ میر اتنی معلومات نہیں ہیں کہ اس کا جواب دے سکوں۔ لیکن جو بنیادی سوال ہے کہ وہ مدد کرتے تھے۔

سوال: کیا آپ کی مجیب سے کوئی ملاقاتیں ہوئیں۔ کیسا آدمی تھا۔ گھر کیسا تھا ؟

جواب: وہ متوسط گھرانے کا آدمی تھا۔ معمولی گھر تھا۔ دھان منڈی میں اس وقت سے رہتے تھے جب دھان منڈی خوشحال لوگوں کا علاقہ نہیں بنا تھا۔ یہ بنیادی طور پر فرید گنج کے رہنے والے ہیں۔ ان کا آبائی مکان ہے وہ بہت سادہ سا تھا۔ دھان منڈی کا مکان بھی سادہ تھا۔ اپنے رویہ میں بہت اچھا آدمی تھا۔ جن ہم قیدی تھے وہ ہم سے ملاقات کے لئے آیا ۔ میں ان چند لوگوں میں سے ایک تھا جن سے وہ تنہائی میں ملا۔ اس نے اظہار ہمدردی کیا۔ بہت دوستانہ انداز میں ملا تھا۔ اس نے ہم کئی لوگوں کو پیشکش کی تھی کہ ہم ان کے ساتھ رہیں۔

سوال: مجیب کے ساتھ ایسا کیوں ہوا کہ ان کے پورے خاندان کو ان کے اپنے فوجیوں نے قتل کر دیا ؟

جواب: بنگالی مسلمان پاکستان کا بہت حامی تھا۔بھارت کا مخالف تھا۔ حالات نے اسے پاکستان مخالف بنا دیا، لیکن بنیادی طور پر وہ پاکستان کا ہمدرد ہے جس کا ثبوت پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ اور ہاکی کے میچوں میں ملتا ہے۔ 1971ء کے بعد بھی وہ لوگ ذاتی طو ر پر تو دوستانہ ماحول میں ملتے تھے سوائے سیاسی معاملات کے ۔ انہوں نے دو ڈھائی سو لوگوں کے جو نام دئے تھے ان کے بارے میں وہ کہہ رہے تھے کہ آپ انہیں سزا دیں۔ یہاں فوج کا دباؤ اتنا تھا کہ سزا تو سزا آپ ان پر انگلی رکھنے کو بھی تیار نہیں تھے۔ میری اطلاع یہ بھی ہے( جو مجھے بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار افسر نے بتائی تھی)کہ اس بات (دو ڈھائی سو لوگوں کو سزا دینے کے معاملہ) پر مجیب الرحمان اور اندرا گاندھی کے درمیاں خاصی تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔ مجیب الرحمان نے اندرا سے کہا کہ وہ کسی قیمت پر اس مطالبہ سے دست بردار نہیں ہو سکتے ۔ ان لوگوں پر مقدمہ چلنا چاہئے۔ اس پر اندرا گاندھی نے کہا کہ مجیب الرحمان صاحب آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ ہم نے آپ کو آزاد کرا دیا۔ اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ دشمنی میں گھر جائیں۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ ہماری دقتوں کو سمجھئے۔ میرا خیال یہ ہے کہ آپ کو ہمارا ممنون ہونا چاہئے کہ ہم نے آپ کو پاکستانی فوج سے نجات دلائی۔ اس کی آپ ہمیں یہ سزا نہیں دے سکتے کہ پاکستان اور ہندوستان ازلی دشمنی میں گرفتار ہو جائیں۔ پاکستان کسی حالت میں بھی اس بات کے لئے تیار نہیں ہوگا کہ ان کے لوگوں پر مقدمہ چلایا جائے۔ اس کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے کہا کہ پھر آپ جو چاہیں کریں۔ مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا۔

سوال: مارچ کے مہینے میں جب بھٹو صاحب مشرقی پاکستان سے واپس آئے تو انہوں نے کراچی ایئر پورٹ پر بیان دیا کہ شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا۔ آپ مئی کے مہینے میں گئے تھے اس بیان پر کچھ رد عمل آپ نے محسوس کیا تھا ؟

جواب: مارچ میں فوج نے ایکشن کیا۔ اپریل کے مہینے میں صورت حال بہتر ہونا شروع ہو گئی تھی۔ مئی کے اندر حالات بہت ٹھیک تھے۔ اس وقت آپ آہستہ آہستہ سیاسی مذاکرات شروع کر سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ آپ کو کچھ تو کرنا چاہئے تھا۔ آپ لوگوں کو مارے جارہے تھے۔مئی سے جولائی تک بنگالیوں نے انتظار کیا کہ کوئی سیاسی حل نکالا جائے گا ۔ ادھر سے کچھ نہیں ہوا۔

سوال: جو لوگ بھارت چلے گئے تھے وہ اپنے اہل خانہ کو بھی لے گئے تھے ؟

جواب: ہاں لے گئے تھے مگر جب بڑے پیمانے پر منتقلی ہوئی اس میں بھی خاندانوں کے خاندان چلے گئے تھے۔ صرف بوڑھے لوگوں کو گھروں کی دیکھ بھال کے لئے چھوڑ گئے تھے ۔

سوال: جب اتنے بڑے پیمانے پر جارہے تھے تو فوج ان کو روک نہیں سکی ؟

جواب: بڑے پیمانے پر منتقلی کو کون روک سکتا ہے؟ اور اس وقت لے دے کہ صرف ایک ڈویژن فوج تھی۔ بعد میں دو ڈویژن مزید پہنچا دی گئی تھی۔ مشرقی پاکستان کا توحال یہ ہے کہ ایک میل میں تقریباً کوئی 80پل ہوتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے دریا، نہریں۔ بس آپ چار پل اڑا دیں، ادھر کا آدمی ادھر نہیں جاسکتا ہے۔ بنگالیوں کیلئے مشکل نہیں تھا۔ وہ تو مقامی آبادی تھی۔ انہیں تیرنا بھی آتا ہے۔ بہت اچھے تیراک ہوتے ہیں۔ ان کیلئے پانی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

سوال: جب آرمی ایکشن ہو رہا ہوگا تو بھارت نے گھس بیٹھئے تو بھیج دئے ہوں گے؟

جواب: بھارتیوں نے اپنے آدمی بھیجنے کی بجائے بنگالیوں کو تربیت ہی کی تھی۔ لوگ آپ سے بے زار تھے۔ لاکھوں تیار تھے تربیت حاصل کرنے کے لئے۔ وہ صرف ہتھیار اور خوراک چاہتے تھے اور بھارت اس کے لئے تیار تھا۔

سوال: جو جنگی قیدی بنے، کیا ان میں بنگالی بھی تھے؟

جواب: نہیں۔

سوال: سقوط ڈھاکہ کے بعد بنگالیوں نے پاکستان کے حامیوں کو اپنی سفاکی کا بری طرح نشانہ بنایا؟

جواب: مکتی باہنی آگے بڑھتی چلی جاتی تھی۔ بہاریوں کو اور وہ لوگ جو پاکستان کے حامی تھی ان کو مارتے جاتے تھے۔ گھر کے گھر، خاندان کے خاندان اور گاؤں کے گاؤں تباہ کر دیئے تھے۔ مار کر لاشیں پانی میں پھینک دی جاتی تھیں۔

سوال: جب جنگی قیدی بنے تو ہمارے فوجیوں کا کیا رد عمل تھا؟

جواب: جان چھوٹ گئی۔ ڈرے ہوئے نہیں تھے بلکہ محفوظ ہو گئے تھے۔ اب انہیں کوئی ڈر نہیں تھا۔ وہاں ہوتے ہو ئے تو بہت ڈر تھا۔

سوال: بھارت نے تو کیمپوں میں بہت تشدد کیا ہو گا؟

جواب: ان کیمپوں کی ریڈ کراس نگرانی کر رہی تھی۔ ایسی شکایات تو نہیں تھیں۔

سوال: آپ لوگوں سے بھارت نے تفتیش میں کیا پوچھا تھا؟

جواب: ایک سوال جمعدار ( خاکروب) سے لے کر اعلیٰ عہدیدار تک کرتے تھے وہ یہ تھا کہ پاکستانی فوج کیوں ہار گئی۔ ہمارا خاکروب رگو تھا جو بریلی تھا۔ میں بھی بریلی کا ہوں۔ وہ کہنے لگا کہ صاحب ہم نے تو یہ سنا تھا کہ مسلمان بڑے بہادر ہوتے ہیں تو پھر کیسے ہار گئے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس کے خیال میں کیا وجہ ہے۔ اس نے کہا کہ ہماری سمجھ میں تو ایک ہی بات آتی ہے کہ ہمارے ہاں جنتا (عوام )کا شاشن ( حکمرانی) ہے اور آپ کے ہاں سینا (فوج)کا شاشن ہے۔

سوال: جب آپ کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لئے کہا گیا تو کوئی بریفنگ ہو ئی تھی ؟

جواب۔ نہیں۔ کوئی بھی نہیں۔ کمیشن کا طریقہ کا ریہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ جو کچھ کہنا ہے کہہ دیجئے۔ میں پورا ایک پیپر لکھ کر لے گیا تھا ۔ میں نے پہلے دن ہی وہ دے دیا تھا۔ پھر دوسرے روز بلایا گیا تھا۔ میں نے سب کچھ اپنی یاداشت کی بنیاد پر لکھا تھا۔ قید میں ڈائری رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ بس چھوٹے چھوٹے کاغذ ادھر ادھر سے اٹھا کر اس پر بے ترتیبی سے لکھ لیا کرتا تھا تاکہ یاد رہے۔ بھارت کی قید کے دوران بھی انٹیلی جنس والوں نے پوچھ گچھ کی تھی۔ میں انہیں کیا بتاتا؟ میرے پاس کون سے ملٹری سیکرٹ تھے؟ انہیں سب کچھ پتہ تھا۔ وہ سب سے آگاہ تھے۔ بس مجھ سے مختلف معاملات پر رائے لینے والی بات تھی۔ یہ بات ضرور تھی کہ ان کی ٹیم بارہ تیرہ افراد پر مشتمل تھی جس میں مختلف سبجیکٹ کے ماہرین تھے۔ میں نے سنا ہے کہ انہوں نے بڑی تفصیلی رپورٹ دی تھی۔ یہاں جن لوگوں نے گفتگو کی وہ معمولی سطح کے لوگ تھے۔ ہمارے والوں نے 1971 کی جنگ کے بارے میں کوئی سرکاری یا غیر سرکاری دستاویز تیار ہی نہیں کی ہے حالانکہ بہت ساری اہم معلومات تھیں۔ ہم جاہل قسم کے لوگ ہیں جو صرف پیسہ بنانے میں مصروف ہیں۔

سوال: بنے گا کیا سید صاحب ؟

جواب: کوئی بہتری کی صورت نظر تو نہیں آتی ہے۔ سیاسی لیڈر شپ کا حال یہ ہے کہ وہ تو مکمل پیسے کی غلام ہو گئی ہے۔ ایک دن بار روم میں بات ہو رہی تھی کہ اس وقت ڈیڑھ سو وکیل بیٹھے ہوئے ہیں ان میں سے کئی بہت ممتاز اور قابل وکیل ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو منتخب ہو کے اسمبلیوں میں پہنچ سکے اس لئے کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو تین کڑوڑ روپے نہیں ہیں۔ جب تک آپ کے پاس دو تین کروڑ روپے خرچ کرنے کے لئے نہیں ہیں آپ اسمبلی میں نہیں پہنچ سکتے۔ آپ کے پاس کروڑوں روپے ہیں تو آپ اسمبلی میں بھی آ جائیں گے۔ پاکستان کی سیاست میں آپ خالی ہاتھ داخل نہیں ہو سکتے۔ سیاست میں داخل ہونے کے لئے آپ کی جیبیں بھری ہونی چاہئیں۔

***

مزید : ایڈیشن 2


loading...