’’ہم نہ بھولیں گے‘‘

’’ہم نہ بھولیں گے‘‘
’’ہم نہ بھولیں گے‘‘

  


ابھی دو، تین روز پہلے ہی یتیم خانہ چوک میں انجمن حمایت اسلام کے زیر اہتمام چلنے والے دارالشفقت میں سولہ دسمبر کے شہیدوں کی یاد میں تقریب کے دوران میرے سامنے وہ بہت سے بچے تھے جو اپنے والدین اور سرپرستوں سے محروم ہو چکے ہیں۔میں نے ان بچوں سے کہا، ہمارا دہشت گردوں کے ساتھ جھگڑا ہی اس بات کا ہے کہ وہ تعلیم اورترقی کے دشمن ہیں، ملالہ کے ساتھ بھی ان کی دشمنی یہی تھی کہ وہ ہماری بچیوں کے سکول بمو ں سے اڑا رہے تھے اور ملالہ، گل مکئی کے نام سے ان کی تخریبی کارروائیوں کو بی بی سی کے بلاگ پر بے نقاب کررہی تھی۔ میرے دوست ملالہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور اسے دشمن کی سازش قرار دیتے ہیں اورمیں کہتا ہوں کہ اگر دشمن میرا دشمن میرے بچوں کو صحت،تعلیم اور امن دیتے ہوئے ہمارے خلاف سازش کرنا چاہتا ہے تو آئیں ہم سب مل کر اس سازش اور سازشیوں کو خوش آمدید کہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں کچھ تحفظات ہوں مگر مجھے پورا یقین ہے کہ تعلیم،صحت اور امن کسی طور بھی دنیا کے سب سے سچے مذہب اسلام کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔اگر دنیاوی تعلیم میرے دین کے لئے خطرہ ہوتی تو دنیا کی سب سے سچی اور عقل مند ذات اس کا حصول اپنے ساتھیوں پر گو د سے گور تک فرض قرار نہ دے دیتی ، نجانے ہم کس فکری تضاد کا شکار ہیں کہ میرے شہر میں تعلیمی ادارے ہی نہیں بلکہ ان کے مالکان کی ایک تنظیم چلانے والا خوبصورت شخصیت کا مالک دوست ملالہ کے خلاف کتاب لکھ کر اس پر داد وصول کرنا چاہ رہا ہے۔کیا ستم ہے کہ ہماری خیبرپختونخوااسمبلی نے ملالہ کے نام سے یونیورسٹی کے قیام کی قرارداد مسترد کر دی ہے۔ ہم بھی عجب قوم ہیں، ہمارے پاس دو نوبل انعام یافتہ ہیں اور ہم دونوں سے ہی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ اسمبلی میں بیٹھے خیبرپختونخواکے بڑے اپنی بیٹی کو عزت نہیں دینا چاہتے تونہ دیں،عزت اور ذلت دینے والی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں ۔میں نے کہا تھا کہ ہم تمہیں بھول جائیں گے جیسے ہم اس سے پہلے دہشت گردی میں ہلاک ہونے والے اپنے بہت سارے پیاروں کو بھول گئے مگر آج ایک برس بعد مجھے احساس ہورہا ہے کہ ان یادوں کے گلاب تو آج بھی تازہ ہیں۔ ہم اگر بھُولے ہوتے تو آج آپریشن ضرب عضب اس طرح جاری نہ ہوتا، مجھے علم ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے آج بھی بہت سارے تحفظات ہیں مگرتمام کوتاہیوں کے باوجو د پلان پر عملدرآمدبھی جاری ہے۔ وہ لڑائی بھی جاری ہے جو تعلیم کے دشمنوں اور حامیوں میں ہے۔ آئی ایس پی آرنے اس موقعے پر جو نیا ترانہ جاری کیا ہے وہ انتہائی جاندار اور مثبت ہے۔ مجھے اس حملے میں شدید زخمی برمنگھم میں زیر علاج احمد کے والد محمد نواز کے الفاظ کی گونج سنائی دے رہی ہے، انہوں نے کہا’ خدا نخواستہ وہ پھر بھی آ کر ماریں تو ہم پھربھی اپنے بچوں کو سکول بھیجیں گے کیونکہ یہی تو ہماری اور ان کی اصل لڑائی ہے‘۔ احمد نواز نے کہا، ’ دہشت گردی کا خاتمہ صرف فوج کے بس کی بات نہیں بلکہ اسے تعلیم کے فروغ سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے‘ ۔ کہامیرے دانشور دوستوں نے، ہمیں دہشت گردی ختم کرنے کے لئے جہالت کے ساتھ ساتھ غربت کو بھی ختم کرنا ہوگا اور بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اسلحے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت اور عالمی طاقتوں کی طرف سے دنیا پر قبضے کی خواہش کو بڑی اور بنیادی وجہ قرار دیا۔ کیاواقعی اکیلی فوج دہشت گردی اور انتہا پسندی کا راستہ نہیں روک سکتی ، فوج کا ساتھ تعلیم اور معاشرے کو بھی دینا ہوگا، اگرصرف تعلیم ایسا کر پاتی تو میر ے شہر کی بہت بڑی جامعہ کے دو پروفیسر اور پانچ طالب علم کالعدم تنظیم سے تعلق پر گرفتار نہ ہوتے۔ اسی سے جڑا ہوا سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا دہشت گردی صرف دینی مدارس سے پھوٹتی ہے اور ہم نظام تعلیم کو تبدیل کر کے اس کا راستہ روک سکتے ہیں اور اسی کے ساتھ غربت کو بھی جوڑ لیجئے۔ اگر ایسا ہوتا تو امریکہ، برطانیہ اور فرانس میں رہنے والے دہشت گردوں کے سہولت کار نہ ہوتے۔ ہر دلیل کا جواب موجود ہے اور جواب الجواب میں بھی ایک چونکا دینے والی دلیل اپنے آپ کو منوانے کے لئے تڑپ رہی ہے مگر تمام اختلافات کے باوجود نتیجہ تو ہم سب ایک ساچاہتے ہیں ،وہ امن، ترقی اور خوشحالی ہے۔

میرے سامنے مصنفہ جویریہ صدیق کی تصنیف ’ سانحہ آرمی پبلک سکول، شہدا کی یادداشتیں‘ کھلی پڑی ہے۔ آ ج کے دن شہیدوں اور ان کے وارثوں سے بڑھ کر بھی کسی کی باتیں نہیں ہوسکتیں۔ شہید باقر علی خان تمغہ شہادت کے والد رشید علی خان نے اس کتاب کاپیش لفظ تحریر کیا ہے، وہ رقم کرتے ہیں،’ ’ ان معصوم بچوں اور ان کے اساتذہ نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ لیکن دہشت گرد یہ جان لیں کہ وہ ہماری ہمت نہیں توڑ سکتے۔ پاکستانیوں کو شکست دینا اتنا آسان نہیں۔ جب بھی شہداء کے لواحقین کا دل بھرآتا ہے تو یہ خیال دل کو تقویت دیتا ہے کہ ’ شہادت بڑی سعادت ہے‘ ورنہ یہ غم بہت بڑا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس غم کو برداشت کرنے کا حوصلہ دیا۔ ہمارے بچے اور ان کے اساتذہ اس وطن پر اپنی جان قربان کر گئے۔ میں دعا کرتا ہوں ا ن معصوم جانوں کے صدقے اللہ اس ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کردے۔ آنے والی نسلیں امن چین سے زندگی بسر کریں ہم شہداء کے لواحقین کو دلی تسکین پہنچے گی‘‘۔ جویریہ صدیق صاحبہ نے لواحقین سے ملاقاتیں کیں، ان کے خیالات سنے، ان کی تصویریں جمع کیں،وہ کہتی ہیں ’’یہ الفاظ نہیں آنسو ہیں، اس کتاب کا ہر لفظ سیاہی نہیں آنسووں سے لکھا گیا، لواحقین روتے تھے میں بھی روتی تھی۔ بس میں نے تمام شہداء کے اہل خانہ کے بہتے ہوئے آنسووں کوجمع کیا اور قلم اس میں ڈبو کے واقعے اور اس کے اثرات کو لکھنا شروع کیا۔۔۔ کیسے ہیں یہ لواحقین؟ کس مٹی کے بنے ہیں؟ میں نے ایسا صبرپہلے نہیں دیکھا۔ روتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں لیکن کہتے ہیں اس وطن کو چھوڑ کر کبھی نہیں جائیں گے۔ ادھر ہی رہیں گے اور دہشت گردی کامقابلہ کریں گے۔ اب بھی سانحہ اے ایس پی میں متاثرہ افراد کے غازی بچے وہیں پڑھ رہے ہیں۔ جب یہ سانحہ رونما ہوا تو سب کا خیال تھا کہ یہ سکول آباد نہیں ہو سکے گا لیکن بارہ جنوری کودنیا بھر نے دیکھا کس طرح جنرل راحیل شریف نے خود بچوں کا استقبال کیا اور بچوں کی بڑی تعداد نے تعلیمی سلسلے کو وہیں سے جوڑا جو دسمبر کو منقطع ہو گیا تھا۔ کیاکوئی ایسی قوم کو کوئی شکست دے سکتا ہے جس کے بچے بھی اتنے بہادر ہوں۔ اس سانحے کے بعد قومی ایکشن پلان ترتیب دیا گیا جس کے تحت فوج نے اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دیں۔ اس قت شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حکومتی رٹ قائم ہوگئی ہے۔ امن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے۔ ملک میں امن و امان صرف حکومت اور فوج کی ذمہ داری نہیں اس میں ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ سب سے پہلے اچھے اور برے دہشت گردوں کی تمیز کو ختم کرنا ہوگا۔ سب دہشت گرد ملعون ہیں اور جہنم کے نچلے درجے میں ان کی جگہ ہے۔ ہمیں ان کے سہولت کاروں کی معاونت سے ہاتھ روکنا ہوگا۔ چندہ دینے سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہیں آپ اپنے بچے پر چلنے والی گولی تو نہیں خرید کے دے رہے۔ ایسے تمام لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی جو دہشت گردوں کومجاہد گردانتے ہیں تب ہی جا کر فوج اور حکومت اس ملک سے دہشت گردی ختم کر سکتے ہیں۔ سانحہ اے ایس پی میں شہید ہونیو الے 147 لوگ ایک عدد نہیں ہیں۔ یہ 147 جیتے جاگتے لوگ بہت سے خواب اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔ اب ہمیں ان کے خوابوں کو لے کر چلنا ہو گا۔ شہداء کے لواحقین ہماری محبت اور ہمدردی کے علاوہ کسی چیز کے طلب گار نہیں ہیں۔ انہیں مل کر میں یہ سوچتی ہوں کہ یہ کس مٹی کے بنے ہیں۔ میں دعا گو ہوں ہر اس ماں کے لئے ، اس باپ کے لئے، جس نے اپنا لخت جگر اس سانحے میں کھویا ہے۔ ان یتیم بچوں کے لئے جن کے والدین اس واقعے میں شہید ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ شہداء کے درجات مزید بلند فرمائے۔ آمین‘‘

میں آج سولہ دسمبر کے بہت بڑے دکھ یعنی یوم سقوط ڈھاکہ پر بھی لکھنا چاہتا تھا، میں نے خود سے پوچھا کہ میں اس نقصان کو بھول گیا ہوں تو اندر سے بہت زور اور شور سے جواب ملا ، نہیں، مگر یوں ہوا کہ یہ ایک سال پہلے کا تازہ غم ایک بڑے دکھ پر حاوی ہو گیا۔خدا کی قسم، ہم بھولے تو مشرقی پاکستان کے سانحے کوبھی نہیں ہیں اور نہ ہی کبھی

مزید : کالم


loading...